کوٹری بیراج پرسُپر فلڈ برقرار ہے، بیراج میں پانی کی آمد نو لاکھ تیس ہزار کیوسک سے تجاوز کرگئی، کچے کے تمام علاقے زیرآب آگئے،سیلابی ریلا قمبر شہداد کوٹ اور ہمل جھیل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ـ 25 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size
کوٹری بیراج پرسُپر فلڈ برقرار ہے، بیراج میں پانی کی آمد نو لاکھ تیس ہزار کیوسک سے تجاوز کرگئی، کچے کے تمام علاقے زیرآب آگئے،سیلابی ریلا قمبر شہداد کوٹ اور ہمل جھیل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جبکہ   کوٹری بیراج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے میر پور بٹارو، اللہ رکھیو، جھنگ شاہی، جامشورو، شہداد کوٹ، مٹیاری، ٹھٹھہ اور ضلع حیدرآباد کے کچے کے علاقے زیر آب آچکے ہیں۔  شہداد کوٹ کے قریب قبو سعید خان تحصیل میں آٹھ فٹ تک پانی جمع ہونے سے سینکڑوں افراد تاحال محصور ہیں۔ جبکہ عاقل آگانی لوپ بند پر پانی کا دباؤ برقرارہے۔  قبوسعید خان کے قریب ایف پی حفاظتی بند میں شگاف پڑنے سے وارہ اور قمبر کے بند سے ملحقہ علاقے شدید خطرے میں ہیں۔  ٹھٹھہ میں سورجانی بند میں پانی کے شدید دباؤ کے وجہ سے دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی ہیں، جس سے کچے کے علاقوں کے علاوہ پکے کے علاقوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔  انتظامیہ نے سورجانی بند کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے دیا ہے۔ ادھر شہداد کوٹ کے چاروں اطراف موٹر وے پر قائم کیا جانے والا بند بھی پانی کے دباؤ کے باعث کمزور ہوگیا ہے اور کئی جگہوں سے پانی کا رساؤ جاری ہے، قبو سعید خان اور شہداد کوٹ میں  پانی کا دباؤ کم کرنے کے لئے موٹر وے کو تین مقامات سے کاٹ دیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود نوے فیصد پانی کا رخ شہری علاقوں کی جانب ہے۔ قمبر، نصیر آباد، مہیڑ خیرپور ناتھن شاہ، رتو ڈیرو، گڑھی یاسین اور لاڑکانہ کے علاقے بھی زیرآب آنے کا خطرہ ہے، پیرجو گوٹھ میں بھی پانی کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اور قریبی علاقوں کو بچانے کے لئے حفاظتی انتظامات شروع کردیئے گئے  ہیں ۔ دوسری جانب گولوا نہرمیں دو مقامات پر شگاف پڑنے سے قریبی دیہات زیرآب آگئے ہیں ،حیدرآباد میں لطیف آباد، قاسم آباد اور حسین آباد میں نشیبی علاقوں کی آبادی کو کوہسار کی طرف منتقل کردیا گیا ہے۔ ضلع میں تیئس مقامات پر امدادی کیمپ قائم  ہیں۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions