4 ملکی گیس منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر جلد شروع کیا جائے : صدر زرداری ‘ وزیراعظم گیلانی

ـ 26 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان، بھارت، افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر جلد آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ثنا نیوز کے مطابق ترکمانستان کے نائب وزیر اعظم راشد میرادیوف سے بات چیت میں صدر مملکت نے کہا منصوبے کے بارے میں سٹیئرنگ کمیٹی اس سلسلے میں فوری کارروائی کرے ۔صدر زرداری نے کہا خطے کے ممالک باہمی روابطہ کو مضبوط بنا کر صنعتی پیداوار اور تجارت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ترکمانستان کے نائب وزیر اعظم نے پاکستان میں سیلاب سے ہو نے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ملک کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ ترکمانستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے وزیراعظم گیلانی سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان، ترکمانستان ، افغانستان اور بھارت گیس پائپ لائن منصوبے کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس منصوبے کی جلد تکمیل چاہتا ہے تا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں ۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی ہے کہ اس منصوبے کی راہ میں حال سکیورٹی اور تکنیکی امور کو ٹیکنیکل ورکنگ گروپ اور اسٹرینگ کمیٹی کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ پاکستان اور ترکمانستان تجارت ، صنعت و زراعت ، سائنس و ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات کرینگے دونوں ممالک کے وزراءمملکت برائے خارجہ امور نوابزادہ ملک عماد خان اور رشید میریدوف کے درمیان پاکستان ترکمانستان مشترکہ حکومتی کمیشن کے دوسرے اجلاس میں پاکستان افغان ترکمانستان بھارت گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر کام جلد سے جلد شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا اس سلسلے میں ترکمانستان نے سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس پندرہ سے سترہ ستمبر کو اشک اباد میں طلب کیا ہے جس میں چاروں ممالک کے مابین گیس پائپ لائن کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کی توثیق کی جائے گی، مشترکہ کمیشن کے اجلاس میں دو طرفہ تعاون دونوں ممالک میں ہونے والی صنعتی و تجارتی نمائشوں اور ایکسپوز میں شرکت کے حوالے سے معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا گیا پاکستان نے دو طرفہ تعاون کے تحت ترکمانستان سے گیس کی درآمد میں دلچسپی کا اظہار کیا ترکمانستان نے ایک ہزار میگا واٹ بجلی پاکستان کو دینے کی پیشکش کی جس کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے مشترکہ حکومتی کمیشن کے اجلاس میں پاکستان سے ترکمانستان کو ادویات اور سرجیکل کے سامان کی برآمد کے امکانات پر بھی غور کیا گیا دونوں ممالک کے مابین سائنس و ٹیکنالوجی ، ثقافت کے تبادلے اوردونوں ممالک کی سرکاری نیوز ایجنسیوں کے درمیان تعاون کے حوالے سے بھی پیش رفت ہوئی۔ دریں اثناءترکمانستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ رشید میریدوف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ پاکستان کی توانائی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ترکمانستان ، افغانستان، پاکستان، بھارت، ( ٹی اے پی آئی ) گیس پائپ لائن منصوبہ پر فوری عملدرآمد شروع ہوجانا چاہیے ، افغانستان سے گزرنے والی پائپ لائن کے تحفظ منصوبہ کے لئے سرمایہ اور دیگر تکنیکی امور ٹیکنیکل و سٹینڈنگ کمپنیوں کے اجلاس میں جلد طے کرلئے جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے دوستانہ ثقافتی و تجارتی تعلقات قائم ہیں تاہم تیل گیس ، توانائی ، زراعت ، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبہ میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ رشید میریدوف نے حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکمانستان اس حوالے سے متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ سٹیئرنگ کمیٹی کا گیارہواں اجلاس ستمبر کے وسط میں ہوگا جس میں دسمبر میں ہونے والے سمٹ کے لیے تیاری میں مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت گیس پائپ لائن منصوبہ پر پیش رفت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے انہوں نے ترکمانستان کے جوانوں کو فوجی و سویلین تربیت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ صدر زرداری نے چار ملکی گیس پائپ لائن منصوبے ٹائپی کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس فوری طور پر بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا منصوبے سے متعلق تمام معاملات کو حل کیا جائے۔ صدر نے کہا اس گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل ہونے سے چاروں ملک آپس میں مل جائیں گے جس سے نہ صرف علاقائی ترقی کا عمل تیز ہو گا بلکہ چاروں ملکوں کے آپس میں تعلقات بھی بہتر ہوں گے ،انہوں نے کہا کہ ہم اپنے صنعتی ڈھانچے کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے توانائی کے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا سکتے ہیں اور اس سے ایک دوسرے کو فائدہ بھی ہو گا بلکہ اس سے روز گار ،معاشی ترقی کے مواقع بھی میسر آئیں گے، صدر نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ انرجی و ٹریڈ کوری ڈور بنانا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ترکمانستان گیس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہونے کے ناطے توانائی کے شعبے میں تعاون میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ، صدر نے ترکمانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کو ویزا میں نرمی کرنی چاہیے کیونکہ ویزہ میں سختی کی بناءپر قابل عمل ریل اور فضائی رابطوں میں مشکلات ہیں ، ترکمانستان کے وزیر خارجہ نے سیلاب کی تباہ کاریوں پر صدر سے اظہار افسوس کیا اور کہا کہ ترکمانستان چاہتا ہے کہ علاقائی اہمیت کے تمام منصوبے مکمل ہوں جس سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون بڑھے گا اور ہم پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے تیار ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions