اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + مانیٹرنگ ڈیسک + اے پی پی) پاکستان نے خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر ہونے والی بات چیت کو بچانے کیلئے بھارتی مطالبہ مانتے ہوئے نئی دہلی جانے والے 8 رکنی وفد میں تبدیلی کر دی ہے۔ پاکستانی وفد میں اب وزارت پانی و بجلی اور وزارت داخلہ کے نمائندے نہیں ہوں گے۔ ان کی جگہ دفتر خارجہ کے دو ڈائریکٹروں کو شامل کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی دفتر خارجہ اور بھارتی دفتر خارجہ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت سے صرف ایک روز قبل بھارت نے وفد میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ ایک تاثر یہ بھی تھا کہ اب بھارتی رویہ کی وجہ سے سیکرٹری خارجہ کا دورہ نئی دہلی ممکن ہی نہیں ہو سکے گا لیکن پاکستان نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفد میں تبدیلی کردی۔ یہ امر قابل ذکر ہے‘ خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر بات چیت کی پیش کش قبول کرنے کے بعد پاکستان نے اپنے وفد کی ہیئت ترکیبی سے بھی بھارت کو آگاہ کر دیا تھا لیکن بھارت نے اس وقت کوئی اعتراض کرنے کی بجائے بات چیت سے عین پہلے یہ رکاوٹ کھڑی کردی۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ بات چیت کل 25 فروری کو نئی دہلی میں ہو گی۔ پاکستان نے بھارتی دباو پر خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات سے صرف ایک روز قبل وفد میں تبدیلی کر دی ہے۔ پاکستانی وفد میں وزارت پانی و بجلی اور وزارت داخلہ کے نمائندوں کی غیر موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیان بامقصد اور نتیجہ خیز ہونے کا امکان کم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ نرو پماراو نے پاکستانی ہم منصب سلمان بشیر کو ملاقات کی دعوت کے موقع پر واضح طور پر اشارہ دیا تھا کہ بھارت آبی تنازع سمیت تمام مسائل پر بات کرنے کا خواہاں ہے تاہم پاکستان کی جانب سے وفد کی تشکیل کے بعد حکومت نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے وفد میں تبدیلی کے لئے پاکستان پر دباو ڈالا۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق بھارتی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی وفد میں تبدیلی کی خبر غلط اور بے بنیاد ہے‘ بھارت نے پاکستانی وفد میں تبدیلی کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ اے پی پی کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ بھارت نے خارجہ سیکرٹریوں کی بات چیت کیلئے پاکستانی وفد میں کسی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اس طرح کی بے بنیاد افواہ کس نے اڑائی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہر ملک کا یہ استحقاق ہے کہ وہ بات چیت کیلئے اپنے وفد کے ارکان کا انتخاب کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد دفتر خارجہ کے بعض اعلیٰ افسران پر مشتمل ہو گا جس کی قیادت سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کریں گے۔ بھارت نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستانی وفد میں وزارت پانی و بجلی اور داخلہ کے نمائندوں کو شامل نہ کیا جائے‘ اب پاکستان کا آ ٹھ رکنی وفد بات چیت کے لئے بھارت جائے گا اور وزارت پانی و بجلی اور داخلہ کے نمائندوں کو نئی دہلی نہ لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر‘ ترجمان دفتر خارجہ عبالباسط‘ وزارت خارجہ کے دو ایڈیشنل سیکرٹریز‘ ڈی جی اور تین ڈائریکٹرز بھارت جائیں گے۔ تاہم ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط نے کہا ہے کہ بھارت نے مذاکرات کے لئے جانے والے پاکستانی وفد میں تبدیلی کا مطالبہ سرکاری سطح پر نہیں کیا۔ وقت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت وفد کی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کو ڈکٹیشن نہیں دے سکتا‘ بھارت نے پاکستانی وفد میں تبدیلی کے حوالے سے سرکاری طور پر آگاہ نہیں کیا‘ پہلے بھی آٹھ رکنی وفد نے بھارت جانا تھا اب بھی آ ٹھ رکنی وفد بھارت جائے گا۔ بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ صرف دوطرفہ بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش بھی مسترد کر دی۔ ثناءنیوز کے مطابق نروپماراو نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر دوطرفہ مذاکرات ہی ہونے چاہئیں۔ نروپماراو کے مطابق افغانستان جیسے اہم ملک میں بھارتی دلچسپی سے انکار نہیں کیا جا سکتا‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت باہمی تحفظات دور کر کے بامقصد مذاکرات شروع کر سکتے ہیں۔
Post New Comment