سندھ ہائی کورٹ میں منیر عباسی نامی سندھ گور نمنٹ کے ملازم نے درخواست دائر کی تھی کہ سندھ ہائی کورٹ نے جون دو ہزار دس میں ایک فیصلہ میں کہا تھا کہ ڈپوٹیشن پر آئے ہوئے افسران کو واپس ان کے محکموں میں بھیجا جائے کیونکہ ان کو کسی دوسرے محکمے میں ضم نہیں کیا جاسکتا ، تاہم اس کے باوجود اب تک کئی سندھ حکومت کے مختلف محکموں میں ڈپوٹیشن پر افسران کام کررہے ہیں جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس درخواست پر سندھ ہائی کورت کے جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس شاہد انور باجوہ پر مشتمل بنچ نے اکیس ستمبر تک چیف سیکرٰٹری سندھہ اور سیکریٹری جنرل ایڈ منسٹریشن کو طلب کرتے ہوئے ڈپوٹیشن پر کام کرنے والے افسران کی فہرست طلب کرلی ۔ اسی بنچ نے شاہین ایئرپورٹ سروسز میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج روکنے کا حکم دیا ہے کہ شاہین ایئرپورٹ سروسز کی انتظامیہ نے درخواست دائر کی تھی کہ مذکورہ محکمہ رفاعی ادارہ ہے ، یہاں ریفرنڈم نہیں ہوسکتا لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے تاہم عدالت نے تاحکم ثانی ریفرنڈم کے نتائج روکنے کا حکم دیا ہے ، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی عدالت نے فورتھہ شیڈول میں دو شہریوں کے نام داخل کرنے پر محکمہ داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی ۔ سندھ ہائی کورٹ میں محمد سمیع اور نواب نامی شہری نے درخواست دائر کی تھی کہ ان کے نام گزشتہ چھہ برسوں سے شیڈول فور میں شامل ہیں جبکہ یہ شیدول تین سالوں کے لیے ہوتا ہے مذکورہ درخواست پر عدالت نے ہوم ڈپارٹمنٹ سے چوبیس ستمبر تک جواب طلب کیا ہے کہ وہ بتائیں کے کن الزامات کے تحت ان کے نام شیڈول فور میں ڈالے گئے ہیں جبکہ ہوم ڈپارٹمنٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ماجد محمود نامی شخص کا نام شیڈول فور سے نکال دیا گیا ہے ، سندھہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرمد جلال عثمانی نے خواجہ سراوں کی زکات کے حصول میں پریشانی اور طبی سہولیات نہ ملنے کی درخواست پرسیکریٹری زکات وعشر اور سیکریٹری ہیلتھہ سے تیس ستمبر تک جواب طلب کرلیا ہے.
Post New Comment