آئین پر عملدرآمد نہ ہو تو منتخب شخص کو عہدہ سے ہٹایا جا سکتا ہے : جسٹس جاوید اقبال

ـ 24 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (جی این آئی + مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے شہباز شریف اہلیت کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ آئین پر عملدرآمد نہ ہو تو منتخب شخص کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی‘ اٹارنی جنرل انور منصور نے اپنے دلائل میں کہا کہ شہباز شریف کو پنجاب اسمبلی کی دوسری نشست پر امیدوار بننے کے بعد پہلی نشست سے حلف نہیں اٹھانا چاہئے تھا‘ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے تشریح ہونی چاہئے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بہتر یہ ہوتا کہ شہباز شریف بھکر کی نشست سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد وزارت اعلی کا حلف نہ لیتے یا وہ الیکشن کمشن کو اطلاع کر دیتے اور راولپنڈی کی نشست سے انتخاب نہ لڑتے۔ آئین کے مطابق ایک رکن اسمبلی اگر دوسری نشست سے انتخاب لڑتا ہے تو کامیابی کی صورت میں اس کی پہلی نشست خالی ہو جاتی ہے لیکن شہباز شریف نے رکن اسمبلی کے طور پر راولپنڈی کی نشست سے الیکشن نہیں لڑا تھا۔ وہ عام شہری کے طور پر امیدوار تھے جسٹس جاوید اقبال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئین پر عملدرآمد نہ ہو تو منتخب شخص کو اس کی نشست سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ شہباز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ شہباز شریف نے راولپنڈی اور بھکر سے الیکشن لڑا تھا ان پر آئین کے آرٹیکل 223 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسی طرح کا ایک مقدمہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی زیر التوا ہے جس پر جسٹس جاوید اقبال نے درخواست گزار شاہد اورکزئی کو ہدایت کی کہ وہ لاہور ہائیکورٹ میں اپنا مقدمہ ختم کرائیں اور سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کرائیں کہ کسی اور عدالت میں اس نوعیت کا کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شہباز شریف کیس کا فیصلہ جلد از جلد کرنا چاہتے ہیں بعدازاں سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions