لاہور (خبر نگار) پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹریوں کو پرانی گاڑیاں دئیے جانے پر اسمبلی میں زوردار بحث ہوئی اور سپیکر رانا اقبال احمد خان نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اس بارے بات اسمبلی کے فلور پر کرنے کی بجائے پارلیمانی میٹنگ میں کی جائے۔ پیپلز پارٹی کی بیگم صغیرہ اسلام نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس نہ تو دفتر ہے اور ایک چھکڑا کار ہے جس پر رانا ثنااللہ نے وضاحت کی کہ گاڑیاں دو تین سال پرانی ہیں اور ان کی مرمت درکار ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سامعہ امجد نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹریوں کو سائیکلیں لے دیں۔ جس پر آواز آئی کہ سائیکل پنکچر ہو چکی ہے۔ سپیکر رانا اقبال نے کہا کہ وہ ایک پارلیمانی سیکرٹری کو جانتے ہیں جس کو اپنی راہ کے تمام مستریوں کے نام تک یاد ہو چکے ہیں۔ جس پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر سپیکر کہتے ہیں تو نئی گاڑیاں خریدی جا سکتی ہیں جس پر سپیکر نے کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔ گاڑیاں ڈھونڈیں اور ڈھونڈ کر دے دیں۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ گاڑیاں دے چکے ہیں۔ اب مزید کیلئے کمیٹی بنا دی جائے۔ پیپلز پارٹی کے حسن مرتضٰی نے کہا کہ صوبے کے حالات ایسے نہیں کہ نئی گاڑیاں خریدی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذمہ داری دی جائے وہ گاڑیاں نکال کر دکھا دیں گے۔
Post New Comment