لاہور (ندیم بسرا سے / نیوز رپورٹر) عالمی مالیاتی اداروںکے دباو پر ملک کے اندر کالاباغ ڈیم جیسے قابل عمل پراجیکٹ کو سیاست کی نذر کر دیا گیا تاکہ آئی پی پییز اور رینٹل پاور پلانٹس کو پاکستان کے اندر زیادہ متحر ک کیا جائے۔ وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلی حکومتی عہدیداروں نے ستمبر 2009 میں ایک غیر ملکی دورے میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے سربراہان کو یہ یقین دہانی کراوئی تھی کہ کالاباغ ڈیم منصوبے پر کام شروع نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق دنیا میں پرائیویٹ شعبے میں بجلی پیداکرنے کے کاروبار میں زیادہ تر سرمایہ کاری 72 فیصد یہودیوں کی ہے اور ان کے ایجنٹس کے ذریعے ہی عالمی دباﺅ پر راجہ پرویز اشرف کے احکامات پر واپڈا ور پیپکو نے کالاباغ ڈیم منصوبہ مکمل طور پر ختم کر دیا تھا ۔جس سے اس منصوبے پر کام کرنے والے 2385 انجینئرز و دیگر عملے کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔ واضح رہے کہ واپڈا نے 1990 میں 1900 انجیئنرز،سپر وائزر،سروے اپ گریڈیشن اہلکاراوں کو اس منصوبے پر کا م تیز کرنے کی ذمہ داری دی تھی جنہوں نے 2001 تک اس پر کام کیا اور 4 مختلف فزیبلٹی کنسلٹنٹس سے اس پر فزیبلٹی بھی کروائی۔ ذرائع کے مطابق کالاباغ ڈیم کی فزیبلٹی، واپڈا ملازمین کی تنخواہوں، سڑکوںکی تعمیر پر 80 ارب روپے خرچ ہو چکے تھے پہلے مرحلے کے طور پرواپڈا ہاﺅس اور سنی ویو میں اس کے 18شعبے ختم کیے اور انجینزز کو دوسرے شعبے کی ذمہ داریاں دے دی گئیں۔ انسٹی ٹیو یشن آف انجیئنرز پاکستان کے سیکرٹری امیر ضمیر کا کہنا ہے کہ کالاباغ ڈیم منصوبہ سب سے قابل عمل ہے اسے 5 برس میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
Post New Comment