سوات + پشاور (ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) سوات میں مقامی طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کی فوجی کارروائی میں زخمی ہونے کی اطلاعات کے بعد طالبان کی طرف سے پہلی مرتبہ میڈیا کو ان کی آواز میں ایک پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں مولوی فضل اللہ نے کہا ہے کہ شریعت محمدی کے نفاذ تک حکومت کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘ ترجمان طالبان نے مولوی فضل اللہ کے زخمی ہونے کی سختی سے تردید کر تے ہوئے کہا ہے کہ تمام طالبان قیادت ز ندہ و سلامت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن راہ راست کے دوران 2 شدت پسند جاں بحق اور تین کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے جمعرات کو نامعلوم مقام سے برطانوی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون کر کے موبائل فون میں پہلے سے ریکارڈ شدہ مولوی فضل اللہ کا ایک پیغام سنایا۔بیان میں سینئر وزیر سرحد بشیر احمد بلور، ق لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام، پیپلز پارٹی سوات کے ممبر قومی اسمبلی سید علاؤالدین، اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی وقار خان، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما خان نواب آف شاہ ڈھرئی اور سوات کے علاقے دم غار سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت افضل خان کو معاف کرنے کا اعلان کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے انہوں نے سوات کے عوام کو کم نقصان پہنچایا ہے۔ مسلم خان نے مزید بتایا کہ سوات سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر جنگلات واجد علی سے متعلق فیصلہ طالبان شوری میں زیرغور ہے جس کا آئندہ چند دنوں میں اعلان کر لیا جائے گا۔بیان میں مولانا فضل اللہ نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے بیرونی دنیا سے امداد مانگنے کے لیے مالاکنڈ کے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا اور انہیں کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سوات طالبان کے سربراہ کا یہ پیغام کب ریکارڈ کرایا گیا ہے۔بیان میں مولوی فضل اللہ کی آواز بظاہر کمزور محسوس ہو رہی تھی۔ اس سلسلے میں جب مسلم خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے مولانا فضل اللہ کی فوجی کارروائی میں زخمی ہونے کی سختی سے تردید کی۔ ا نہوں نے کہا کہ فوج کی آرٹلری اور ٹینک ہمیں اپنے مقاصد کے حصول سے نہیں روک سکتے‘ حکومت ڈالروں کے حصول کے لئے آپریشن کر رہی ہے ۔ فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے مسلم خان کا بیان نہیں سنا تاہم انہوں نے کہا کہ فوج کو اطلاعات ملی تھیں کہ فضل اللہ ایک کارروائی میں زخمی ہو گئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سمی کلے‘ دردیال‘ میرا بندرا‘ کمیاری اور ڈاکو بندرا میں سرچ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کے گیارہ ٹھکانے تباہ اور بڑی تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کر لیا۔ ثناء نیوز کے مطابق سوات کے علاقے کانجو میں بارودی سرنگ پھٹنے سے دو بچے جاں بحق ہو گئے جبکہ شاہ ڈھیری میں تلاشی آپریشن کے دوران 9 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سیدو شریف کے علاقے اسلام پور سے شدت پسند کمانڈر ابوبخت بیدار کی نعش برآمد ہوئی ہے جسے فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ دوسری جانب پاک فوج کی متاثرین مالاکنڈ کی بحفاظت واپسی کیلئے کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک 2لاکھ 11ہزار 24 کیش کارڈز متاثرین میں تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ 3ارب 91کروڑ روپے کی رقم متاثرین آپریشن میں تقسیم کی جا چکی ہے ۔
Post New Comment