لاہور (خبر نگار) تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا ہے کہ آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں‘ ہندو ہمیں بری نظر سے دیکھ رہا ہے‘ ہمیں جنگ کیلئے تیار رہنا چاہئے۔پانی کے میدان میں بھارت سے جنگ ضرور ہو کر رہے گی کیونکہ وہ کشمیر کے دریائوں پر ڈیم بنا رہا ہے اور جب تک ہم اس پر میزائل مار کر اسے ختم نہیں کریں گے تب تک مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس لئے میں کہتاہوں کہ جنگ کے لئے ضرور تیار رہیں۔ جنگ اچھی چیز نہیں لیکن پیاسے مرنے سے بہتر ہے کہ ہم بھارت سے جنگ کرتے ہوئے مرجائیں اور اس کے عزائم کو ناکام بنا دیں۔ وہ ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں تحریک پاکستان کے رہنما، ممتاز صحافی‘ شاعر اور آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن مولانا ظفر علی خان مرحوم کی 53ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ نشست سے صوبائی محتسب پنجاب خالد محمود، خبریں گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایگزیکٹو ضیاء شاہد‘ روزنامہ جناح کے چیف ایڈیٹر خوشنودعلی خان‘ پنجاب یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ‘ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ معروف کالم نویس رفیق ڈوگر‘ مولانا ظفر علی خان کے پوتے راجہ مسعود علی خان اور راجہ اسد علی خان نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز حسب روایت تلاوت قرآن مجید‘ قومی ترانے اور نعت نبویؐ سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت ڈاکٹر قاری سراج احمد عطاری نے حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی اور سرور حسین نقشبندی نے مولانا ظفر علی خان کا نعتیہ کلام پیش کیا۔ میزبانی کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیئے۔ نشست میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کے علاوہ طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مجید نظامی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بیک وقت صحافی، شاعر، سیاستدان اور خطیب ہونے کے علاوہ بہت بڑے عاشق رسول کریمؐ بھی تھے۔ انہوں نے تحریک پاکستان کے دوران قائداعظمؒ کا بھر پور ساتھ دیا۔ انہوں نے مسجد شہید گنج کے حوالے سے ایک تحریک شروع کی اور کہا کہ اگر مسجد لینا ہے تو پھر نیلی پوش ہو جائو لیکن مسلمانوں کی رواداری کی وجہ سے وہ مسلمانوں کی آزادی کے بعد بھی ابھی تک بند ہے‘ وہ مسجد ہے نہ گور دوارہ۔ آج اس ہال میں سب طلبہ نیلی وردی میں ملبوس ہیں لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اٹھیں اور جا کر مسجد پر قبضہ کر کے وہاں نماز ادا کریں۔ انہوں نے کہا مولانا ظفر علی خان ہمہ جہت شخصیت تھے‘ یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ وہ صحافی بڑے تھے یا شاعر۔ زمیندار اخبار کے صفحہ اول پران کی نظم شائع ہوا کرتی تھی اور لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ خریدا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان میں مولاناظفر علی خان نے قائداعظمؒ کا بھر پور ساتھ دیا۔ مجید نظامی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کو چاہئے کہ وہ زمیندار اخبارکا دفتر حاصل کریں اور اسے ایسا مقام بنا دیں کہ قوم انہیں آئندہ بھی یاد رکھے۔ ہم برسوں سے یوم ظفر علی خان منا رہے ہیں اور انہیں یاد کر رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی بدولت ہم آزاد ہیں۔ مجید نظامی نے کہا اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ آزاد ہیں۔ آزادی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں بالخصوص ہندوئوں کی غلامی جو آج بھی بری نظر سے ہماری طرف دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل ہم نے ایک ایسے طیارے کو فوج کے حوالے کیا ہے جو بھارت کے طیاروں سے زیادہ اونچا اڑ سکتا ہے۔ اس کا اعتراف بھارت کے ایئر چیف نے بھی کیا ہے کہ پاکستان فضائی میدان میں ہم پر سبقت لے گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان بہت بڑے عاشق رسولؐ تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ میں اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ حضور اکرمؐ کی عزت پر کٹ نہ مروں۔ صوبائی محتسب پنجاب اور مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے چیئرمین خالد محمود نے کہا کہ ہمارے بچے ایک روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ ان کی صلاحیتیں اورخوبیاں دیکھ کر یہ یقین ہوتا ہے کہ ہمارا مستقبل کبھی تاریک نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنے مشاہیر کی قدر نہیں کرتیں اور ان کے نقش قدم پر نہیں چلتیں تو ان میں ہیرو پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں اور ان میں لوٹ مار کرنے والے پیداہونے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کی یاد میں پروگرام کرنا ان کی نہیں بلکہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم اس کے ذریعے ان کی زندگی سے سبق سیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیرو وہی ہوتے ہیں جو کردار سازی کرتے ہیں اور ملت کی تعمیر کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ مولاناظفر علی خان ٹرسٹ نے مولانا ظفر علی خان کے مزار کی تعمیر کی ہے اور اس کے علاوہ مولاناکا سارا کلام ٹرسٹ کے زیر اہتمام شائع کر دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کا نعتیہ کلام عشق رسولؐ کا بہت بڑا محرک ہے۔ روزنامہ زمیندار مسلم لیگ اور مسلمانان برصغیر کا بہت بڑا نقیب تھا۔ اب ہم اس کے تمام پرچوں کو دوبارہ یکجا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشاہیر کی یاد منانے کا بنیادی مقصد ان کی زندگیوں سے روشنی حاصل کرتے ہوئے زندگی کے سفر میں آگے سے آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ہے اور یہ تاقیامت قائم و دائم رہے گا۔ اس لئے ہمیں اس کی تعمیر و ترقی کیلئے شب و روز محنت اور جدوجہد کرنا چاہئے۔ خبریں گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایگزیکٹو ضیاء شاہد نے کہا کہ آج مولانا ظفر علی خان سے محبت و عقیدت رکھنے والے لوگ اس شاندار پروگرام میں شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کا نام ہمیشہ سربلند رہے گا۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ایسے لوگوں کو یاد رکھتا ہے جن کا تحریک پاکستان میں کوئی کردار ہو۔ انہوں نے کہا کہ مجید نظامی کی شخصیت ہر پیشہ وارانہ مسابقت سے بہت بلند تر ہے۔ انہوں نے مولانا ظفر علی خان کا نام جس طرح زندہ رکھا ہوا ہے میں اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد اور کراچی کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ پاکستان کے نام میں سے لفظ اسلامی نکال دیا جائے تو وہ سن لے کہ کوئی مائی کا لال یہ نام تبدیل نہیں کر سکے گا۔ امریکہ سے امداد لینے یا اس کے خوف سے ہم ہر گز اپنی روایات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ابھی این آر او کے اور کیس کھلیں گے۔ پرویز مشرف کے دور میں کرپشن کرنے والوں کا بھی حساب کیا جائے۔ سعید مہدی کا استعفیٰ یہ تقاضا کرتا ہے کہ صدر صاحب بھی بڑھ چڑھ کر اس نیک کام میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ کیری لوگر بل اس لئے بنایا گیا کہ امریکی پاکستان کو براہِ راست امداد نہیں دینا چاہتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی حکمران بہت زیادہ کرپشن کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے ہی حکمران ہیں جو باہر کے ملکوں میں کاروبار کرتے ہیں اور اپنا پیسہ وہیں جمع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس ملک کے حکمران امیر ہیں اور ملک غریب۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اب اٹھ رہے ہیں اور حکمرانوں سے استعفے مانگ رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ زندہ رہے گا کیونکہ یہ ہمیشہ رہنے کیلئے بناہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان جیسے لوگوں کو اپنا آئیڈیل بنا کر ہی انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہم سے بات نہیں کرنا چاہتا لیکن ہم پھر بھی اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں کہ جناب مذاکرات جلد شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کمزور قومیں کرتی ہیں اور جو قوم طاقتور ہوتی ہے وہ وقت آنے پر خود ہی معاہدے کو پھاڑ کر پھینک دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہائٹ ہائوس میں پانی کی بوتل کیلئے بھی پیسے خرچ کرنا پڑتے ہیں لیکن ہمارے ہاں معمولی سے دفتر میں بھی بے تحاشہ خرچہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری نسل کے لوگ اگر یہ عہد کر لیں کہ پاکستان کو قائداعظمؒ کا ملک اور مسلم لیگ کو قائداعظمؒ کی مسلم لیگ بنائیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت پھر ہمیںنقصان نہیں پہنچا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایک بار کے ایچ خورشید نے بتایا کہ قائداعظمؒ نے کبھی مسلم لیگ کے چندے پر سفر نہیں کیا بلکہ وہ اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناحؒ اور سیکرٹری کا خرچہ خود برداشت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران یہاں سے لوٹا ہوا مال واپس لائیں تاکہ ہم ان سے اپنے قرضے اتار سکیں۔ ہم مقروض اور غلامی کی زندگی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ روزنامہ جناح کے چیف ایڈیٹر اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے صدر خوشنود علی خان نے کہا کہ اگر حکومت کو مولانا ظفر علی خان کی خدمات کا احساس ہوتا تو قوم کو اس سے یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی کہ مولانا ظفر علی خان کا قومی دن منایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب یہ کہتی ہیںکہ پیپلز پارٹی، ایوان صدر‘ حکومت اور فوج کا بھارت کے بارے میں موقف الگ الگ ہے۔ یہ کس قدر حیرانگی کی بات ہے کہ بھارت جو ہمارا دشمن ہے اس کے بارے میں بھی ہمارا موقف علیحدہ ہے۔ میاں نواز شریف نے سعید مہدی سے استعفیٰ لے کر قوم کی صحیح ترجمانی کی ہے۔ جو لوگ نیب زدہ ہیں انہیں کابینہ سے نکالا جائے۔ یہ ہمارے نمائندے نہیں۔ اگر آج مولاناظفر علی خان زندہ ہوتے تو وہ ان حکمرانوں کو للکار رہے ہوتے اور آج میں ان کے جانشین کی حیثیت سے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے حکومت سے کہتا ہوں کہ وہ نیب زدہ لوگوں کو اپنی کابینہ اور حکومت سے نکالے۔ انہوں نے کہا کہ میں روزانہ مجید نظامی سے روشنی لیتا ہوں اور وہی ہمارے اصل رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسی حکومت کو نہیں مانتا جن سے یہ مطالبہ کیاجائے کہ قوم کے محسنین کے دن منائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ مولانا ظفر علی خان کے بارے میں کتابیں شائع کر کے قوم کے نوجوانوں تک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نہ عوام کی منشا ہے نہ آرزو ہے اور جو مملکت کا نشان ہے وہ ایوان صدر میں چھپا بیٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی غریب عوام فرسٹ کلاس میں سفر نہیں کر سکتے۔ ان میں صرف نیب زدہ اور کرپٹ لوگ ہی سفر کر تے ہیں۔ اس ملک کی تقدیر تب بدلے گی جب عام آدمی بھی فرسٹ کلاس میں سفر کرے گا۔ راجہ مسعود علی خان نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے نہایت کٹھن زندگی گزاری لیکن انہوں نے یہ سب کچھ اپنی قوم اور اس ملک کے بنانے کیلئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک زمانے میں مولانا ظفر علی خان کانگریس میں تھے۔ ایک بار کراچی میں ایک جلسہ ہو رہا تھا جس میں گاندھی بھی شریک تھے۔ جلسے کے دوران نماز عصر کا وقت ہو گیا تو وہ کھڑے ہو گئے اور کہا کہ نماز کی ادائیگی تک جلسے کی کارروائی موخر کر دی جائے۔ اس پر گاندھی نے کہا کہ مولانا آپ نماز پڑھ لیں لیکن جلسہ جاری رہے گا اس پر مولانا غصے میں آگئے اور اسی وقت کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان والوں کی یہی خواہش ہے کہ مولانا ظفر علی خان کا نام زندہ رہے اور اس مقصد کیلئے مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری حکومت پر زور دے کہ سرکاری سطح پر بھی مولانا ظفر علی خان کا دن منایا جائے اور 27 نومبر کا دن ایک قومی دن کی حیثیت سے منایا جائے۔ راجہ اسد علی خان نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان ہمارے خاندان کے ایک نامور شخص تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی انتہائی جوش اور جذبے کے ساتھ گزاری۔ وہ ہر میدان میں صف اول میں رہے اور کبھی کسی معاملے میں پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ظفر علی خان کے والد اردو، انگریزی‘ عربی‘ فارسی اور انگریزی زبانوں میں بہت ماہر تھے۔ وہ جب بھی شام کو گھر واپس آتے تو مولانا ظفر علی خان سے ان کی مصروفیات کے بارے میں چاروں زبانوں میں پوچھتے اور ان کی غلطیوں کی تصحیح کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار جب مولانا سراج دین کشمیر میں ملازم تھے تو وہاں ایک انگریز نے مولانا ظفر علی خان سے جو اس وقت بچے تھے انہیں کہا کہ میرے گھوڑے کا چابک پکڑو تو مولانا ظفر علی خان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے اوسطاً اپنی زندگی کا ہر تیسرا دن جیل میں گزارا۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمدنے کہا کہ ساری قوم تحریک پاکستان کو بھلا چکی تھی لیکن نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے انہیں یہ بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور ان میں پاکستان اور تحریک پاکستان سے متعلق بڑا جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اصل ہیرو حضور اکرمؐ ہیں۔ جنوبی ایشیا کے خطے میں ہمارے سیاسی ہیرو قائداعظمؒ ہیں اور سوچ و بچار کے ہیرو علامہ اقبالؒ ہیں لیکن بہت سے مشاہیر ایسے ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان میرے ہیرو ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جس میدان میں بھی گئے‘ انہوں نے وہاں بلند مقام حاصل کر کے درحقیقت ستاروں پر کمند ڈالی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ظفر علی خان کو حضور اکرمﷺ سے بے حد عشق تھا۔ انہیں ساری دنیائے اسلام سے محبت تھی اور جس خطے میں بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم ہوتا تو وہ اس کا درد محسوس کرتے ہوئے شاعری کیا کرتے تھے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے حقوق کیلئے وہ انتہائی زور دار لڑائی لڑا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک زمانے میں ریلوے کی ایئرکنڈیشنڈ فرسٹ کلاس میں سفر کرنے پر ہندوستانیوں پر پابندی تھی لیکن مولانا ظفر علی خان فرسٹ کلاس میں جا کر بیٹھ گئے۔ انگریز سپاہی آیا تو مولانا ظفر علی خان نے اسے تھپڑ رسید کر دیا اور بعد میں پولیس انہیں گرفتار کر کے لے گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار نے انتہائی بے باکی سے صحافت کی اور کئی بار ان کی ضمانتیں بند ہوئیں۔ چمنستان، نگار ستان وغیرہ مولانا ظفر علی خان کے مجموعہ کلام ہیں۔ جیل کے حوالے سے بھی انہوں نے جیسات کے نام سے کلام لکھا۔ وہ انگریزی کے بھی بے حد قادر الکلام ادیب تھے اور انہوں نے بہت سی انگریزی کتب کے تراجم کئے ہیں۔ اردو زبان کے بے شمار الفاظ انہوں نے انگریزی سے اردو میں شامل کئے۔ وہ اعلیٰ پائے کے مترجم، شاعر، صحافی اور سیاستدان تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان کا مولاناظفر علی خان نے قائداعظمؒ کے کہنے پر فی البدیہہ ترجمہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انگریزوں کی آمد کے بعد ہندوئوں کو یہ احساس ہوا کہ وہ ہندوستان میں اکثریت میں ہیں اور مسلمان اقلیت میں ہیں۔ انہوں نے مساجد میں اذان دینے پر پابندی عائد کر دی تھی چنانچہ جب بھی مولانا ظفر علی خان کو کسی ویران مسجد کا معلوم ہوتا تو وہ اذان دینے کیلئے اس مسجد میں پہنچ جاتے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ظفر علی خان نے غازی علم الدین شہید کے متعلق بہت زیادہ نظمیں لکھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد شہید گنج کے واقعے کے بعد مولانا ظفر علی خان نے مسلمانوں کو اس انداز میں متحرک کیا کہ انہوں نے باقاعدہ ایک تحریک شروع کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ظفر علی خان نے مجلس اتحاد ملت کے نام سے ایک جماعت بنائی تھی تاکہ مسلمانوں کو متحد کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ظفر علی خان نے آخری بار نیلا گنبد کی مسجد میں لوگوں کے مطالبے پر اپنا کلام سنایا اور بڑھاپے کے باوجود ان کی آواز بے حد توانا تھی۔ انہوں نے بتایا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی وجہ سے پورے ملک میں تحریک پاکستان، مشاہیر تحریک آزادی اور نظریۂ پاکستان کے بارے میں ایک تحریک اور جوش پیدا ہو گیا ہے ممتاز صحافی اور کالم نویس محمد رفیق ڈوگر نے کہا کہ 1906ء میں جب ڈھاکہ میں مسلم لیگ بنی تو مولانا ظفر علی خان بھی اس اجلاس میں شریک تھے اور وہ بھی قرار داد کی تائید کرنے والوں میں شامل تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلم لیگ کے قیام کے دن سے ہی اس کے ساتھ شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں احراروں کی سیاست توڑنے میں مولانا ظفر علی خان نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1937ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر مرکزی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے کبھی مسلمانوں کے مفاد سے سمجھوتہ نہیں کیا انہوں نے اپنی ساری عمر انگریزوں سے لڑتے ہوئے گزار دی لیکن افسوس آج ہم انگریزوں کے غلام بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زندگیوں کا مقصد پاکستان کی حفاظت ہونا چاہئے۔ شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے اپنی تہذیب سے محبت پر بہت زور دیا جسے آج ہم نے فراموش کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تہذیب نو نے ہمیں اس قدر تھپیڑے دیئے کہ اس نے ہم سے ہماری اصل تہذیب تک چھین لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج لوگ جس چیز پر فخر کرتے ہیں کچھ عرصہ بیشتر تک وہ چیز ہمارے لئے باعث شرم تھی۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کی غلامی کا سلسلہ ان کی نقالی سے شروع ہوتا ہے اور آج ہم نے دوسروں کی اچھی باتوں پرعمل کرنے کی بجائے ان کی بری باتیں اپنانا شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹی وی چینلز تفریح کے نام پر بے حیائی کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا ظفر علی خان کا قوم کویہی درس تھا کہ ہماری کامیابی صرف اور صرف حضور اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں پنہاں ہے۔ بعد ازاں مولانا ظفر علی خان کی بلندی ٔ درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ پروگرام کے اختتام پرٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے شرکاء کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
Post New Comment