اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت/ اے پی پی/ جی این آئی) بنک آف پنجاب فراڈ کیس میں ملوث حارث سٹیل ملز کے مالک شیخ افضل اور اسکے بیٹے حارث افضل کو سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ شیخ افضل نے عدالت میں اعتراف جرم کرتے ہوئے معافی مانگ لی اور کہاکہ وہ تمام رقم واپس کرنے کو تیار ہیں۔ عدالت میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر بابر اعوان نے مجھ سے مقدمہ کی فیس 50لاکھ اور کیس ختم کرانے کیلئے ساڑھے تین کروڑ روپے وصول کئے۔ بنک آف پنجاب کے صدر ہمیش خان نے 40سے 50کروڑ اور تحائف‘ بنک افسر ہارون عزیز پانچ کروڑ‘ ڈیفنس میں گھر‘ شعیب قریشی اور سلیم مرزا نے 4-4کروڑ اور بنک ملازمین ضیاء الحق اور عزیز الحمید نے بھی تحائف وصول کئے۔ اے پی پی کے مطابق صحافیوں سے گفتگو میں شیخ افضل نے کہاکہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے ان سے دو کروڑ لئے‘ سرفراز مرچنٹ نے دو کروڑ 80 لاکھ‘ وسیم سجاد نے 50 لاکھ فیس اور وسیم سجاد کے بیٹے علی وسیم نے مقدمہ ختم کرانے کے لئے 75 لاکھ وصول کئے۔ شریف الدین پیرزادہ نے ڈیڑھ کروڑ روپے فیس اور ایک کروڑ روپے مقدمہ ختم کرنے کے لئے وصول کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور کے ایک صحافی نے مقدمہ ختم کرانے کے لئے 35 لاکھ‘ عرفان قادر نے 60 لاکھ اور بیرون ملک جانے میں مدد دینے پر فضیل اصغر نے 50 لاکھ روپے وصول کئے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ شیخ افضل نے کہا کہ مجھے میری بیوی اور دو بیٹوں کو بھی حراست میں رکھا گیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ اہل خانہ کو ہراساں نہ کیا جائے اگر حارث افضل کے نام کچھ اثاثے منتقل کرائے گئے ہیں تو وہ واپسی کیلئے حارث افضل بینک آف پنجاب کے نام مختار نامہ بنا دے جس کے بعد اسے رہا کر دیا جائے اور اسکا نام ای سی ایل میں شامل اور پاسپورٹ ضبط کر لیا جائے۔ عدالت نے ہمیش خان کی گرفتاری کیلئے بھی کوششیں تیز کرنیکی ہدایت کی۔ شیخ افضل نے کہاکہ اس کے بڑے بھائی سیٹھ یعقوب نے 40کروڑ روپے لئے۔ انہوں نے ہی مجھے مس گائیڈ کیا اور وطن واپس نہ آنے کیلئے کہا۔ سیٹھ یعقوب کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ رقم واپسی کے سلسلے میں عدالت سے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ فراڈ کے ایک اور ملزم سیٹھ نثار جو بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت میں درخواست پیش کی کہ وہ وطن واپسی اور رقم دینے کو تیار ہیں تاہم انہیں گرفتاری کا خدشہ ہے۔ عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ واپسی پر اسے گرفتار نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس نے بینک آف پنجاب کے وکیل سے کہاکہ آپ کو اگر پیسے مل رہے ہیں تو لے لیں یہ قوم کا پیسہ ہے۔ لوٹی گئی رقم واپس ملنی چاہئے۔ عدالت نے ایف آئی اے اور نیب کی تعریف کی۔ عدالت نے کہاکہ تمام ملزمان نیب اور بینک آف پنجاب کے ساتھ معاملات طے کریں تاہم نیب کسی کو بلاوجہ ہراساں نہ کرے۔ حارث افضل بھی نیب سے تعاون کرے‘ مزید سماعت 2دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔جی این آئی کے مطابق شیخ افضل سپریم کورٹ میں اپنی آئندہ پیشی پر اس مالی سکینڈل میں ملوث بڑے بڑے اہم سیاسی کرداروں کے ناموں سے پردہ اٹھانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی تحویل میں ملزم شیخ افضل سے گذشتہ رات انتہائی اہم شخصیات کے نمائندوں نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور انہیں ان شخصیات کے نام افشا نہ کرنے پر قائل کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق شیخ افضل نے کہاکہ انہوں نے سارا پیسہ اکیلے نہیں کھایا‘ اس میں شریک دیگر لوگ تو پاک صاف ہو گئے ہیں جبکہ انہیں اکیلے پھنسایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے ملاقاتیوں پر واضح کیا کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں بچا لیا جائے گا لیکن آج انہیں بچانے کوئی نہیں آیا‘ اس لئے وہ عدالت کو سب حقائق بتا دیں گے کہ اس سکینڈل میں کون کون حصے دار ہے۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ شخصیات کے نمائندے ملاقات کے دوران شیخ افضل کو دھمکاتے بھی رہے۔
Post New Comment