دریائے سندھ کے سیلابی ریلے گزرنے کے بعد بلوچستان کے سرحدی اضلاع جعفرآباد اورنصیرآباد مکمل طورپرتباہی کا منظر پیش کررہے ہیں، سیلابی ریلوں سے ان دونوں اضلاع میں انفراسٹرکچر بری طرح متاثرہوا ہے اوررابطہ سڑکیں تباہ ہونے سے لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جعفرآباد کی تحصیل گنداخہ میں نیا سیلابی ریلا آنے سے بیس دیہات زیرآب آگئے اور سینکڑوں مکانات منہدم ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے مناسب اقدامات نہ کرنے کے باعث ضلع جعفر آباد کے اکثر علاقوں میں اب بھی کئی، کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ ڈیرہ اللہ یارکے عوام نے شہر سے سیلابی پانی کے اخراج کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت جمالی بائی پاس کو توڑدیا جبکہ اوستہ محمد میں لوگ کیرتھر اور سیف اللہ کینال کے خستہ پُشتوں کومضبوط کرنےمیں مصروف ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنے سے لوگوں کو دہری مصیبت کا سامنا ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں کو وبائی امراض سے بچانے کا تاحال کوئی بندوبست نہیں کیا۔
Post New Comment