چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربرا ہی میں سپریم کورٹ کےسترہ رکنی بینچ نےاٹھارہویں ترمیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت جاری رکھی ۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کواپنی آزادی کا دفاع بھرپور انداز میں کرنا چاہئیے اور کسی بھی سطح پرعدالتی امور میں انتظامی مداخلت نہیں ہونی چائییے۔ انتظامیہ کا ججوں کی تعیناتی میں جتنا زیادہ عمل دخل ہوگا اتنی ہی زیادہ خرابی ہوگی اور یہ عدلیہ کی آزادی سے متصادم ہوگا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ بھی آئین کی پیداوار ہے اس لیے وہ آئین سے باہر نہیں جا سکتی ، ہرادارے کو اپنے دائرہ کار میں رہنا ہوگا ۔ ہمیں تو یہ دیکھنا ہوگا کہ عوام کس کو زیادہ بااختیار سمجھتے ہیں ۔ جسٹس ثاقب نثار نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ انتظامیہ کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے کیونکہ قوائد و ضوابط بھی اسے ہی بنانا ہوتے ہیں اس لئے انتظامی کردار کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے ۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری نے کہا کہ انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے تمام جوڈیشل افسران اور ججوں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ عدالت میں موجود اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے اپنے جواب الجواب کے دلائل تحریری شکل میں عدالت میں پیش کیئے اورعدالت سے یہ استدعا کی کہ وہ عمرے پر جانا چاہتے ہیں اس لئے ان کے تحریری دلائل کو قبول کیا جائے عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔
Post New Comment