لاہور (خصوصی نامہ نگار + سٹاف رپورٹر + کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی نے پچیس ایکڑ تک زرعی زمین کے مالک کو زرعی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے اور صوبے کے تمام اضلاع میں ویمن پولیس سٹیشن قائم کرنے کی قراردادوں کو متفقہ طور پر منظور کر لیا جبکہ ارکان پنجاب اسمبلی کے لیے لاہور جم خانہ کلب کی مفت رکنیت دینے سمیت 4 قراردادیں موخر کر دیں جبکہ تین قرار دادوں کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق خالد جاوید اصغر گھرال نے پچیس ایکڑ تک کے مالک کو زرعی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی قرارداد پیش کی۔ دوسری قرار داد طلعت یعقوب نے پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت صوبے کے تمام اضلاع میںویمن پولیس سٹیشن جن میں افسران اور اہلکاروں سمیت تمام ضروری سہولتیں اور عملہ موجود ہو قائم کیے جائیں۔ اسد اشرف کی جانب سے تمام ارکان کو لاہور جم خانہ کلب کی مفت رکنیت دینے کے حوالے سے قرار داد کو سپیکر نے وزیر قانون کی درخواست پرموخر کر دیا۔ ایوان نے مکئی کی برآمد پر پابندی لگانے ، نجی سکولوںمیں بچوں کے ٹرانسپیرنٹ بیگز کی قیمت فکس کرنے‘ سرکاری سکولوں کے طلبہ کو مفت ٹرانسپیرنٹ بیگز فراہم کرنے، پرندوں اور جانوروں کی لڑائی پر پابندی کے حوالے سے قراردادوں کومسترد کر دیا۔ اپوزیشن نے ایک مرتبہ پھر چشمہ جہلم لنک کینال کا پانی بند کرنے اور سندھ کو دو ہزار کیوسک فٹ پانی دینے پر احتجاج کیا اور کہا کہ بتایا جائے کہ سیکرٹری آبپاشی بااختیار ہیں یا وزیر آبپاشی‘ اپوزیشن کے مطالبے پر سپیکر جواب گول کر گئے۔ رانا محمد اقبال نے کہا کہ اگر سیکرٹری آبپاشی نے کوئی فیصلہ کیا ہے تو یقیناً اس میں پنجاب حکومت کی رضا مندی ہو گی۔ محسن لغاری نے کہا کہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کی کونسل یا کابینہ کے ذریعے حل کیا جانا چاہئیے تھا۔ جس وقت سینئر صوبائی وزیر ایوان کو یہ یقین دہانی کرا رہے تھے کہ یہ نہر بند نہیں ہو گی اسی وقت سندھ اور پنجاب کے سیکرٹری آبپاشی پنجاب کی 40لاکھ ایکڑ زمین کے مستقبل پر مہر لگا رہے تھے‘ لگتا ہے کہ ہمارے وزیر کی نسبت سیکرٹری زیادہ طاقتور ہے۔ ثناءاللہ مستی خیل نے کہا کہ نہر چل رہی تھی،نہر بند ہونے سے جنوبی پنجاب کی 50ملین ایکڑ فٹ زمین کا پانی متاثر ہو گا۔ میاں نصیر، آمنہ الفت، سیمل کامران، حسن مرتضی ،نوید انجم اور ماجدہ زیدی نے ضمنی سوالات کرتے ہوئے محکمہ ماحولیات کے پارلیمانی سیکرٹری ایوب گادی سے پوچھا کہ گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا کیا معیار ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ یہ محکمہ 1995میں بنا تھا مگر ابھی تک وفاقی حکومت اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کر سکی۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کااخبارات میں اپنے بارے لگنے والی خبروں کی اشاعت پر تحفظات کا اظہار کیا‘ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر نے میڈیا کو انصاف پر مبنی رپورٹنگ کا جبکہ وزیر قانون نے متعلقہ ارکان کو میڈیا پر تنقید کی بجائے اپنا موقف پریس کانفرنس کے ذریعے واضح کرنے کی ہدایت کر دی۔ ظہیر الدین نے کہا کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب ایک وردی میں ملبوس فوجی ڈکٹیٹر سپیکر کی کرسی پر بیٹھا وہ بھی ایک روایت تھی لیکن دیکھنا ہے کہ کس روایت کو جاری اور کس کو ختم کیا جاتا ہے جس پر ڈپٹی سپیکر رانا مشہود نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کو فوجی ڈکٹیٹر کی روایات سے منسوب کرنا درست نہیں۔ رانا ثناءاللہ خان نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سرانجام دینے پر سپیکر سے اسمبلی ملازمین کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کی سفارش کر دی‘ ڈپٹی سپیکر کی طرف سے بھی حمایت کی گئی۔ شیخ علاﺅالدین الزام عائد کیاکہ محکمہ جنگلات کی غفلت کے باعث چھانگا مانگا کا جنگل تباہ ہو گیا ہے اور اگر وہ اس کی تباہی کو ثابت نہ کرسکے تو اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں گے انہوںنے یہ بات پنجاب میں جنگلات سے متعلق اپنی تحریک التواءکے حوالے سے رانا ثناءاللہ کی جانب سے جواب پر کہی۔ انہوںنے کہا کہ چھانگامانگا کی اراضی دانش سکول کو دی گئی ہے، رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ جس جگہ کو عمارت کے لیے مخصوص کیا گیا ہے وہاں کوئی درخت نہیں کاٹا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مری میں سترہ ہاﺅسنگ سوسائیٹیز کو جعلی قرار دیا گیا ہے اور محکمہ مال ان کی تفصیلی جانچ پڑتال کے لیے کام کر رہا ہے جو پندرہ مارچ تک حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کر دیں گی ۔
Post New Comment