اسلام آ باد (وقائع نگار خصوصی + نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے پارلیمنٹ میں 29 نکاتی آغاز حقوق بلوچستان پیکچ پیش کر دیا ہے جس کے تحت صوبائی خودمختاری کا ازسرنو تعین کیا جائے گا۔ آئین کے شیڈول 4 سے کنکرنٹ لسٹ ختم کر دی جائے گی۔ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے قومی مالی وسائل کی صوبوں میں تقسیم کے لئے نئے رہنما خطوط پر ازسرنو تشکیل کی جائے گی۔ مقامی حکومت صوبائی حکومت کی مشاورت سے سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرے گی تاہم سنگین جرائم میں ملوث افراد رہا نہیں کئے جائیں گے۔ صوبے کی تمام سیاسی قوتوں سے سیاسی مذاکرات شروع کئے جائیں گے تاکہ تمام سیاسی قوتوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے‘ سیاسی جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آنے والے ان تمام افراد کو ہرممکن سولت فراہم کی جائے گی۔ تاہم دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو کوئی سہولت حاصل نہیں ہو گی۔ وفاقی حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کمشن قائم کرے گی جس کے سربراہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عدلیہ کے جج ہوں گے۔ وفاقی حکومت سوئی کے مقام سے فوج واپس بلا لے گی اور اس کی جگہ ایف سی کی تعیناتی کی جائے گی۔ رضا ربانی نے ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ پیکج پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی دن ہے۔ پہلے حقوق کی بات کرنیوالوں کو غدار کہا گیا۔ پیکج صوبائی خودمختاری کا متبادل نہیں ہوتے۔ صوبے مضبوط ہونے سے وفاق مضبوط ہوتا ہے۔ صوبوں کی خودمختاری کیلئے آئین میں ترامیم کی جائیں گی۔ بلوچستان پیکج کی سفارشات چار حصوں پر مشتمل ہیں۔ پیکج کا پہلا حصہ آئینی اصلاحات سے متعلق ہے۔ بلوچستان کے تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کردیا جائیگا‘ سوائے ان افراد کے جن پر سنگین جرائم کے مقدمات ہیں۔ آرٹیکل 159‘ 155‘ 157‘ 158 اور 159 پر عملدرآمد یقینی بنایا جائیگا۔ بلوچستان اسمبلی کی 2002ء سے اب تک تمام قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا۔ بلوچستان لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترامیم کی جائینگی۔ نئی چھائونیاں تعمیر نہیں کی جائیںگی۔ فوجی چھائونیاں سرحدی علاقوں کے سوا کہیں اور تعمیر نہیں کی جائینگی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سماعت اِن کیمرہ ہوگی۔ نواب اکبر بگٹی کے قتل کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمشن قائم کیا جائیگا۔ بلوچستان میں دہشت گردی کیخلاف آپریشن کے سوا تمام آپریشنز ختم کردئیے جائینگے۔ ساحلی علاقوں کے سوا دیگر علاقوں سے کوسٹ گارڈز چوکیاں ختم کر دی جائینگی۔ گوادر میں زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کی جائینگی۔ کسٹمز ایکٹ کو واپس لے لیا جائیگا۔ تمام بڑے منصوبے وزیراعلیٰ بلوچستان کی منظوری سے شروع کئے جائینگے۔ سوئی سدرن پی پی ایل میں صوبے کو مناسب نمائندگی دی جائیگی۔ بلوچستان کو 5 ہزار اضافی نوکریاں دی جائیںگی۔ جن پر کوئی مقدمہ نہیں‘ ایسے لاپتہ افراد رہا کردئیے جائینگے‘ گوادر میں فری اکنامک زون تعمیر کیا جائیگا‘ بیروزگاری ختم کرنے کیلئے گوادر میں نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کیا جائیگا۔ وفاقی حکومت صوبے میں پانچ ہزار اضافی نوکریوں کے مواقع پیدا کریگی۔ بلوچستان کو گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں 120 ارب روپے دئیے جائینگے۔ یہ 1954ء سے 1991ء کے بقایاجات ہیں۔ صوبے بھر میں بجلی پیدا کرنے کیلئے چھوٹے ڈیمز بنائے جائینگے۔ پیکج کی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ ہر تین ماہ بعد پیش کی جائیگی۔ بلوچستان کا 17 ارب کا قرضہ وفاقی حکومت نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔بلوچستان کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے خصوصی کوٹہ دیا جائیگا۔ موجودہ معاہدوں پر ملنے والے منافع میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جائیگا۔ سینڈک منصوبے میں صوبے کا منافع 20 فیصد ہوگا۔ این ایف سی ایوارڈ غربت‘ آبادی‘ پسماندگی اور وسائل کی بنیاد پر دیا جائیگا۔ ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کرنیوالے متاثرین کی بحالی کیلئے ایک ارب روپے دئیے جائینگے۔ رضا ربانی نے بلوچستان کے 7.5 ارب کے اوور ڈرافٹ ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جلاوطن رہنمائوں کو واپسی پر خوش آمدید کہیں گے۔ بلوچستان کے سیاسی رہنمائوں غلام محمد‘ لالہ منیر اور دیگر کے قتل کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کی جائیگی۔
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی/ نمائندہ خصوصی/ ایجنسیاں) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کی قومی دھارے سے باہر سیاسی قوتوں کو بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے ان تمام ناراض بھائیوں کی طرف صلح اور بات چیت کیلئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ وہ ہماری اس پیشکش کا مثبت اور حوصلہ افزا جواب دیں گے۔ آئیے ہم سب اس بات کا عہد کریں کہ ہم اپنے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے ادارے اور جمہوری نظام مضبوط و مستحکم بنائیں گے۔ بلوچ عوام سے زیادتی ہوئی‘ ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائیں گے‘ جمہوری پاکستان سے ہی ہم سب کا مستقبل وابستہ ہے۔ آغاز حقوق بلوچستان سے اس صوبے میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہو گا جس میں استحصال نہیں‘ بلکہ انصاف ہو گا‘ دہشت گردی نہیں بلکہ امن اور تحفظ ہو گا۔ آغاز بلوچستان حقوق پیکج پیش کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج کا دن تاریخ ساز ہے کہ رقبہ کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے‘ بلوچستان کے عوام کے لئے پیکج ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ یہ موقع دو حوالوں سے انتہائی اہم ہے۔ ایک یہ کہ اس کے نتیجے میں بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر آئینی‘ سیاسی اور معاشی حقوق میسر آئیں گے‘ دوسرے اس سے ایک بار پھر پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی اور معتبر بنایا جا رہا ہے۔ آج کا دن اہل وطن اور خاص طور پر بلوچستان کے عوام کے خوابوں کی تعبیر کا دن ہے‘ اس تاریخی مرحلے تک پہنچنے کے لئے ہم نے مفاہمت‘ مصالحت اور قومی یکجہتی کا راستہ اختیار کیا‘ تمام جمہوری قوتوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ پیکج کی تیاری کے دوران پارلیمنٹ کے اندر تمام سیاسی راہنمائوں نے ہماری معاونت کی جس کے لئے میں ان تمام اکابرین کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور تمام جمہوری قوتوں نے جبر کے ایسے تمام اقدامات کی ہر سطح پر ہمیشہ مخالفت کی جن کے تحت آمریت کے دور میں بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتی روا رکھی گئی‘ہم نے واضح کر دیا تھا کہ آمرانہ پالیسیاں وفاق کو کمزور کرتی ہیں۔ فروری 2008ء کے الیکشن کے بعد جب ہمیں اتحادی حکومت بنانے کا موقع ملا تو پیپلزپارٹی نے ماضی کی غلطیوں اور سلوک پر بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی۔ ہمیں اس بات کا بھی احساس تھا کہ چھوٹے صوبوں اور خاص طور پر بلوچستان کے عوام کے ساتھ ماضی میں جو زیادتی ہوئیں ان کے ازالے کے لئے قومی مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ ہمیں صوبوں کی سیاسی اور معاشی محرومیوں کو دور کرنا ہو گا کیونکہ جب تک صوبے مضبوط نہیں ہوں گے اس وقت تک مضبوط‘ مستحکم اور خوشحال پاکستان کی منزل تک رسائی ممکن نہیں۔ پیپلزپارٹی نے اس جذبے اور سوچ کے تحت ’’شہید محترمہ بے نظیر بھٹو مصالحتی کمیٹی‘‘ تشکیل دی اور بلوچستان کے مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور جرگہ سے ملاقاتیں کیں۔ اس کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کیں جس کے بعد حکومت کی سطح پر ایک اور کمیٹی تشکیل دی جس نے سیاسی‘ انتظامی اور معاشی اصلاحات کی سفارشات ترتیب دیں۔ ہم نے سات رکنی پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی۔ جس نے ماضی کے تمام تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی محنت اور تندہی سے سفارشات تیار کیں ‘ پھر ہم نے قومی مشاورتی عمل شروع کیا جس میں صدر‘ گورنر بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی شامل تھے۔ ہم نے کوئٹہ میں صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی کے ارکان سے بھی مشاورت کی‘ ہم نے قومی سیاسی رہنمائوں کو مشاورت میں شامل کیا جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف اور ان کے رفقاء کار قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان‘ راجہ ظفر الحق‘ اسحاق ڈار‘ سردار مہتاب خان‘ خدائے نور‘ یعقوب ناصر‘ منمون حسین‘ اے این پی کے صدر اسفند یار ولی‘ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن‘ مولانا شیرانی‘ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار‘ مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین‘ چودھری پرویزالٰہی‘ سینیٹر وسیم سجاد‘ مشاہد حسین سید اور امیر مقام سے مشاورت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے دیگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا تاکہ مکمل ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہو سکے۔ مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں بلایا جس میں گورنر اور وزیراعلیٰ‘ صوبائی کابینہ اور صوبے سے تعلق رکھنے والے تمام سینیٹر‘ ایم این اے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے ارکان کو بھی اس مشاورتی عمل میں شریک کیا۔ طویل اور حقیقت پسندانہ مشاورت کا ثمر ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے۔ یہ ایک مثبت آغاز ہے اور صحیح سمت میں پہلا پراعتماد قدم ہے۔ ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ سے اس صوبے میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہو گا جس میں استحصال نہیں بلکہ انصاف ہو گا‘ دہشت گردی نہیں بلکہ امن اورتحفظ ہو گا‘ جہالت کا اندھیرا نہیں علم کی روشنی ہو گی‘ مایوسی نہیں اعتماد ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ میں دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کے لئے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے‘ ہم بلوچستان کو حقیقی معنوں میں اس کی عظیم تہذیب‘ ثقافت اور روایات کا گہوارہ بنائیں گے تاکہ مورخ یہ حقیقت تسلیم کرے کہ ظلم اور زیادتی کی رات گزرنے کے بعد یہاں اخوت اور بھائی چارے کا ایسا سورج طلوع ہوا جس کی روشنی نے اس سرزمین کو نئی رونق اور زندگی بخشی۔ وزیراعظم گیلانی نے کہاکہ ہم نے حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے اب تک کئی ایسے اقدامات کئے جن سے بلوچستان کے عوام کو بجاطور پر احساس ہوا کہ ہم ان کے دکھ درد کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے نہ صرف کچھ سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لئے بلکہ بعض لاپتہ افراد کو بازیاب بھی کرایا۔ ہم نے بلوچستان کی صوبائی حکومت کی مختلف مراحل پر مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے ذمے سٹیٹ بینک کا 17.5بلین روپے کا قرضہ وفاقی حکومت نے اپنے ذمے لے لیا۔ گذشتہ سال کے پی ایس ڈی پی کو 42ارب روپے سے بڑھاکر اس سال 50ارب روپے کیا گیا۔ گذشتہ سال کے غیراستعمال شدہ فنڈز جس کا حجم 21ارب روپے تھا اس کو اس سال کے ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنے کی اجازت دی۔ ہم نے 9ارب روپے کے بلوچستان پیکج کا اعلان کیا جس کے مطابق 3ارب روپے کوئٹہ پیکیج کے لئے 3ارب بجٹ کی امداد کیلئے اور بقیہ 3ارب روپے ان ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کئے گئے جن کی نشاندہی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کریں گے۔ ہمیں اس بات کا مکمل اور گہرا احساس ہے کہ بلوچستان میں بعض ایسی سیاسی قوتیں ہیں جو اس وقت قومی دھارے سے باہر ہیں اور یہ بھی احساس ہے کہ ہمیں باہمی اتحاد اور اعتماد کی فضا کو فروغ دینا ہے‘ نہایت خلوص دل کے ساتھ حکومت کی اس خواہش کا اظہار کر رہا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں‘ ہم اس معزز ایوان کے توسط سے ان کو بات چیت کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم اپنے ان تمام ناراض بھائیوں کی طرف صلح اوربات چیت کیلئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ ہماری اس پیشکش کا مثبت اور حوصلہ افزا جواب دیں گے اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کیلئے پارلیمانی آئینی اصلاحاتی کمیٹی اپنی سفارشات تیزی سے مرتب کر رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ جلد اپنی متفقہ سفارشات پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کر دے گی۔ عید کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا تاکہ اس پر تفصیلی بحث ہو سکے۔ اس ایوان کی آراء اور مشاورت کی روشنی میں ان سفارشات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ آئیے ہم سب اس بات کا عہد کریں کہ ہم اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اداروں اور جمہوری نظام کو مضبوط اور مستحکم بنائیں گے کیونکہ جمہوری پاکستان سے ہی ہم سب کا مستقبل وابستہ ہے۔
Post New Comment