شیطانی قوتوں سے سنگین خطرات ہیں‘ دشمنوں کو نیست و نابود کردیں گے : گیلانی ۔۔۔ سرحدی علاقے شدت پسندوں کا گڑھ ہیں : برائون

حوالہ : نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک ـ 28 اپریل ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور برطانیہ نے دہشت گردی‘ انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے‘ انٹیلی جنس شیئرنگ کا نظام موثر بنانے اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے عالمی برادری سے پاکستان کی مزید امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو انسداد دہشتگردی و انتہا پسندی کی جنگ میں فوجی و انٹیلی جنس استطاعت بڑھانے کیلئے 10 ملین پونڈ فراہم کرنے‘ پاکستان کی سہ جہتی پالیسی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کیخلاف پاکستانی حکومت اور فوج کی بھر پور کارروائی کی مکمل حمایت کرتے ہیں ،دہشتگردی وانتہا پسندی کے مکمل خاتمے کیلئے پاک برطانیہ سٹریٹجک مذاکرات جلد شروع کیے جائیںگے ۔ پاکستان کے ایک روزہ مختصر دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر اعظم گورڈن برائون نے اِن خیالات کا اظہار وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان کلیدی دوستانہ تعلقات موجود ہیں برطانیہ میں مقیم 10لاکھ پاکستانی برطانیہ کی ترقی و خوشحالی اور پاک برطانیہ تعلقات کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کررہے ہیں ، علاقائی امن و سلامتی اور دیرپا ترقی کیلئے دونوں ممالک کو ملکر دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہداور پاکستان کی ترقی ،مذاکرات اورطاقت کے استعمال کی سہہ جہتی پالیسی کو اختیار کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشیطانی قوتوں کے باعث درپیش سنگین خطرات اور سلامتی کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دیں گے ۔ پاکستانی حکومت اور فوج ملکی سرحدوں کے دفاع اور انسداد دہشتگردی کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں کسی قیمت پر ملک کو دہشتگردوں کے ہاتھوں یر غمال نہیں بننے دینگے سوات معاہدہ آئین پاکستان ،عوامی اُمنگوں اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کے تحت عمل میں آیا ،معاہدے پر عدم عملدرآمد کی صورت میں دیگر آپشنزپر غور کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں ،برطانیہ میں بے گناہ پاکستانیوں کی گرفتاری پر شدید دکھ ہے کیونکہ میرے اپنے دو بچے بھی برطانوی درسگاہوں میں زیر تعلیم ہیں انہوں نے برطانوی وزیر اعظم سے کہا کہ وہ برطانوی تحویل میں موجود پاکستانی طلباء کو ملک بد ر نہ کریں انہیں تعلیم جاری رکھنے دی جائے۔ افغانستان اور بھارت کیساتھ تعلقات پر انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت کیساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات اور جامع مذکراتی عمل کی بحالی چاہتے ہیں ،افغانستان پاکستان کا اہم ترین ہمسایہ ملک ہے جہاں استحکام پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کیلئے کلیدی اہمیت رکھتا ہے ،مستحکم افغانستان پاکستان کے عظیم تر مفادات کا حصہ ہے جس کی مثال اسلام آباد میں منی جرگے کا انعقاد جلد ہی افغانستان کی تعمیر و ترقی کیلئے منعقدہ کانفرنس ہے۔ 3.5ملین افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے خواہاں ہیں برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ ہمیشہ قریبی حلیف رہے ہیں ہر سال 1.5ملین پاکستانی برطانیہ آتے ہیں ، ہم دوست ہیں اور رہینگے آج پھردوستی کا نیا باب شروع ہو ا ہے، دہشتگردی و انتہا پسندی کے باعث دونوں ممالک کی سالمیت و عوام کو شدید خطرات لاحق اور معمولات زندگی مفلوج ہو چکے ہیں ،دہشتگردی وانتہا پسندی کا مسئلہ صرف پاکستان اور برطانیہ کا نہیں یہ عالمی مسئلہ ہے اِسے پوری دنیا سنجیدگی سے لے اور پاکستان کی مدد کرے ،پاکستان کو قبائلی وسرحدی علاقوں اور سوات میں دہشتگردوں کا مکمل صفایا کرنا ہوگا ، دہشتگردی و انتہا پسندی کے باعث تباہ کن نتائج برآمد ہو ئے ، دہشتگردوں کی پیش قدمی کسی قیمت پر قبول نہیں، پاکستانی فوج اور حکومت کی جانب سے طالبان کیخلاف حالیہ کارروائی قابل تحسین ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ انسداد دہشتگردی کی جنگ میں بھر پور تعاون جاری رہیگا، پاکستانی طلباء کی گرفتاریاں دہشتگردی کے خطرے باعث کی گئیں ،ڈیپورٹ کرنے یا نہ کرنے کامعاملہ متعلقہ اداروں کے سپرد ہے وہ فیصلہ کرینگے ،کسی بھی انفرادی درخواست پر غور ممکن نہیں حکومتوں کے درمیان باہمی مشاورت سے معاملات کو حل کرلیا جائیگا ،ہم پاکستانی طلباء کو برطانیہ میں تعلیم کے حصول کیلئے خوش آمدید کہتے ہیں لیکن برطانیہ کی سالمیت کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث افراد سے رعایت نہیں برتیں گے۔ اس سے قبل گورڈن برائون نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ایک گھنٹہ تک ملاقات کی ملاقات میں علاقائی صورتحال دوطرفہ تعلقات‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دوسرے امور پر بات چیت ہوئی۔ ملاقات میں وزیر داخلہ رحمن ملک‘ وزیر نجکاری نوید قمر اور دیگر حکام موجود تھے۔ وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی طلبہ کو ڈیپورٹ نہ کیا جائے۔ صدر زرداری اور برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون میں بھی ملاقات ہوئی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود‘ وزیر داخلہ رحمن ملک اور برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے بھی موجود تھے۔ اس سے قبل کابل میں صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں گورڈن برائون نے الزام لگایا کہ پاکستان افغانستان کے سرحدی علاقے دہشت گردوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے وہ یہاں افغان حکومت اور عوام کی مدد کرنے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ابھی بہت سی کامیابیاں حاصل کرنا باقی ہیں۔ لندن کا امن و امان پاک افغان سرحد کے امن سے منسلک ہے۔ افغانستان کو اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری خود اٹھانا ہونگی جنگ مشکل ضرور ہے تاہم ایسا نہیں کہ جیتی نہ جا سکے۔دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو کل یہ ہماری گلیوں تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions