شرح سود میں مزید کمی‘ ڈسکائونٹ ریٹ 12.5 فیصد ہو گیا‘ سٹیٹ بنک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

ـ 25 نومبر ، 2009
  • Adjust Font Size

کراچی ( کامرس رپورٹر + این این آئی) سٹیٹ بنک نے نئی مالیاتی پالیسی جاری کر دی‘ شرح سود میں پچاس بیسز پوائنٹس کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ مرکزی بنک نے دسمبر 2009ء کے لئے مالیاتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں پچاس بیسز پوائنٹس کی کمی کر دی ہے‘ شرح سود میں کمی افراط زر میں کمی کی وجہ سے کی گئی۔ مرکزی بنک کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری آئی ہے جبکہ رواں مالی سال میں افراط زر گیارہ فیصد رہے گی۔ شرح سود میں کمی سے ڈسکاؤنٹ ریٹ 12.5 فیصد ہو گیا۔ رواں مالی سال کی تیسری مانیٹری پالیسی کے مطابق میکرو اکنامک اعشارئیے میں بہتری دیکھی گئی ہے جبکہ افراط زر کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے‘ شرح سود میں کمی افراط زر میں کمی کے باعث کی گئی۔ مرکزی بنک کے مطابق پاکستان کی برآمدات‘ سرمایہ کاری اور عالمی سطح پر معاشی بحالی سے تجارت میں بھی بہتری متوقع ہے جبکہ رواں مالی سال افراط زر کی شرح 11 فیصد کے اندر رہنے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں سٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر سید سلیم رضا نے کہا ہے کہ مرکزی بنک ملک میں انفراسٹرکچر اور ہائوسنگ کے شعبے کی ترقی کیلئے سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت سے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بنک اور مارٹگیج ری فنانس کمپنی کے قیام کے لئے کام کر رہا ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان، کراچی میں پرائیوٹ سیکٹر کریڈٹ ایڈوائزری کونسل کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بنک سید سلیم رضا نے کہا کہ سٹیٹ بنک نے قرضوں سے محروم شعبوں مثلاً زراعت، ایس ایم ای، مائیکرو فنانس، ہائوسنگ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں اضافے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک قرضوں کی فراہمی میں اضافے اور معاشی سست روی کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ بہتر منصوبوں کے ساتھ سامنے آئے تاکہ بنک انہیں مالی مدد فراہم کر سکیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ زراعت اور ایس ایم ای کے شعبوں سے نمو کو تقویت ملے گی۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے سلیم رضا نے کہا کہ قرضوں کی فراہمی میں کمی کے رجحان پر قابو پایا گیا ہے اور بالآخر قرضوں کی فراہمی میں تیزی آئی ہے۔ سلیم رضا نے کہا کہ بجلی کی طویل قلت اور سکیورٹی کی خراب صورتحال سے صنعتی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے جس میں جولائی۔ اگست 2009ء کے دوران صرف 0.2 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح عالمی کساد بازاری بالخصوص امریکہ اور یورپی یونین جیسی بڑی برآمدی مارکیٹوں میں کساد بازاری کے سبب بھی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی‘ ستمبر مالی سال 10ء کے دوران ٹیکسٹائل کے شعبے کی برآمدی آمدنی میں 0.3 بلین ڈالر کمی واقع ہوئی ہے۔ شوگر سیکٹر کی جانب سے چینی کے ذخائر رہن رکھنے کے عوض لئے گئے قرضوں کی ادائیگی سے بھی ایڈوانسز میں کمی میں معاونت ملی، تاہم ورکنگ کیپیٹل کی مد میں کمی کے رجحان کا معینہ سرمایہ کاری کی مد میں قرضوں کی فراہمی سے کچھ حد تک ازالہ ہو گیا، جس میں جولائی، ستمبر 2009ء کے دوران 13.3 بلین روپے کا اضافہ ہوا۔ جن اہم شعبوں نے معینہ سرمایہ کاری کے لئے قرضے حاصل کئے ان میں بجلی، گیس، پانی اور مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔ گورنر سٹیٹ بنک نے کہا کہ زرعی قرضوں کی فراہمی میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے اور جولائی‘ اکتوبر 2009ء کے دوران زرعی قرضوں کی فراہمی میں گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.2 بلین روپے یا 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ایس ایم ایز اور ہائوسنگ فنانس کے لئے قرضوں کی فراہمی میں کمی کا رجحان رہا۔ انفراسٹرکچر فنانس میں 37 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ بجلی کی پیداوار اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں کیپیٹل انویسٹمنٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرو فنانس بنکوں / اداروں کے ڈیپازٹس اور ایڈوانسز میں 30 ستمبر 2009ء تک بالترتیب 5.8 بلین روپے اور 8.9 بلین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ کراچی سے کامرس رپورٹر کے مطابق گورنر سٹیٹ بنک سید سلیم رضا نے ملک میں افراط زر کی شرح میں کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے ملک میں آج سے سٹیٹ بنک کی پالیسی شرح سود میں 0.50 فیصد کمی کر کے 12.50 فیصد پالیسی ریٹ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے نئی مانٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2009ء میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 8.9 فیصد رہ گئی۔ جو رواں مالی سال کے دوران 11 فیصد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث معیشت خطرے اور بے یقینی کی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے مالیاتی صورتحال بالخصوص مالیاتی دبائو بہت بڑھ چکا ہے جبکہ حقیقی پیداوار میں اضافہ محدود ہے اس وجہ سے زری و مالی استحکام اور حقیقی پیداواری سرگرمیوں میں توازن قائم کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے اس صورتحال میں معیشت کی بہتری کے لئے سٹیٹ بنک نے آئندہ دو ماہ کے دوران معاشی استحکام کے حوالے سے پیش آنے والے حالات پر کڑی نظر رکھنے اور سٹیٹ بنک کا پالیسی ریٹ 50 بی پی ایس کم کر کے 12.50 فیصد کرنے کا فیصلہ ہے۔ نیٹ نیوز کے مطابق مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ معیشت کے میکرو امکنامک اشعارئیے مثبت ہو رہے ہیں اور بیرونی کھاتوں میں قابل ذکر حد تک بہتری آئی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مرکزی بنک سے لئے گئے قرضے متعین حد کے اندر ہیں جس کے باعث زر کا پھیلاؤ بھی کنٹرول میں رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال افراط زر کی شرح گیارہ فیصد کے اندر رہنے کا امکان ہے۔ مرکزی بنک کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور میکرو اکنامک اعشارئیے گراوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں اور جولائی 2010ء میں مہنگائی کی شرح 11 فیصد کی سطح پر پہنچ جائے گی جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بجلی کا بحران بھی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے گندم کی خریداری کے لئے حاصل کردہ قرض واپس نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے چاول‘ چینی اور مصنوعی کھاد کی خریداری کے لئے سرمائے کی فراہمی میں کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions