لاہور/ اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ سٹاف رپورٹر+ نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے حکومت کی طرف سے بلوچستان پیکج پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آغاز بلوچستان پیکج سے بلوچستان کے عوام کی محرومیاں دور ہونگی۔ وفاق اور جمہوریت مضبوط ہو گی‘ صوبائی خودمختاری کا پیکج لائے بغیر بلوچ عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا‘ بلوچوں سے مذاکرات تک انہیں پاکستان کے قریب نہیں کیا جا سکتا‘ اکبر بگٹی کے قتل کی انکوائری کیلئے کمشن کی ضرورت نہیں۔ مشرف کو گرفتار کرکے کٹہرے میں لایا جائے‘ بلوچستان پیکج حکومت کا بڑا کارنامہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن‘ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر الٰہی بخش سومرو‘ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد‘ جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمن‘ تحریک استقلال کے صدر رحمت وردگ‘ پیپلزپارٹی شیرپائو گروپ کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو‘ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ حافظ عبدالکریم‘ خاکسار تحریک کے سربراہ حمید الدین المشرقی‘ سینیٹر ایس ایم ظفر‘ پیپلزپارٹی کے جہانگیر بدر‘ وزراء قمر زمان کائرہ‘ راجہ پرویز اشرف‘ فرزانہ راجہ‘ آیت اللہ درانی‘ فاروق ستار‘ ڈاکٹر بابر اعوان اور دیگر نے بلوچستان پیکج پر اپنے الگ الگ ردعمل میں کیا۔ سید منور حسن نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم بلوچستان پیکج سے غیرمطمئن ہیں ایسے اقدامات ہونے چاہئیں جن سے بلوچوں کے دکھوں کا مداوا ہو سکے‘ بلوچ عوام کے مسائل محض پیکیج سے حل نہیں ہونگے۔ جہانگیر بدر نے کہا بلوچستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ منظور کیا ہے۔ صوبائی خودمختاری کا مسئلہ بھی حل کر لیا جائے گا۔ فضل الرحمن نے بلوچستان پیکج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی طرح حکومت ملک کے دیگر حصوں میں بھی مسلح گروپوں سے بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ آفتاب احمد خان شیرپائو نے کہاکہ صوبہ بلوچستان کا احساس محرومی دور کرنے کیلئے لائے گئے حکومتی پیکج پر اگرچہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تاہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ فرزانہ راجہ نے کہا بلوچستان پیکج صوبہ کے عوام کا احساس محرومی دور کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ ایس ایم ظفر نے کہاکہ ہماری جماعت مسلم لیگ ق بھی آئینی پیکج کے حوالے سے کام کر رہی ہے اس لئے بلوچستان پیکج کی مخالفت نہیں کرینگے۔ سید نیئر حسین بخاری نے کہاکہ بلوچستان پیکج کا اعلان تاریخی اقدام ہے۔ رحمت وردگ نے کہاکہ پیکج سے استحکام نہیں انتشار پیدا ہو گا۔ حافظ عبدالکریم نے کہاکہ بلوچستان کی 60سالہ محرومیاں ایک پیکج سے دور نہیں ہو سکتیں۔ حمید الدین ا لمشرقی نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر آغاز بلوچستان پیکج کے مثبت اثرات مرتب نہیں ہو سکتے۔ الٰہی بخش سومرو نے کہا کہ پیکج سے محسوس ہوتا ہے کہ بلوچ رہنمائوں کو اعتماد میں لنیے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ شیخ رشید نے کہاکہ پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی میں موجود ہے۔ بابر اعوان نے کہاکہ آغاز حقوق بلوچستان مختلف پیکج ہے‘ پارلیمنٹ عملدرآمد کی ضامن ہے‘ اعلانات کو سرخ فیتے کی نذر نہیں ہونے دینگے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ بلوچستان پیکج روشن بلوچستان کی طرف ایک قدم ہے‘ صوبے کے عوام کو بنیادی حقوق دلائینگے۔ قمر زمان کائرہ نے کہاکہ بلوچستان میں عام معافی کی تجویز معقول ہے‘ معاملہ پارٹی کے اجلاس میں اٹھائونگا۔ فاروق ستار نے کہاکہ آئینی اصلاحات کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اپنا کام تیز کرنا چاہئے۔
Post New Comment