سیالکوٹ + گوجرانوالہ + لاہور (نامہ نگار + سپیشل رپورٹر + ریڈیو مانیٹرنگ + ایجنسیاں) کمشنر اور آر پی او گوجرانوالہ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کمشنر گوجرانوالہ ہاشم ترین کو او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ سید اقبال واہلہ کو کمشنر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا ہے۔ ایم ڈی پنجاب ٹورازم سعید واہلہ کو کمشنر گوجرانوالہ تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا جبکہ حکومت پنجاب نے آر پی او گوجرانوالہ رینج ڈی آئی جی چودھری ذوالفقار احمد چیمہ کو تبدےل کر کے ڈی آئی جی طارق مسعود یاسین کو آر پی او گوجرانوالہ رینج تعےنات کر دیا ہے جبکہ تبدےل ہونے والے آر پی او چودھری ذوالفقار احمد چیمہ کو ڈی آئی جی ویلفیئر لاہور تعےنات کر دیا گےا ہے۔ جبکہ سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ بات ترجمان حکومت پنجاب نے بتائی ہے۔ اس سے پہلے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وقار چوہان کو ان کے گھر پر نظربند کر دیا گیا ہے۔ جبکہ پولیس کی موجودگی میں وحشیانہ تشدد سے ہلاک ہونے والے 2 بھائیوں کے والدین نے پولیس کی تحقیقاتی ٹیم پر عدم اطمینان کا اظہار کر دےا ہے۔ والدین کے مطابق انہیں پولیس کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد ہے نہ وہ اس تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کریں گے۔ والدین کے مطابق انہیں سپریم کورٹ کی قائم کردہ جوڈیشل انکوائری کمیٹی پر اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی اس کمیٹی سے مکمل تعاون کریں گے جبکہ مقدمہ میں گرفتار 14 ملزموں اور 7 پولیس اہلکاروں کو تفتیش کےلئے تھانہ کینٹ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان ملزمان کی ملاقات پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے جبکہ مزید 4 ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چودھری کی طرف سے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے مقرر کردہ ریٹائرڈ سیشن جج و ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب ملک کاظم نے سانحہ کی تحقےقات کے دوران مزید 72 افراد کے بےانات ریکارڈ کر لئے ہیں۔ واقعہ کے حوالے سے بےانات قلمبند کروانے والوں میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ کے سینئر وکیل چودھری صفدر بٹر اور موضع بٹر کے رہائشی دیگر مرد و خواتےن شامل ہیں جنہوں نے جوڈیشل کمشن کے سامنے پیش ہوکر حلف پر بےانات ریکارڈ کروائے اور تفصےلات سے آگاہ کیا۔ بےانات قلمبند کروانے کا سلسلہ (آج) 24 اگست کو بھی جاری رہے گا۔ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ایک بیان میں کہا کہ یہ تشدد کا انتہائی شرمناک اور ظالمانہ واقعہ ہے۔ اس طرح کے واقعات معاشرے کیلئے انتہائی تشویش کا باعث ہیں اور قانونی ذرائع سے ان کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ سپیکر نے کہا کہ اس سنگین جرم میں ملوث افراد انسانیت کے قاتل ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں ہو گی۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں گرفتار چودہ ملزمان کے خلاف دہشت گردی اور قتل کا مقدمہ درج ہے جبکہ گرفتار اے ایس آئی سرفراز سمیت سات پولیس اہلکاروں کے خلاف واقعہ کو روکنے میں ناکامی، اختےارات کا ناجائز استعمال اور غفلت و لاپروائی پر علیحدہ مقدمہ درج ہے۔ سیالکوٹ کے نئے ڈی پی او بلال صدےق کمیانہ کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور تفتےش بھی میرٹ پر ہو گی جس میں کسی قصوروار سے کوئی رعاےت نہیں ہو گی۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت کی ڈی آئی جی مشتاق سکھےرا کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ٹیم نے 2 بھائیوں کے قتل کی تحقیقات شروع کر دیں‘ واقعہ کی تفصےلات سمیت اہم شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں جس کے تحت وحشیانہ تشدد کے موقعہ پر تشدد کا نشانہ بنانے اور موقعہ پر موجود افراد کی شاخت کیلئے نادرا نےشنل ڈےٹابےس اینڈ رجسٹرےشن اتھارٹی سے بھی رابطہ کر لیا گےا ہے جبکہ مفرور پولیس انسپکٹر رانا محمد الیاس کی بیرون ملک فراری روکنے کیلئے ملزم کا نام ای سی ایل میں شامل کردیا گےا ہے۔ ڈی آئی جی مشتاق سکھےرا کی سربراہی میں قائم کردہ جائنٹ انویسٹی گےشن ٹےم سات روز میں اپنی تحقےقات مکمل کرے گی۔ مشتاق سکیھرا نے مقتول بھائیوں کے والدین سے ملاقات کی اور ان کا موقف معلوم کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث کسی فرد سے رعایت نہیں کی جائے گی۔ مقتول بھائیوں کے والدین نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں سابق ڈی پی او وقار چوہان نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے نظربندی کے احکامات لینے سے انکار کر دیا اور نظربندی سے بچنے کیلئے راولپنڈی فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ فرار نہیں ہوئے بلکہ اپنے والدین سے ملنے راولپنڈی گئے ہیں۔ جی این آئی کے مطابق وحشیانہ تشدد سے ہلاک ہونے والے بھائیوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بعض راہگیروں نے ظالموں کا ہاتھ روکنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ایسا نہ ہونے دیا۔ شہر کی مصروف شاہراہ پر ہولناک تشدد سے قتل ہونے والے بھائیوں منیب اور مغیث کے چچا کا کہنا ہے کہ ان کے بھتیجوں کا ملزمان سے کرکٹ پر جھگڑا ہوا جس پر ملزمان نے انہیں گراونڈ میں کھیلنے سے منع کیا لیکن وہ وقوعہ کے روز بھی کھیلنے چلے گئے۔ منیب اور مغیث کے والد کا کہنا ہے کہ انہیں اور ان کے بیٹوں کی روحوں کو سکون تب ہی ملے گا جب ملزمان کو بھی اسی چوک میں سزا دی جائے۔ منیب اور مغیث کے اہل محلہ کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی نیک تھے اور انہیں کبھی کسی منفی سرگرمی میں حصہ لیتے نہیں دیکھا۔ ریڈیو نیوز کے مطابق حکومت پنجاب کے ترجمان نے رات 8 بجے اعلان کیا کہ سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان کو حراست میں لے لیا گیا ہے لیکن وہ رات ساڑھے نو بجے سیالکوٹ واپس پہنچ گئے اور انہی سرکاری گاڑی جس کے ساتھ حفاظتی پولیس بھی موجود تھی سیالکوٹ میں ان کے گھر چھوڑ کر گئی انہوں نے بتایا کہ وہ گرفتار نہیں ہوئے اور وہ اپنے والدین سے ملنے راولپنڈی گئے ہوئے تھے جہاں سے اب سیالکوٹ واپس آئے ہیں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی نظربندی کے احکامات موصول ہوگئے ہیں۔آن لائن کے مطابق پولیس نے سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان کوحراست میں لے کران کے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے‘ پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق معطل ڈی پی اوکو نظر بندی کے احکامات بھی دکھائے گئے‘ سانحہ سیالکوٹ میں معطل ڈی پی او وقار چوہان کرحراست میں لیے جانے کے بعد پولیس اہلکاروں سمیت 18 ملزموں کو بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کے لیے ان کے نام ای سی ایل میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے ای سی ایل میں شامل کیے جانے والے ناموں میں سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار چوہان کا نام بھی شامل ہے۔ آئی این پی کے مطابق سفاکانہ قتل ہونیوالے بھائیوں کی والدہ نے کہا ہے کہ بچوں کو مارنے والوں کو چوک پر لٹکایا جائے، مجھے انصاف چاہئے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے بچوں کو عدالت میں نہیں لے جایا گیا لہٰذا حکومت ملزمان کو عدالت میں نہ لے جائے جبکہ اے این پی سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے ترجمان شاہد پرویز رشید نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 2 روز میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ ہجوم میں شامل افراد کے ساتھ بھی قاتلوں جیسا سلوک کیا جائیگا۔ مانیٹرنگ نیوز کے مطابق سابق ڈی پی او سیالکوٹ نے کہا کہ نظربندی کے احکامات وصول کرلئے ہیں۔
Post New Comment