اسلام آباد/لاہور/کوئٹہ (ایجنسیاں+خبرنگار خصوصی+ریڈیو مانیٹرنگ) بلوچستان کی تمام قوم پرست جماعتوں اور بلوچ مزاحمتی تنظیموں نے آغاز حقوق ’’بلوچستان‘‘ پیکج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے عوام کے ساتھ ایک مذاق قرار دیا ہے جبکہ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، پیپلزپارٹی، صوبائی وزراء نے اسے تاریخی اہمیت کا حامل اور ماضی کے احساس محرومی کے خاتمے کیلئے اہم اور تیزرفتار پیشرفت قرار دیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی نے بلوچستان پیکج کو اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد بحال کرنے کیلئے یہاں قائم تمام فوجی چھاؤنیاں ختم کرے۔ ہمیں بلوچستان میں ایف سی بھی قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے حکومت دوبارہ تحقیقاتی کمشن بنائے جبکہ اکبر بگٹی کے قاتل مشرف کو گرفتار کیا جائے۔ سنیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ اختیارات دینے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے کوئی ٹائم فریم بھی نہیں دیا گیا۔ اگر یہ آغاز ہے تو انجام کیا ہو گا۔ سنیٹر عبدالمالک نے پیکج کو بلوچستان کے عوام کے ساتھ فراڈ قرار دیا۔ صوبائی خودمختاری، وسائل کی فراہمی، حق حکمرانی اور سلگتے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کا اعلان ہونا چاہئے تھا۔ جے یو آئی (ف) کے اسماعیل بلیدی نے کہا اہم مسائل کو نظرانداز کر دیا گیا۔ سابق سنیٹر ثناء اللہ بلوچ نے کہا ایسا لگتا نہیں ہے کہ وفاق مخلص ہے۔ عبدالحئی بلوچ نے کہا اس طرح کے پیکجز سے عوام کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ پیپلزپارٹی بلوچستان کے رہنما میرباز خان کھیتران نے کہا کہ بلوچستان کیلئے پیکج سے صوبہ کے مسائل میں بہت حد تک کمی آئے گی۔ عبدالرحیم مندوخیل نے پیکج کو صوبہ کے عوام کیلئے اچھی پیشرفت قرار دیا تاہم کہا کہ پیکج میں پشتون قوم کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ادھر لاہور میں نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز بلوچ لیڈر مسلم لیگ ن کے رہنما خدائے نور خان نے بلوچستان پر حکومتی پیکج کو ایک بے فائدہ مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پیکج سے بلوچستان میں امن قائم ہو گا نہ حالات میں بہتری آئے گی۔ حیربیار مری نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ برابری کی بنیاد پر فوج سمیت سب سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ حکمرانوں کی سوچ اور نفسیات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ آج بھی بلوچ روایات اور ان کی قومی شناخت کو پیسوں میں تولنے کی بات کر رہے ہیں۔ بلوچستان کی آزادی تک حکمرانوں سے صلح کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) گروپ کے حبیب جالب ایڈووکیٹ نے بلوچستان پیکج کو شوگر کوٹڈ پیکج قرار دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما یعقوب ناصر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان پیکج کا نام ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ رکھ کر پہلے ہی اس پیکج سے ہوا نکال دی جس کا مقصد یہ ہے کہ یہ عمل جاری رہے گا۔ نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا کہ حکمرانوں نے این آر او سے توجہ ہٹانے کیلئے بلوچستان پیکج کا شوشہ چھوڑا۔ جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ اس پیکج میں صوبائی خودمختاری کے حوالے سے کوئی چیز سامنے نہیں آئی۔ صوبائی وزراء میر عاصم کرد گیلو، صادق عمرانی، امین عمرانی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس اہم نوعیت کے اعلانات سے بلوچستان کا اعتماد پارلیمانی نظام اور اداروں پر بحال ہو گا۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر یار محمد رند نے کہا کہ بلوچوں کو کسی خیرات کی ضرورت نہیں۔ سابق ڈپٹی سپیکر وزیر جوگیزئی نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیکج اہم قدم ہے لیکن اصل مسئلہ اس پر عملدرآمد کا ہے۔
Post New Comment