سیاستدانوں کو بدنام کرنے‘ حکومت کا مذاق اڑانے کی مہم چلائی جا رہی ہے‘ مارشل لا کا کوئی خطرہ نہیں : گیلانی

حوالہ : اسلام آباد (ایجنسیاں) ـ 28 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (ایجنسیاں) وزےر اعظم سےد ےوسف رضا گےلانی نے کہا ہے کہ بعض سےاستدان اور مےڈےا کے بعض افراد حکومت پر تنقےد کر کے سےلاب متاثرےن کے لئے بےرون ملک سے ملنے والی امداد رکوانا چاہتے ہےں جو ملک دشمنی کے مترادف ہے‘ دنےا صرف وعدے نہےں کر رہی بلکہ عملی اقدامات بھی کر رہی ہے ےہ وقت پوائنٹ سکورنگ کی بجائے عوام کی خدمت کرنے کا ہے بےرون ممالک سے ملنے والی رقوم کا اعلان چند روز مےں کر دےا جائے گا۔ پےپلز پارٹی کسی غےر جمہوری اقدام کی حماےت نہےں کرے گی اس وقت مارشل لا کا کوئی خطرہ نہےں۔ فوج نے وزارت دفاع سے اجازت لے کر فنڈ قائم کےا ہے‘ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سےلاب متاثرےن کی مدد کے لئے دنےا کا رسپانس شاندار ہے‘ آئی ڈی پےز اور دہشت گردی کے خلاف جنگ مےں دنےا نے ہماری مدد کی‘ اےک مہم جاری ہے جس کے ذرےعے سےاستدانوں کو بدنام اور حکومت کا مذاق اڑاےا جا رہا ہے‘ حکومت پر عدم اعتماد کی بات کرائی جارہی ہے جس کے ذمہ دار کچھ سےاستدان اور مےڈےا کے لوگ ہےں جنہےں ےہ خےال نہےں کہ وہ اس وقت ملک دشمنی کر رہے ہےں اس وقت تمام لوگوں کو مل کر قدرتی پر حکومت کا ساتھ دےنا چاہئے‘ سےلاب متاثرےن کی مدد کرنی چاہئے‘ عوام کی خدمت کرنی چاہئے۔ بعض سےاستدان پارٹی پالےسی سے ہٹ کر حکومت کے خلاف بےان دےتے ہےں وہ خود کچھ نہےں کر رہے اور دنےا کو بھی روک رہے ہےں کہ وہ پاکستانی عوام کی مدد نہ کرےں جو غرےب عوام کے لئے دوہری مشکلات کے مترادف ہے۔ اتنے بڑے سانحہ کے لئے قوم، صوبائی اور وفاقی حکومتےں تےار نہےں تھےں۔ ےہی وجہ ہے ہم متاثرےن کی اس پےمانے پر مدد نہےں کر سکتے تھے جن کے لئے ہم تےار نہےں تھے۔ اگر ہم نہےں کر سکے تو ےہ ہماری کوتاہی نہےں کےونکہ ےہ ہمارے تجربے مےں نہےں تھا کہ اس طرح کی آفات سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔ متعلقہ ادارے اپنے دائرہ کار مےں رہ کر متاثرےن کی مدد کر رہے ہےں۔ اےن ڈی اےم اے نےا ادارہ ہے اتنا بڑا سانحہ پہلے نہےں آےا اس لئے کچھ کوتاہےاں ضرور ہےں جن کو وقت کے ساتھ بہتر کر لےا جائے گا۔ عالمی برادری صرف امداد کے وعدے ہی نہےں کر رہی بلکہ عملاً کام ہو رہا ہے اور کچھ رقوم ٹرانسفر ہو بھی گئی ہےں۔ دنےا کو سےلاب سے ہونے والی تباہی کا احساس ہے اور ےہ احساس مےڈےا کے چند لوگوں اور سےاستدانوں سے کہےں زےادہ ہے۔ ملک کو امداد کی شدےد ضرورت ہے۔ نوازشرےف اور مےں نے سےلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے کمشن کی بات نےک نےتی کے ساتھ کی تھی لےکن اس مےں صوبوں اور وفاق کو مشکلات درپےش ہےں۔ یہ تکنیکی مسئلہ ہے نواز شریف کی تجویز کو نہ ماننے کا الزام غلط ہے‘ الطاف حسین کے مارشل لا کے بیان پر وزیراعظم نے کہا کہ وہ ہمارے اتحادی ضرور ہیں ہماری جماعت میں ضم نہیں ہوئے یہ ان کا اپنا موقف ہے ہماری جماعت نے آزاد عدلیہ، لوگوں کے حقوق، میڈیا کے حقوق اور جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو اور بےنظیر بھٹو جیسے بڑے لیڈروں کو کھویا ہے۔ ہم کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے‘ بےنظیر کے قتل کی تحقیقات میں پیشرفت ہو گی۔ وزیراعظم گیلانی نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار عتیق کے ساتھ آزاد کشمیر کے متاثرہ مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو آزاد کشمیر میں سیلاب سے آنے والی تباہ کاریوں اور نقصانات سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جس کے بعد وزیراعظم نے متاثرہ افراد کے لئے پانچ کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کیل کو ضلع اور نیلم کو سب ڈویژن بنانے کا اعلان کیا۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین سید آصف ہاشمی سے ملاقات میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیلاب سے متاثرہ صوبوں میں امدادی فنڈز کی منصفانہ تقسیم کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم نے خودمختار کارپوریشنوں پر بھی زور دیا کہ وہ مشکل کے اس وقت میں آگے آئیں اور متاثرین کی بحالی میں موثر اور فعال کردار ادا کریں۔ وزیر اعظم نے حکومتی اداروں کے درمیان بہتر رابطوں اور امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کےلئے حکومت پر بھی زور دیا ہے۔ بورڈ کے چیئرمین نے وزیر اعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کےلئے ایک کروڑ روپے کا چیک پیش کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو ان کے نقصانات اور ضروریات کے مطابق امدادی فنڈز کی منصفانہ تقسیم ہو گی۔ صاف شفاف نظام وضع کیا جائےگا۔ امدادی فنڈز کے خرچ کے ذمہ داران عوام کو جوابدہ ہوں گے۔ وزیراعظم نے سکھر میں واقع پاکستان ریلوے کے ہسپتال کو ہیضہ کے مریضوں کے علاج کے لئے مختص کرنے کی ہدایت جاری کر دی‘ وزیراعظم ہا¶س کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے یہ ہدایات پانی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کی بروقت روک تھام کے لئے جاری کی ہیں۔
گیلانی

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions