لاہور (سلمان غنی) پاکستان نے بھارت کیساتھ مذاکراتی عمل میں بھارتی طرزعمل سے امریکی حکام یورپی یونین کے ذمہ داران کو آگاہ کرتے ہوئے باور کرا دیا ہے کہ مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے مذاکراتی ایجنڈا واضح کرنا ہوگا اور مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے میں کشمیر اور پانی کے مسئلہ کو ایجنڈا کا حصہ بنانا پڑیگا۔ وزارت خارجہ کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق عالمی طاقتوں کو باور کرا دیا گیا ہے کہ بھارت دہشت گردی کو ایجنڈا کا حصہ بنانا چاہتا ہے تو پھر مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی بات ہوگی جہاں خود بھارت اور بھارتی افواج قتل و غارت اور ظلم و جبر کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان مذاکرات سے انکاری نہیں ہوگا البتہ مذاکراتی عمل کو کسی ایجنڈا سے مشروط کرنے کیلئے اپنا دباﺅ برقرار رکھے گا اور اس کیلئے عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کیلئے رابطے کئے جائینگے۔ ذرائع کے مطابق وزرائے خارجہ کے درمیان ہونیوالے حالیہ مذاکرات کے بعد پاکستان سے یہ طے کیا ہے کہ دوستی کے خالی خولی نعرے اور اعتماد بنانے والے نام نہاد حربے علاقائی حقائق کو نہ تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس سے پیدا ہونیوالے خطرات کے مقابلے کی کوئی سبیل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس سے ہم اپنی خارجہ پالسیی خصوصاً کشمیر پر اپنے طرزعمل کو ٹھوس حقائق، بھارت کے عزائم کے حقیقی ادراک اور خود اپنے مقاصد، مفادات اور اہداف کی روشن میں طے کریں گے۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق اب تک ہندوستان سے کئے جانیوالے مذاکراتی عمل میں بھارت کی روائتی بدنیتی ڈھکی چھپی نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوسکے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو ہی مذاکراتی عمل میں کور ایشو سمجھتی ہے اور ہمارا شروع سے یہی موقف ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض سرحدی یا زمین کا مسئلہ نہیں، سوا کروڑ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ جس اصول کے تحت تقسیم ہند ممکن ہوئی تھی اور اب بھی ہم یہی سمجھتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام کی آزاد مرضی سے ان کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کا حل ہی بھارت سے دوستی کے حقوق کے باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کا باعث بنے گا۔ ہماری یہی خواہش ہے کہ تقسیم کے اصل مقصد کے تحت دونوں ملکوں کے عزت و احترام سے اپنے تعلقات قائم ہوں لیکن اگر بھارت کے روئیے پر علاقہ میں بالادستی کا بھوت سوار رہتا ہے اور چھوٹے ممالک کو وہ اپنی باجگزار بناکر رکھنا چاہتا ہے اور خصوصاً پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہتا ہے جیسا کہ وہ اب کررہا ہے، تو پھر وہ اس حوالہ سے خبردار رہے کہ پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت کی حیثیت سے نہ تو اپنی آزادی و خودمختاری پر حرف آنے دیگا اور نہ ہی بھارت کے مکروہ عزائم سے دبے گا اور بھارت کو اس حوالہ سے حقائق کا بخوبی ادراک ہے۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مذاکراتی عمل کے قریب پاکستانی ایجنڈا کو جامع مذاکرات کا ایجنڈا بنانے کیلئے عالمی سطح پر اپنا بھرپور کردار ادا کریگا جس کیلئے پاکستانی سفارتخانوں کو بھی متحرک کیا جا رہا ہے جبکہ بھارت کی روائتی بدنیتی اور کردار سے دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے بھی ایک طے شدہ پالیسی پر عملدرآمد ہوگا۔
Post New Comment