واشنگٹن (آن لائن) امریکہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ملک میں موجود انتہا پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کراﺅلی نے یہاں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر رنگین دادفر کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات بارے نہیں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی سرحدوں پر موجود انتہا پسندوں کے بارے میں سخت تشویش ہے اور ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے اور اپنی سرحد کے اندر سے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ہم پاکستان کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے یہ مفاد میں ہے کہ وہ القاعدہ کی جانب سے لاحق خطرات جن سے نہ صرف افغانستان بلکہ براہ راست امریکہ بھی متاثر ہوا سے نمٹنے کیلئے کابل کی معاونت کرے۔ کراﺅلی کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی معاونت کرنا بھی امریکہ کے ہی مفاد میں ہے تاکہ انتہا پسندی کے اس خطرے کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ ایشیائی خطے کے ممالک کو مزید موثر انداز میں مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خطرے کو کم کیاجاسکے انہوں نے کہا کہ جس طرح افغانستان کو پاکستان کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہیں‘ اس طرح اسلام آباد کو نئی دہلی کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہئے ہیں اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ جہاں تک دہشتگردی اور انتہا پسندی کا تعلق ہے تو اس میں ان کی اہمیت اور ناگزیر ہوجاتی ہے کیونکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ یہ ممالک مل کر دہشتگردی کیخلاف موثر کردار ادا کرسکیں گے خطے کے ممالک کو ہٹ دھرمی ترک کرکے تعلقات مستحکم کرنے اور رویوں میں تبدیلی لانا ناگزیر ہے۔ اے این این کے مطابق کراولی نے کہا ہے کہ ہیٹی کے زلزلے اور پاکستان میں آنے والے سیلاب کا موازنہ کرنا مشکل ہے۔ پاکستان ہمارے لئے ایک سٹرٹیجک ملک ہے جو اثرو رسوخ رکھتا ہے۔ پاکستانی عوام کی مدد کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری حکمت عملی درست ہے۔
Post New Comment