خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچرکی بحالی کا آغازکردیا گیا ہے جبکہ لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں۔ صوبائی حکومت نےضلع نوشہرہ میں سیلاب سے متاثر ہونے والے مکانات کا سروے مکمل کرلیاہے۔ جزوی تباہ شدہ مکانات کو سروے میں شامل نہ کرنے پرلوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ پر من پسند افراد کو نوازنے کا الزام لگایا ہے۔ ادھر ضلع نوشہرہ، چارسدہ،ڈیرہ اسماعیل خان،مردان اورسوات کے بیشترعلاقوں میں ابھی تک سیلابی پانی کھڑا ہے۔ تمام رابطہ سڑکوں اورپلوں کے بہہ جانے کی وجہ سے اکثر علاقے تاحال حکومتی امداد سے محروم ہیں۔ ان اضلاع میں لاکھوں مکانات منہدم ہونے اورحکومتی امداد نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کو سرچھپانے کے لئے چھت بھی میسرنہیں اوروہ خیموں میں ہی زندگی گزارنے پرمجبورہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں اور ریلیف کیمپوں میں اشیائے خوردونوش کی بھی شدید قلت ہے۔ سیلابی پانی میں تعفن اورصاف پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد وبائی امراض کا شکارہیں۔ محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آٹھ سونہریں اورنالے سیلاب کی نذرہونے سے دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انتظامیہ نے وارسک ریور کینال کی بحالی کا کام شروع کردیا ہے۔
Post New Comment