بلیک واٹر سمیت اہم امور پر سفارشات دیں‘ وزارت داخلہ کا رویہ مجرمانہ ہے : حکومتی رکن

ـ 24 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک التوا پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکان نے کہا کہ حکومت کو پانی کے مسئلے پر کمزوری نہیں دکھانی چاہئے۔ کشمیر اور پانی کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے مذاکرات کے ایجنڈے پر نہیں۔ پاکستان کو ایسے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں۔ خارجہ پالیسی ناکام ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے‘ حکومتی رکن اور چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کمیٹی نے بلیک واٹر سمیت دیگر اہم معاملات پر اپنی سفارشات دی ہیں لیکن وزارت داخلہ کا رویہ مجرمانہ ہے۔ مسلسل غفلت جاری ہے۔ وزارت داخلہ نے مجرمانہ رویہ نہ بدلا تو حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔ پاسپورٹ مشینیں خراب پڑی ہیں وزارت داخلہ کچھ نہیں کر رہی۔ اے این پی کی بشریٰ گوہر نے کہا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ ججوں کے معاملے پر حکومت کو گمراہ کرنے والے مشیروں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔ اس سے قبل جھنگ میں وزیر قانون پنجاب کی موجودگی میں نامناسب الفاظ استعمال کئے جانے پر شدید تنقید کی گئی جس پر مسلم لیگ (ن) کے رکن آفتاب شیخ نے یہ معاملہ پنجاب حکومت کے ساتھ اٹھانے اور تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ایوان میں مجموعہ ضابطہ فوجداری ترمےمی بل دو ہزار دس‘ مجموعہ ضابطہ دیوانی بل دو ہزار دس اور عورتوں کی تجارت کے امتناع اور انضباط کا بل 2010ءپیش کئے گئے جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سنجیدہ ہے تاہم بعض ارکان کی غیر سنجیدگی کے حوالے سے انہیں بھی شکایات ملی ہیں‘ اس وجہ سے پوری پارلیمنٹ کو غیر سنجیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ظفر بیگ بیٹنی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بعض ارکان کا رویہ غیر سنجیدہ ہوتا ہے۔ اسی لئے وزیراعظم اور نوازشریف کے درمیان تھنک ٹینک بنانے پر اتفاق ہوا‘ ہم سنجیدہ ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے خوش بخت شجاعت کے مطالبہ پر کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں خواتین ارکان کے لئے لیڈی ڈاکٹر اور نرس کا اہتمام ہونا چاہئے۔ جمشید دستی نے کہا کہ پنجاب بھر میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین احتجاج کر رہے ہیں انہیں مستقل نہیں کیا جا رہا ہے‘ تعلیمی بورڈز کے ملازمین کے احتجاج سے بچوں کے امتحانات خطرے میں ہیں۔ اکرم مسیح نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں سے توہین آمیز سلوک ہو رہا ہے‘ ہمارے نبیؑ کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے پر اقوام متحدہ کو کارروائی کرنی چاہئے۔ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں وزرا کی عدم موجودگی پر شدید احتجاج کیا ظفر بیگ نے کہا کہ ارکان اور وزرا ایوان میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں نہ ہی ارکان کمیٹیوں میں سنجیدہ ہوتے ہیں جس پر سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ چند ارکان کا رویہ سنجیدہ نہیں۔ اپوزیشن ارکان نے نکتہ اعتراض پر حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تو سید خورشید شاہ نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کا پانی روک لیا ہے یہ اہم معاملہ ہے۔ پانی کی قلت اور آبی جارحیت کے خلاف قومی اسمبلی سے قرارداد منظور کرائی جائے گی۔ ارکان نے کہا کہ ایجنڈا کے مطابق ایوان کی کارروائی چلائی جائے۔ ارکان قومی اسمبلی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت کی وجہ سے پاکستان کے لہلہاتے کھیت بنجر ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی حکومت نے اتنے اہم مسئلہ پر توجہ نہیں دی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ایم این اے پرویز خان نے کہا کہ صوبہ سر حد کو اس کے حصے کا پانی نہیں مل رہا جس کے باعث صوبے کی زراعت برے طریقے سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ایم این اے خالدہ منصور نے کہا کہ ماہرین کے نزدیک پاکستان کے پاس بھارت کے ساتھ آبی تنازعات طے کرنے کیلئے صرف پانچ برس کی قلیل مدت ہے۔ پاکستان کے لہلہاتے کھیت بنجر ہو جائیں گے۔ عالمی سطح پر یہ معاملہ اٹھایا جائے۔ جسٹس (ر) فخرالنساءکھوکھر نے کہا بھارت کے ایسے ہی اقدامات کے خلاف پورا بنگلہ دیش سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ پاکستان میں کھبی آبی ذخیرہ گاہیں بنانے کا سوچا ہی نہیں گیا۔ وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ حکومت ملک میں طب یونانی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے‘ پاکستان میں ایک لاکھ افراد کے لئے صرف 74ڈاکٹر دستیاب ہیں اس وجہ سے عطائیت فروغ پا رہی ہے۔ نکتہ اعتراض پر وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ کسی ملازم کو بےروزگار نہیں کیا جائے گا‘ سرکاری اداروں میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنا ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و اقتصادی امور حنا ربانی کھر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران عالمی منڈی میں چینی کی قیمت میں 110فیصد اضافہ ہوا‘ مقامی سطح پر حکومتی اقدامات کے باعث صرف 70فیصد اضافہ ہوا، رواں مالی سال کی پہلی دو سہ ماہیوں کے دوران بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح 23فیصد رہی۔ افراط زر 10.7فیصد ہے حکومت کو ادراک ہے کہ افراط زر میں اضافہ سے غریب عوام بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ پے اینڈ پنشن کمشن کی سفارشات مارچ تک حکومت کو موصول ہو جائیں گی۔ نکتہ اعتراض پر پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمن نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کا سو موٹو نوٹس لیں۔ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کی سرپرستی تشویشناک ہے، کشمیر ڈے پر ان تنظیموں کو جلسے کرنے کا کوئی حق نہیں تاہم انہوں نے سیاسی جماعتوں کے برابر جلسے کئے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے رکن انجینئر امیر مقام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹروں کی تقرری کی بجائے بلدیاتی انتخابات کا فوری اعلان کرے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions