بھارت نے ستلج میں اضافی پانی چھوڑ دیا ۔۔ تونسہ : بس ریلے میں بہہ گئی‘ 20 مسافر جاں بحق‘ 30 لاپتہ‘ ٹھٹھہ کے مزید 300 دیہات زیرآب

ـ 24 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور+ قصور+ سکھر+جعفر آباد (نامہ نگاروں سے+مانیٹرنگ نیوز+ایجنسیاں) بھارت نے اچانک دریائے ستلج میں کئی گنا اضافی پانی چھوڑ دیا ہے جس سے پنجاب کے درجنوں دیہات زیرآب آنے کا خدشہ ہے۔ متعدد علاقوں میں دریائے راوی میں ہلکے درجے کا سیلاب ہے۔ دوسری جانب سندھ میں عاقل لوپ بند پر کٹاﺅ سے 60 فٹ حصے سے مٹی بہہ گئی۔ بند ٹوٹنے سے لاڑکانہ کو شدید سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ سیلاب سے ضلع ٹھٹھہ کے مزید 300 سے زائد کچے کے دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ بلوچستان کے علاقے گنداخہ میں نیا ریلا داخل ہوگیا ہے جس سے 15 دیہات ڈوب گئے۔ ڈیرہ الہ یار، روجھان جمالی میں پانی کی سطح مزید بلند ہوگئی۔ راجن پور کے قصبہ شکارپور کے بند میں شگاف پڑنے سے 15 دیہات زیرآب آگئے تونسہ کے قریب خادبزدار میں مسافر بس ریلے سے الٹ گئی۔ بس کے 20 مسافر جاں بحق اور 30 سے زائد مسافر لاپتہ ہیں۔ 25 کو بچا لیا گیا ہے۔ وہوا سے نامہ نگار کے مطابق بس کراچی سے پشاور جا رہی تھی وہ کچے کے راستے سے تل رودکوہی کی آبی گزر گاہ عبور کر رہی تھی کہ ریلے کی زد میں آ کر الٹ گئی مشتعل افراد نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے احتجاج کیا۔ سیلاب ٹھٹھہ میں تباہی پھیلا رہا ہے سجاول کے زیرآب آنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ شہدادکوٹ کو بچانے کی کوششیں غیر موثر ہوگئیں اور درجنوں دیہات زیر آب آگئے۔ دریائے سندھ کا سیلاب ملک بھر میں تباہی پھیلانے کے بعد کوٹری سے ہوتا ہوا اب ٹھٹھہ کے علاقوں میں تباہی پھیلا رہا ہے۔ آر بی او ڈی کینال کا بند ٹوٹنے سے پانی کے بی فیڈر میں داخل ہوگیا۔ راجو نظامانی سمیت کئی دیہات زیر آب آگئے۔ جامشورو کے گاﺅں بڈھاپور میں چار افراد ریلے میں ڈوب گئے۔ دریائے سندھ میں بڑا ریلا گدو اور سکھر بیراج سے ہوتا ہوا کوٹری بیراج پہنچ رہا ہے۔ سکھر اور گدو بیراج پر پانی کی سطح میں کمی آئی ہے۔ گدو بیراج پر پانی کی آمد 7 لاکھ 89 ہزار اور سکھر بیراج پر پانی کی آمد 8 لاکھ 92 ہزار کیوسک ہے۔ ٹھٹھہ میں دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر کچے کے علاقے میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ سمندر جوار بھاٹا کے باعث دریا کا پانی قبول نہیں کر رہا۔ ٹنڈو حافظ شاہ، کیٹی کھوسو اور اسحاق دل کے بعد راجو نظامانی بھی زیر آب آگیا۔ پانی کا ریلا آر بی او ڈی کینال سے کینجھر جھیل کی طرف رخ کرگیا جہاں پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔ ٹنڈو محمد خان میں ملاکا بند سے 7 لاکھ 98 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ انڈس ہائی وے پر حفاظتی بند میں شگاف پڑنے سے گاﺅں محمد یوسف مگسی، عید محمد درائی، لطیف چانڈیو اور کنل خان چانڈیو زیرآب آگئے۔ پانی کے دباﺅسے پانچ عارضی واٹر کورس کے دہانے چوڑے ہوگئے۔ شہداد کوٹ کی 95 فیصد آبادی نقل مکانی کر گئی ہے۔ لاڑکانہ میں سیری، جونیجو اور گاجی ڈیرو کے حفاظتی پشتوں سے رساﺅجاری ہے۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت رساﺅبند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آمری اور سن کے قریب مرکزی ریلوے ٹریک زیر آب آنے کے بعد لاڑکانہ کا کراچی سے براہ راست ریل رابطہ منقطع ہوگیا۔ دوسری جانب سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض اور دیگر واقعات میں بچوں اور خواتین سمیت انتالیس افراد جاں بحق ہوگئے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ کندھ کوٹ اور گرد و نواح میں گیسٹرو سے 10 معصوم بچوں سمیت 20 افراد جاںبحق ہو گئے سبی ریلیف کیمپ میں 4 بچے جاں بحق ہوئے‘ 80 افراد ہسپتال منتقل کئے گئے۔ ادھر سب سے بڑا آبی ذخیرہ تربیلا ڈیم پانی سے لبالب بھر گیا ہے۔ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1550 فٹ تک ہے جو اپنی آخری سطح پر پہنچ گئی ہے۔ گلگت بلتستان کا ملک کے دیگر علاقوں سے 27 روز گزر جانے کے بعد بھی زمینی رابطہ بحال نہیں ہوسکا جس کے باعث گلگت بلتستان میں اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے۔ دریائے سندھ میں آنے والا ریلا اپنی آخری منزل بحیرہ عرب کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دریائے راوی کے معاون نالوں میں پانی کا بہاو بڑھ گیا ہے تاہم ڈی سی او لاہور کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں۔ دریائے راوی کے جن نالوں میں پانی کے بہاو میں اضافہ ہوا ہے ان میں نالہ بئیں، ڈیک، جھجری، اوجھ اور کھتر شامل ہیں۔ کمالیہ سے نامہ نگار کے مطابق دریائے راوی میں ہلکے درجے کے سیلاب کے کٹاو نے سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ کر دیں۔ کھڈیاں خاص سے نامہ نگار کے مطابق بھارت نے دریائے ستلج کے دو مزید در کھول دئیے۔ عطر سنگھ والہ کے قریب درجنوں دیہات زیرآب آنے کا خدشہ ہے اور نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔ مال مویشی محفوظ مقام پر پہنچائے جا رہے ہیں۔ عطر سنگھ والا میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیا گیا ہے۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق ڈی سی او شیخوپورہ علی سرفراز کی ہدایت پر سیکٹر انچارج چودھری رفاقت علی نے ممکنہ سیلاب کے خطرہ کے پیش نظر نارنگ منڈی و گردونواح کے 123 دیہات کے مکینوں کو گاوں خالی کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا باقاعدہ حکم دیدیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے راوی میں ممکنہ سیلاب کے باعث خیموں کا بندوبست کر دیا گیا ہے۔ مال مویشی کیلئے سبز چارہ جمع کیا جا رہا ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر غذا اور صاف پانی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ندی نالوں میں شدید طغیانی کے باعث پانی کناروں سے بہہ رہا ہے۔ سینکڑوں ایکڑ رقبہ میں کئی کئی فٹ پانی رواں دواں ہے۔ لاکھوں روپے کی کھڑی فصلیں اور سبزیاں پانی کے تیز ریلوں کی نذر ہو گئی ہیں۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق سیدوالا کے قریب دریائے راوی کے پاس بسنے والے لوگ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران الرٹ رہیں۔ ضلعی انتظامیہ کسی بھی خطرے کی صورت میں انیس گھنٹے کا نوٹس دے گی تاکہ وہ اپنے دیہات خالی کر سکیں۔ سیلاب سے بچاوکے ممکنہ تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ ریلیف کیمپس کو فنکشنل کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی او ننکانہ نبیل جاوید نے کنڈ رحیم شاہ، کنڈ قاسم شاہ، رحلہ سیداں کے دوران تمام محکموں کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے علاوہ انہیں ہدایات جاری کیں۔ حاصل پور سے نامہ نگار کے مطابق دریائے ستلج پر ہیڈ گنڈا سنگھ پر 12 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں 3 فٹ کا اضافہ ہوا یہاں 16 فٹ پانی چل رہا ہے۔ سندھ کے وزیر آبپاشی سیف اللہ دھاریجو نے کہا کہ عاقل بند حساس ہے تاہم خطرے کی بات نہیں۔ کوٹ سلطان میں راشن کی تقسیم کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس پر متاثرین نے مظاہرہ کیا اور ٹائر جلا کر لیہ ملتان روڈ بلاک کر دی۔ جام پور میں 5 ویں روز بھی خشک راشن تقسیم نہ ہو سکا۔ ضلع مظفر گڑھ میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف کی جانب سے 6 ٹرک تقسیم کے لئے پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق سیلاب سے وبائی امراض کے شکار افراد کی تعداد 22 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب زدگان کی امداد کے لئے پاک فوج کے آپریشن کوآپریشن لبیک کا نام دیا گیا ہے۔ صدر زرداری نے ریلے میں بس الٹنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ڈی سی او قصور نے کلنجرہٹھاڑ‘ کسوکی‘ آہلی بھاگڑاں والی‘ شفیع دی بستی‘ ڈیرہ بھگیل وغیرہ کے لوگوں کو وارننگ دی گئی ہے کہ وہ اپنا مال مویشی‘ بال بچے اور دیگر قیمتی اشیا شفٹ کر لیں ڈی سی او نے کہا کہ ممکنہ سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے تمام انتظامات مکمل کر رکھے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions