صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں تباہ شدہ مکانات کا سروے مکمل، حکومت نے سیلاب کے دوران جاں بحق اورزخمی ہونے والوں کا ریکارڈ ایک ہفتے میں طلب کرلیا۔

ـ 26 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں تباہ شدہ مکانات کا سروے مکمل، حکومت نے سیلاب کے دوران جاں بحق اورزخمی ہونے والوں کا ریکارڈ ایک ہفتے میں طلب کرلیا۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچرکی بحالی کا آغازکردیا گیا ہے جبکہ لوگ بھی اپنی مدد آپ کے تحت ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں۔ صوبائی حکومت نےضلع نوشہرہ میں سیلاب سے متاثر ہونے والے مکانات کا سروے مکمل کرلیاہے۔ جزوی تباہ شدہ مکانات کو سروے میں شامل نہ کرنے پرلوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ پر من پسند افراد کو نوازنے کا الزام لگایا ہے۔ ادھر ضلع نوشہرہ، چارسدہ،ڈیرہ اسماعیل خان،مردان اورسوات کے بیشترعلاقوں میں ابھی تک سیلابی پانی کھڑا ہے۔ تمام رابطہ سڑکوں اورپلوں کے بہہ جانے کی وجہ سے اکثر علاقے تاحال حکومتی امداد سے محروم ہیں۔ ان اضلاع میں لاکھوں مکانات منہدم ہونے اورحکومتی امداد نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کو سرچھپانے کے لئے چھت بھی میسرنہیں اوروہ خیموں میں ہی زندگی گزارنے پرمجبورہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں اور ریلیف کیمپوں میں اشیائے خوردونوش کی بھی شدید قلت ہے۔ سیلابی پانی میں تعفن اورصاف پانی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد وبائی امراض کا شکارہیں۔ محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آٹھ سونہریں اورنالے سیلاب کی نذرہونے سے دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انتظامیہ نے وارسک ریور کینال کی بحالی کا کام شروع کردیا ہے۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions