باڑہ : شدت پسندوں کے گڑھ گورگری اور جمرود پر فورسز کا کنٹرول‘ 23 جنگجو جاں بحق‘ 39 گرفتار

ـ 25 نومبر ، 2009
  • Adjust Font Size

باڑہ + وانا + راولپنڈی (ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ’’خوخ بہ دیشم‘‘ (میں تمہیں دیکھ لوں گا) شروع کر دیا ہے۔ فورسز نے شدت پسندوں کے اہم گڑھ گورگری کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ لنڈے کلے میں بھی متعدد ٹھکانوں پر قبضہ کرکے پہاڑیوں پر قومی پرچم لہرا دیا گیا‘ جمرود کے علاقے میں فورسز نے مکمل کنٹرول سنبھال لیا‘ کارروائی میں 23 شدت پسند جاں بحق اور 39 کو گرفتار کر لیا گیا۔ 22 گاڑیاں تباہ اور بھاری اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔ آپریشن راہ نجات میں فورسز کی تازہ کارروائی میں 3 شدت پسند جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہو گئے۔ باجوڑ ایجنسی میں شدت پسندوں کے راکٹ حملے میں 2 بچے جاں بحق‘ اہلکار سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں فورسز نے گورگری کے علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں قومی پرچم لہرا دیا۔ ایف سی میڈیا سیل کے مطابق باڑہ میں اہم آپریشن گزشتہ صبح شروع کیا گیا جسے آپریشن خوخ بہ دی شم کا نام دیا گیا ہے۔ مقامی زبان میں خوخ بہ دی شم حریف کو سخت سزا دینے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ آپریشن کے آغاز سے پہلے دیہی علاقوں میں صبح سویرے غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ کر دیا گیا جبکہ شہری علاقوں میں یکم ستمبر سے نافذ کرفیو میں دیا جانے والا وقفہ بھی ختم کر دیا گیا۔ نقل مکانی جاری ہے۔ آپریشن میں زمینی دستوں کے ساتھ ساتھ گن شپ ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ قبائل نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں لیویز کے ہیڈ کوارٹر پر شدت پسندوں نے رات گئے راکٹ فائر کئے۔ حملے میں لیویز کا حوالدار زخمی ہو گیا جسے خار ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ایک راکٹ قریبی گھر میں گرا جس سے دو بچے جاں بحق اور چار افراد زخمی ہو گئے۔ راکٹ حملے میں کئی دکانوں اور ایک پٹرول پمپ کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔ لنڈے کلے میں شدت پسندوں کے زیر استعمال دو غار اور ٹارچر سیل کا بھی انکشاف ہوا ہے جہاں پر ہتھکڑیاں اور تشدد کرنیوالا دیگر سامان بھی برامد ہوا ہے۔ فورسز نے جمرود کے پہاڑی علاقے چھورا کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔ ہنگو کے علاقے شاہو خیل میں سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی میں مزید 5 شدت پسند جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے ہیں۔ کارروائی میں شدت پسندوں کے 3 ٹھکانے بھی تباہ کردیئے ہیں۔ اورکزئی ایجنسی میںگن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ اور جیٹ طیاروں کی بمباری سے اپراورکزئی میں پی ٹی سی ایل کے ٹیلیفون ٹاور کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کے بعد علاقے میں ٹیلیفون سروس معطل ہو گئی۔ جنوبی وزیرستان کے علاقوں آسمان منزہ، مکین اور لدھا میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ لوئر دیر کے علاقے میدان گمبٹ بانڈہ میں10شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو فورسز کے حوالے کردیا۔ سوات میں ڈبل سواری پر پابندی میں 30 نومبر تک توسیع کر دی گئی۔ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران مکان پر چھاپہ مار کر طیارہ شکن گن اور 3 ٹائم بم برآمد کر لئے تلاشی آپریشن کے دوران 8 مشتبہ افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں جبکہ مزید 3 عسکریت پسندوں نے خود کو فورسز کے حوالے کر دیا۔ ادھر سکیورٹی فورسز نے وسطی کرم ایجنسی میں آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ خوف سے وسطی کرم کے علاقے مسوزئی سے لوگوں کی بڑی تعداد محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہی ہے۔دریں اثناء شدت پسندوں نے خار میں سکیورٹی فورسز اور لیویز فورسز کی مختلف پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا ‘ متعدد راکٹ صدر مقام خار میں باجوڑ سکائوٹس کے ہیڈ کوارٹر کیمپ کے اندر گرے ہیں ان میں سے ایک راکٹ کیمپ میں قائم ایک قیدخانے میں لگا جس سے ایک قیدی جاں بحق جبکہ باجوڑ سکائوٹس کے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions