کریک ڈاﺅن میں سینکڑوں گرفتار‘ بورڈ ملازمین کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان

ـ 24 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور + فیصل آباد (خصوصی نامہ نگار + وقائع نگار خصوصی + نامہ نگاران) پنجاب بورڈز ایمپلائز فیڈریشن نے صوبے کے تمام ثانوی و انٹرمیڈیٹ تعلیمی بورڈز میں 10 فروری سے جاری قلم چھوڑ ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایمپلائز فیڈریشن پنجاب بورڈز کے سیکرٹری جنرل مہر محمد بشیر کے دستخطوں سے جاری کئے گئے ایک بیان کے مطابق سرگودھا میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد تعلیمی بورڈز کے ملازمین کی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے پنجاب بورڈز فیڈریشن کو یقین دہانی کرائی گئی کہ تعلیمی بورڈز کے تمام گرفتار ملازمین رہا کر دئیے جائیں گے‘ بورڈ ملازمین کو جاری کئے گئے شو کاز نوٹس فوری طور پر واپس لے لئے جائیں گے اور حکومت پنجاب تعلیمی بورڈز ملازمین کے تمام جائز مطالبات کا ہمدردانہ جائزہ لے گی۔ بیان کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی محترمہ طیبہ ضمیر نے ہڑتال ختم کرانے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قبل ازیں ہڑتال کرنے والے بورڈ ملازمین کا دفاتر میں داخلہ بند کر کے سینکڑوں ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا۔ ڈیرہ غازی خان میں یونین کے صدر اشرف شاد اور ان کے بھانجے سمیت 100 سے زائد ملازمین سرگودھا میں پولیس نے تعلیمی بورڈ کے 14 ہڑتالی ملازمین کو گرفتار کر لیا۔ جس کے بعد 150 ملازمین نے گرفتاری پیش کر دی‘ کچھ دیر بعد پولیس نے تمام افراد کو رہا کر دیا۔ لاہور بورڈ کے دفاتر کو بھی تالے لگا کر احتجاج کرنے والے ملازمین کے لئے بند کر دیا گیا تاہم ملازمین نے تالے توڑ دئیے۔ گوجرانوالہ میں بھی تعلیمی بورڈ ایمپلائز یونین کے صدر بشیر چیمہ سمیت بورڈ کے 5 ملازمین کو گرفتار کیا گیا۔ ملتان بورڈ میں ملازمین کو دفاتر سے نکال کر تالے لگا دئیے گئے۔ پولیس نے 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی تو تقریباً ڈیڑھ سو ملازمین نے گرفتاری پیش کر دی۔ ملتان میں ایمپلائز یونین کے 13 ارکان کیخلاف 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بہاولپور میں بھی احتجاج ہوا۔ فیصل آباد بورڈ کے ہڑتالی ملازمین کو دفاتر سے باہر نکال کر بورڈ انتظامیہ نے اپنے تالے لگا دیئے پولیس نے نائب صدر ذوالفقار علی کو گرفتار کر لیا۔ بورڈ ایمپلائز فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین خالد جاوید نیازی سمیت دیگر قیادت روپوش ہو گئی‘ بورڈ ملازمین نے متعلقہ ریکارڈ چھپا دیا۔ دریں اثناءپنجاب حکومت نے احتجاج کرنے والے بورڈ ملازمین کی نظربندی کے احکامات جاری کر دئیے۔ دوسری طرف بورڈ ملازمین نے راہنماﺅں کی گرفتاریوں اور پنجاب حکومت کے کریک ڈاﺅن کے خلاف شدید احتجاج کیا اور بورڈ کے سامنے پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بورڈ ملازمین کی گرفتاریاں پنجاب حکومت کو مہنگی پڑیں گی گرفتار ملازمین کو فوری رہا کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے مسئلہ کے حل کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے چیئرمین ذوالفقار کھوسہ نے کہا ملازمین حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہونگے۔ ممبر کمیٹی مجتبیٰ شجاع نے کہا کہ بورڈز کو 70 کروڑ کی گرانٹ کے اجرا کیلئے سمری وزیر اعلیٰ کو بھیج دی جو منظور ہونے پر فنڈز جاری کر دئیے جائیں گے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions