ریلا قبو سعید میں داخل : جامشورو بند ٹوٹنے سے درجنوں دیہات زیرآب

ـ 25 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size
ریلا قبو سعید میں داخل : جامشورو بند ٹوٹنے سے درجنوں دیہات زیرآب

اسلام آباد + لاہور+ کوٹری (ایجنسیاں+ کامرس رپورٹر+ سٹی رپورٹر+ ریڈیو نیوز+ وقت نیوز) فیڈرل فلڈ کمشن نے کہا ہے کہ بھارت دریائے ستلج میں اچانک پانی چھوڑ سکتا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے بھی کہا ہے کہ بھارت میں بارشوں سے دریائے ستلج پر اس کے آبی ذخائر بھر چکے ہیں، مزید بارش ہوئی تو وہ دریا میں پانی چھوڑ سکتا ہے۔ ادھر سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، ریلا شہداد کوٹ کے علاقوں قبو سعید اور چکھی میں داخل ہو گیا، درجنوں دیہات ڈوب گئے۔ ٹھٹھہ کے قریب زیر تعمیر پل ٹوٹ گیا جس کے باعث بڑا ریلا مالجھند کی طرف بڑھ رہا ہے، جامشورو میں حفاظتی بند میں شگاف سے 50سے زائد دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ جعفر آباد کی تحصیل گنداخہ کے مزید 20دیہات ڈوب گئے ہیں۔ گیسٹرو، کالے یرقان اور چھتیں گرنے سے جعفر آباد اور نصیر آباد کے کئی علاقوں، مٹھن کوٹ، دائرہ حریت پسند، رحیم یار خان، راجو نظامانی میں 15افراد جاں بحق ہو گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں میں شمالی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پی کے، شمالی بلوچستان اور کشمیر میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے۔ فیڈرل فلڈ کمشن کے مطابق کوٹری بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آئندہ ایک ہفتے تک برقرار رہے گا۔ دریائے راوی میں آئندہ دو سے تین روز میں نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ فلڈ کمشن کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران گدو اور سکھر کے درمیان بہت اونچے درجے کا سیلاب رہے گا جس سے خیرپور، سکھر، جیکب آباد، لاڑکانہ، دادو، شہید بے نظیر آباد اور نوشہرو فیروز کے مزید نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ کوٹری کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کاسیلاب کے باعث بیراج کا کنٹرول پاک فوج نے سنبھال لیا ہے۔ فلڈ کمشن کے حکام کا کہنا ہے کہ کوٹری بیراج پر آئندہ 24گھنٹے میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو گا جس سے حیدر آباد کے بعد علاقوں، کوٹری اور ضلع ٹھٹھہ کے شہر سجاول اور ملحقہ علاقوں کو خطرہ ہے۔ ادھر عاقل لوپ بند میں پڑنے والا کٹاﺅ 50فیصد بھر دیا گیا ہے۔ ٹھٹھہ میں اب بھی 300سے زائد دیہات ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ متاثرین کھلے علاقوں میں بیٹھے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سیلابی پانی سمندر میں سست روی سے داخل ہو گا تاہم 14ویں کا چاند ہونے کے باعث سمندر میں مدوجزر تیز ہو گا اور پانی واپس لوٹ سکتا ہے جس سے ضلع ٹھٹھہ اور دیگر علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ سیلاب ہزاروں ایکڑ اراضی اور دیگر املاک کو ڈبوتا بحیرہ عرب سے چند گھنٹوں کے فاصلے پر رہ گیا ہے۔ نیوز کانفرنس میں وفاقی وزیر قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ بھارت میں بارشوں سے آبی ذخائر بھر چکے ہیں وہ دریائے ستلج میں کسی بھی وقت پانی چھوڑ سکتا ہے۔ صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ دریا کے نواحی علاقے خالی کرا لیں۔ سیلاب کے خطرے سے آگاہ کرنے والے مرکز کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے کہ دریائے ستلج پر بھاکڑہ ڈیم سے اگلے چھتیس گھنٹے کے دوران پانی چھوڑا جا سکتا ہے جس سے پاکستان میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریا میں سیلاب کا خدشہ ہے۔ دریا کے پار اور کناروں پر رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے سے شاہدرہ پر دریائے راوی میں پانی کا بہاﺅ ایک بار پھر بڑھ سکتا ہے۔ میکلوڈ گنج سے نامہ نگار کے مطابق دریائے ستلج میں بھارت نے کئی گناہ زیادہ پانی چھوڑدیا۔ سندھ کے ریلیف کیمپوں میں خوراک کی عدم فراہمی کے باعث تین سو حاملہ خواتین کی جان خطرے میں پڑ گئی۔ گنداخہ میں اب تک دو سو پکی عمارتیں اور سات ہزار سے زائد کچے مکانات منہدم ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے بے یارومددگار پھنسے ہوئے ہیں۔ نوشہرہ کے علاقے بدرشی میں متاثرین نے عالمی ادارہ خوراک کے سٹور پر حملہ کردیا۔ متاثرین سیلاب کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی جبکہ چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ کامرس رپورٹر/ سٹی رپورٹر کے مطابق دریائے راوی میں پانی کے بہاﺅ میں کمی ہونا شروع ہوگئی ہے۔ منگل کی صبح ریکارڈ کے مطابق شاہدرہ کے مقام پر پیر کی صبح پانی کا بہاﺅ 31 ہزار 800 کیوسک تھا جس میں منگل کی صبح تک ساڑھے چار ہزار کیوسک کمی واقع ہو گئی تھی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ اور گردونواح میں اگلے دو روز تک موسلادھار بارشوں کے امکان سے پانی کی سطح میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بھارت کی طرف سے دریائے راوی میں کوئی اضافی پانی نہیں چھوڑا جا رہا ہے‘وزیر آبپاشی سندھ جام سیف اللہ دھاریجو نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہاکہ آئندہ دو تین دن انتہائی اہم ہیں۔ پانی کی سطح غیرمعمولی بلند ہونے کے باعث دریائے سندھ کے دہانے پر واقع شہروں میں صورتحال کو سختی سے مانیٹر کرنا پڑے گا، انہوں نے کہاکہ رواں ہفتے مکمل چاند ہونے کے باعث پانی کا بہاﺅ تیز ترین ہو گا جس سے شدید سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ چیف میٹریالوجسٹ عارف محمود نے شدید سیلاب کے خطرے کی تصدیق کی ہے۔پاکپتن میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں اضافے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فلڈ وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ دریائے ستلج میں سیلاب کی صورت میں 135دیہات اور ہزاروں ایکڑ فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق محکمہ اریگیشن کے حکام کے مطابق شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی کی سطح کم ہو رہی ہے، ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی کے پانی کی سطح تین نہروں ایم آر لنک، اپر چناب کینال اور کیو بی لنک شامل ہو جانے کی بنا پر پانی کی سطح میں یکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ رودکوہی وہوا کے سیلابی پانی میں بہہ کر جاں بحق ہونے والے مسافروں کی تعداد 22ہو گئی ہے۔ 13مسافر تاحال لاپتہ ہیں۔ دریں اثناءحالیہ سیلاب کے دوران گیسٹرو، ہیضے اور دیگر وبائی امراض سے 78افراد جاں بحق ہو گئے۔ سوات میں 28روز گزرنے کے باوجود بیشتر علاقوں کا زمینی رابطہ بحال نہ ہو سکا، 8لاکھ افراد بدستور محصور ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions