لاہور (آن لائن +این این آئی) پنجاب حکومت نے سانحہ گوجرہ کے حوالے سے جسٹس اقبال حمید الرحمن کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ڈسٹرکٹ ناظم ٹوبہ ٹیک سنگھ میاں عبدالستار سمیت متعدد اعلیٰ پولیس افسروں اوراہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کردی ہے‘پنجاب حکومت کے مطابق ڈسٹرکٹ ناظم میاں عبدالستارکا کیس مقامی حکومت کو فوری معطلی اور متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کے لئے بھیجا جارہا ہے جبکہ آرپی اوفیصل آبادڈی آئی جی احمد رضا طاہر اور ایس ایس پی انکسار خان کو او ایس ڈی بناکر ان کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کرکے انہیں معطل کرنے اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے سابق ڈی سی او ٹوبہ ٹیک سنگھ عمران سکندر کو او ایس ڈی بنادیا گیا ہے اور ان کی خدمات بھی وفاق کے سپرد کرکے کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے‘ڈی ایس پی راجا غلام عباس ،سب انسپکٹر لیاقت ،سب انسپکٹر مشتاق احمد اور اے ایس آئی ابرار کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے ‘حکومت پنجاب کے ترجمان کے مطابق انضباطی اور تادیبی کارروائی کا فیصلہ جسٹس اقبال حمید الرحمان کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے‘ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے مطابق انھیں اس عدالتی کمیشن کی رپورٹ دو ہفتے قبل ملی تھی جس کے بعد خود ان کی اپنی سربراہی میں ایک اعلٰی سطحی کمیٹی بنائی گئی اور اس کمیٹی کی سفارشات کے مطابق پنجاب حکومت نے ان افسران کے خلاف انضباطی کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ انہوں نے بتایا کہ انضباطی کارروائی کا سامنا کرنے والے افسران میں ڈی سی او ٹوبہ ٹیک سنگھ عمران سکندر، ریجنل پولیس آفیسر فیصل آباد ڈی آئی جی احمد رضا طاہر، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ انکسار خان، ایس پی سپیشل برانچ فیصل آباد ضیاء اللہ نیازی، ڈی ایس پی راجہ غلام عباس اور دو سب انسپکٹر شامل ہیں‘انہوں نے بتایا کہ ضلعی ناظم ٹوبہ ٹیک سنگھ میاں عبدالستار کا معاملہ لوکل بورڈ کو فوری معطلی اور قوانین کے تحت کارروائی کرنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے جبکہ صوبے کے افسران کو معطل کر کے آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی بنا دیا گیا ہے‘ اس کے علاوہ وفاقی حکومت سے ڈی سی او عمران سکندر، ڈی آئی جی احمد رضا اور ڈی پی او انکسار خان کی معطلی کی سفارش بھی کی گئی ہے‘ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور کامران مائیکل کا کہناہے کہ حکومت کے اس اقدام سے عیسائی برادری میں اس سانحے کے سبب پیدا ہونے والی رنجشیں اور شکایات ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ این این آئی کے مطابق انکوائری ٹربیونل نے ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے بارے میں لکھا ہے کہ انہیں بھی کسی طرح بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس موقع پر سخت اقدامات کی ضرورت تھی لیکن دونوں نے حالات کو معمول کے مطابق لیا۔ اس سانحہ کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل نے سفارش کی ہے کہ پولیس آرڈر 2002ء میں ایسے سانحات کے لئے قواعد طے کئے جائیں۔
Post New Comment