صوبہ خیبرپختونخوا، سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں نے حکومت کی جانب سے ریلیف نہ ملنے کے بعد اپنی مدد آپ کے تحت نکاسی آب اور بحالی کا کام شروع کردیا ۔

ـ 25 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size
صوبہ خیبرپختونخوا، سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں نے حکومت کی جانب سے ریلیف نہ ملنے کے بعد اپنی مدد آپ کے تحت نکاسی آب اور بحالی کا کام شروع کردیا ۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں نوشہرہ، چارسدہ ، ڈیرہ اسماعیل خان ،مردان اور سوات کے بیشترعلاقوں میں ابھی تک سیلابی پانی کھڑاہے۔ تمام رابطہ سڑکوں اور پلوں کے بہہ جانے کی وجہ سے اکثرعلاقے تاحال حکومتی امداد سے محروم ہیں۔ لاکھوں مکانات منہدم  ہوجانے کی وجہ سے واپس لوٹنے والوں کو رہائش جیسے مسائل کا سامنا ہے اوروہ زیادہ ترخیموں پر انحصار کر رہے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں کے ساتھ ریلیف کیمپس میں بھی اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے متاثرین فاقوں پرمجبور ہیں ۔ متاثرہ علاقوں میں سیلابی پانی میں تعفن اور پینے کا ناقص پانی ملنے کی وجہ سے ہزاروں افراد وبائی امراض کا شکار ہیں جنہیں مناسب طبی سہولیات میسر نہیں ۔ ان علاقوں میں سیلاب کے بعد وبائی امراض کی وجہ سےجاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے انفراسٹرکچر کی بحالی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع کے ڈی سی اوز سےسیلاب کے دوران جاں بحق اورزخمی ہونے والوں کا ایک ہفتے میں ریکارڈ طلب کرلیاہے جس کے بنیاد پر متاثرین کو امداد دی جائے گی۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق خیبرپختونخوا میں آٹھ سونہریں اورنالے سیلاب کی نذر ہونے سے دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔  ابتدائی طور پر ورسک ریور کینال کی بحالی کا کام شروع کردیاگیا ہے جس سے نولاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں کو تباہی سے بچایا جاسکے گا۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق خیبرپختونخوا میں آٹھ سونہریں اورنالے سیلاب کی نذر ہونے سے دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔  ابتدائی طور پر ورسک ریور کینال کی بحالی کا کام شروع کردیاگیا ہے جس سے نولاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں کو تباہی سے بچایا جاسکے گا۔

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions