نئی دہلی (نیٹ نیوز + اے ایف پی + بی بی سی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہو سکی‘ دونوں ممالک اپنے اپنے م¶قف پر قائم رہے‘ اس طرح بے معنی مذاکرات بے معنی طور پر ختم ہوئے۔ بھارت نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات شروع کرنے کا ابھی وقت نہیں آیا۔ دونوں ممالک نے تاہم اعتماد کی بحالی کے لئے رابطے بحال رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ نئی دہلی کے حیدرآباد ہا¶س میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں میں مذاکرات ختم ہو گئے۔ مذاکرات سے قبل دونوں سیکرٹریز نے ون آن ون ملاقات کی جو قریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔ بعدازاں وفود کی سطح پر ایک گھنٹے سے زائد تک مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کے اختتام پر پاکستانی وفد کو ظہرانہ دیا گیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے علیحدہ علیحدہ بریفنگ دی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپمارا¶ نے کہا کہ بھارت نے کبھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے۔ اعتماد کی بحالی کے لئے کوشش جاری رکھیں گے۔ ممبئی حملوں سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے‘ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم میں ملاقات کے حوالے سے کہنا قبل از وقت ہے۔ پاکستانی سیکرٹری خارجہ سے بات چیت مفید رہی۔ بلوچستان پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے پاکستان نے بلوچستان سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دئیے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں افغانستان پر بات چیت نہیں کی گئی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کر رہے۔ ممبئی حملوں کے مزید ملزموں کے نام پاکستان کو دئیے ہیں۔ دہشت گردی مذاکرات میں رکاوٹ ہے‘ مسئلہ کشمیر پر تفصیلی بات ہوئی۔ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی سنجیدگی سے واقف ہے‘ پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ سلمان بشیر سے بامقصد مذاکرات ہوئے‘ پانی سمیت دیگر امور پر بات چیت کی گئی‘ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ممبئی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جائے‘ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی ناکافی ہے‘ ممبئی حملوں کے بعد پڑوسی ملک سے تعلقات خراب ہوئے۔ سارک کانفرنس میں پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستانی اقدامات سے متعلق انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستانی اقدامات کو سراہتا ہے‘ تاہم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہمیں مذاکرات کا سلسلہ ختم نہیں کرنا چاہئے۔ ممبئی حملوں سے متعلق کئے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔ پاکستان نے بلوچستان کا معاملہ اٹھایا جسے ہم نے بے بنیاد قرار دیا۔ پانی کا مسئلہ بھی زیر غور آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو مزید ڈوزیئر دئیے ہیں‘ مذاکرات میں حافظ سعید کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر اور بلوچستان میں بھارتی دراندازی سمیت پانی کے مسئلے کو ترجیح دی گئی جبکہ بھارت کی جانب سے دہشت گردی کا مسئلہ مذاکرات کا مرکز تھا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات سے متعلق وائس ٹیپ سمیت دیگر ثبوت بھی پیش کئے گئے تاہم اس کی پاکستانی وفد نے تصدیق نہیں کی۔ ملاقات سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ قومی مفادات پر کسی قسم کے سمجھوتے کی گنجائش نہیں‘ تمام مسائل کشمیر سے جڑے ہیں۔ پاکستان مثبت رویہ کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے اور بھارت کے لچکدار رویے کی امید کرتے ہیں۔ تاہم مذاکرات کے نتائج کے بارے میں پہلے سے رائے اخذ کرنا نامناسب ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے پہلے باضابطہ مذاکرات میں پانی‘ کشمیر سمیت دیگر مسائل زیر بحث لائے جائیں گے۔ اگر مسئلہ کشمیر ساٹھ سال پہلے حل ہو جاتا تو ان دونوں ملکوں کے حالات بہتر ہوتے۔ انہوں نے مذاکرات کے خاطر خواہ نتائج نکلنے کی امید ظاہر کی او کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے تمام مسائل پیدا ہو رہے ہیں اسے نظرانداز کرنا مذاکرات کو غیر سنجیدہ بنانا ہو گا۔ ہمیں بہتر نتائج کی توقع ہے اور امیں ہے کہ پاکستان بھارت تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں گے۔ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل ہو جاتا تو آج ہمارے درمیان تنازعات نہ ہوتے۔ سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ نے کہا ہے کہ موجودہ بات چیت سے آئندہ مذاکرات جاری رکھنے کی توقع رکھنی چاہئے۔ اگر بھارت نے سیاچن اور سرکریک پر بھی بات کی تو ماحول بہتر ہو گا۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی حکومت نے پاکستانی سیکرٹری خارجہ سے حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جبکہ مذاکرات میں پاکستان نے ون آن ون ملاقات میں بلوچستان کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق مذاکرات کے دوران کشمیر کے مسئلے پر بات چیت نہیں ہوئی۔ بھارت نے ان مذاکرات میں صرف اور صرف ممبئی حملوں کے حوالے سے بات چیت کی۔ پاکستانی وفد پانی‘ کشمیر اور دوسرے معاملات پر بات نہ کر سکا۔ بھارت کیلئے یہ مذاکرات کامیاب اور پاکستان کیلئے ناکام رہے۔ پاکستان نے مذاکرات میں جامع مذاکرات کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ کیا لیکن اس حوالے سے بھارتی وفد نے کوئی جواب نہ دیا۔ مذاکرات سے قبل کشمیری رہنماﺅں نے بھی پاکستانی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات کی اور ان سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ بی بی سی کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا عمل ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا ہے لیکن ماضی کی طرح اس دفعہ بھی دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پیچیدہ مسائل کا کوئی آسان یا جادوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ ان مذاکرات سے حل سے زیادہ فریقین نے اب تک وقت حاصل کرنے کیلئے ہی استعمال کیا ہے۔ پاکستان کا وفد خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر کی قیادت میں آج واپس اسلام آباد پہنچے گا۔ معتبر ذرائع نے بتایا کہ خارجہ سیکرٹری وطن واپسی پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر زرداری کو بات چیت کے حوالے سے بریف کریں گے۔
نئی دہلی (ایجنسیاں+ مانیٹرنگ ڈیسک) سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا ہے کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ بھارت مذاکرات کے نام پر کوئی لیکچر یا کوئی ڈکٹیشن دے۔ بھارت میں ایک ممبئی حملہ ہوا جبکہ پاکستان میں ایسے 100 سے زیادہ واقعات ہو چکے ہیں۔ ممبئی حملوں کو بنیاد بنا کر جامع مذاکرات کو روکنا دانشمندی نہیں بڑی غلطی ہے۔ بھارت کو کشمیر کے مسئلے پر اپنا موقف بیان کیا، پانی، سیاچن اور سرکریک کے مسائل پر توجہ مبذول کرائی، بلوچستان پر بھارتی مداخلت کے بارے میں پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ پاکستان کے مفادات کے خلاف بھارتی سرگرمیوں کے ثبوت موجود ہیں‘ بھارت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے افغانستان کو استعمال کر رہا ہے۔ پریس بریفنگ میں سلمان بشیر نے کہا کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی تجویز دی ہے۔ پاکستان بھارت سے بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ خطے میں امن کیلئے دوطرفہ تصفیہ طلب مسائل کا حل ضروری ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن کا قیام دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ کشمیر کور ایشو ہے امید ہے کہ جامع مذاکرات جلد شروع ہونگے۔ سیاچن اور سرکریک جیسے مسائل کے حل کیلئے سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ خطے میں ترقی اور خوشحالی کیلئے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ممبئی حملوں کی تحقیقات کیلئے پاکستان نے ہرممکن تعاون کیا ہے۔ بھارت چاہے تو پاکستان اس کے ساتھ بھی تعاون کیلئے تیار ہے۔ پاکستانی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے اور نہ ہی کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے دیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان عالمی برادری کی مدد کر رہا ہے جبکہ پاکستان کو بھی عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں جاری موجودہ صورتحال پر تشویش ہے۔ مذاکرات کو دہشت گردی سے منسلک کرنا ناانصافی ہے۔ پاکستان مذاکرات کو ہر صورت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے دونوں ملکوں کو انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا ہو گی۔ مذاکرات کی کامیابی اور ناکامی پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ پاکستان کو جن مسائل پر تشویش ہے ان پر بات چیت ضروری ہے۔ ہمیں آگے بڑھنے کیلئے الزام تراشی کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔ پاکستانی لیڈرشپ اور عوام بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت میں ممبئی حملوں کا ایک واقعہ ہوا جبکہ پاکستان میں سو سے زائد ہوئے۔ دنیا کو دونوں ممالک کے درمیان طاقت کا توازن برقرار رکھنے سے آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستان بے معنی اور مصنوعی مذاکرات نہیں چاہتا۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ بھارت مذاکرات کے نام پر لیکچر دے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت پر تشویش سے بھی بھارت کو آگاہ کر دیا ہے۔
سلمان بشیر
Post New Comment