قومی اسمبلی : وکلا کو کروڑوں تقسیم کرنے کیخلاف مسلم لیگ ن کا واک آﺅٹ ۔۔ چودھری نثار‘ پرویزاشرف‘ فیصل صالح میں جھڑپ

ـ 23 جون ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز +وقائع نگار خصوصی + ریڈیونیوز + ایجنسیاں) وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کی طرف سے وکلاءکو کروڑوں روپے تقسیم کرنے کیخلاف مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی سے علامتی واک آﺅٹ کیا۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے الزام لگایا کہ بابر اعوان نوٹوں کے بریف کیس شہر شہر تقسیم کر رہے ہیں۔ ایوان میں پرویز اشرف اور فیصل صالح حیات میں شدید جھڑپ ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کو بدکردار کہتے رہے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پر بحث سمیٹی۔ چودھری نثار نے تقریر کرتے ہوئے کہا فنڈز کی تقسیم خلاف ضابطہ ہے‘ پی اے سی نے بڑا فراڈ پکڑا مگر کارروائی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا ایجنسیوں کی طر ف سے لوگوں کو اٹھانے کا تماشا ختم ہونا چاہئے۔ بعدازاں اپنے چیمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا نواز شریف موجودہ اسمبلی کے رکن نہیں بنیں گے۔ قائد مسلم لیگ ن کے کردار کو کسی ادارے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے علامتی واک آﺅٹ کے موقع پر وزیراعظم بھی ایوان میں موجود تھے۔ سپیکر نے چودھری نثار کے نقطہ اعتراض پر کہا کرپشن میں ملوث ہر شخص کیخلاف کارروائی ہو گی۔ وزیراعظم لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملہ کا نوٹس لیں جبکہ بابر اعوان نے کہا حکومت آئندہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کے واقعات برداشت نہیں کرے گی۔ ترقیاتی فنڈز وکلاءنہیں بار ایسوسی ایشنوں میں تقسیم کئے۔ وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا جن وزراء نے 6‘ 6 گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں انہیں شرم آنی چاہئے‘ سینٹ کی 74 میں سے 61 تجاویز مان لیں۔ دفاعی اخراجات تنخواہوں کے سوا اخراجات منجمد کر دئیے۔ وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کا کرائے کے جہاز پر ملک کے مختلف شہروں کا دورہ کرنے اور وکلاءمیں کروڑوں روپے تقسیم کرتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا تسلی بخش جواب نہ ملنے پر مسلم لیگ (ن) نے قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان کی زیرقیادت قومی اسمبلی کے اجلاس کا علامتی واک آ¶ٹ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے واک آ¶ٹ کے دوران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بجٹ بحث کو سمیٹنے کے لئے تقریر کا آغاز کیا تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن) کے ارکان دوبارہ اجلاس میں آنا شروع ہوگئے۔ اس سے قبل قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہاکہ قومی اسمبلی میں گزشتہ دس روز سے بہت ہی عمدہ انداز میں بجٹ بحث جاری تھی تاہم میں آپ کی توجہ بعض اہم امور پر دلانا چاہتا ہوں۔ پہلی بات یہ کہ فاقی وزیر قانون جون کے اس مہینے میں کروڑوں روپے سے بھرے ہوئے بریف کیس لے کر کرائے کے جہاز میں ملک کے مختلف شہروں میں جا کر وکلاءمیں کروڑوں روپے تقسیم کررہے ہیں۔ یہ غریب ملک اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دوسری اہم بات یہ کہ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں فراڈ کا ایک بہت بڑا کیس پکڑا گیا یہ کیس پبلک اکا¶نٹس کمیٹی نے پکڑا‘ ایف آئی اے کو بھی مطلع کیا‘ بار بار نوٹس کے باوجود بالآخر پبلک اکا¶نٹس کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر اندر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے فراڈ کے مرتکب شخص کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تو پھر میں پبلک اکا¶نٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں رہوں گا۔ چودھری نثار علی خان نے مزید کہاکہ مجھے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک آفیسر کی اہلیہ کا ایک خط ملا ہے جو نہایت جذباتی ہے میں اس خط کو یہاں اس وقت نہیں پڑھوں گا مگر ضرورت پڑنے پر وہ خط بھی پڑھ کر سنا دوں گا۔ اس خط کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اس آفیسر کے جواں سال بیٹے کو رات کے وقت جب سب گھر والے ٹی وی دیکھ رہے تھے دس بارہ ایجنسی والے سویلین کپڑوں میں آئے اور اس لڑکے کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اس لڑکے کو اس کا جرم نہیں بتایا گیا۔ سب خاندان والوں نے اسلام آباد پولیس کے ہر تھانے اور ہر آفیسر حتیٰ آئی جی پولیس سے رابطہ کیا گھر والوں کو صرف یہ تسلی دی گئی کہ آپ کا بیٹا خیریت سے ہے۔ چودھری نثار نے کہاکہ کیا یہ مشرف کا دور ہے یا جمہوری دور جہاں رات کے اندھیرے میں دروازے پر دستک ہوتی ہے اور چند افراد اس گھر کے فرد کو پکڑ کر لے جاتی ہے۔ اب یہ تماشا ختم ہونا چاہئے۔ کوئی بھی ایجنسی اس ملک کے قانون سے بالاتر نہیں‘ کوئی بھی ایجنسی مادر پدر آزاد نہیں کہ جب چاہا جسے چاہا اٹھا کر لے جائے۔ ایک ماہ گزرنے کو ہے اس لڑکے کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔چودھری نثار نے کہاکہ میڈم سپیکر ہماری جماعت کی پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے ہمیں تسلی بخش جواب نہ ملا تو ہم اجلاس کا علامتی بائیکاٹ کریں گے۔ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک افسر کے بیٹے کی اس طرح سے گرفتاری نہایت افسوسناک واقعہ ہے اس افسر کا ہی نہیں ملک کے کسی بھی غریب شخص کے گھر سے ایجنسیوں کے ہاتھوں افراد کی گرفتاری افسوسناک امر ہے یقیناً یہ اب سے نہیں کئی سالوں سے ہو رہا ہے۔ آج ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ان کی وجوہات میں سے ایک وجہ اس طرح افراد کا لاپتہ ہونا بھی ہے۔ وزیراعظم اس وقت ایوان میں موجود ہیں انہیں اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بجٹ کسی سیاسی جماعت کا نہیں پوری قوم کا ہوتا ہے بجٹ پر عالمی مشکلات ماضی کی کمزوریاں اور غلط پالیسیاں اثرانداز ہوتی ہیں‘ معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی غیر مقبول فیصلوں سے آج افراط زر 25 سے کم ہو کر 12 فیصد پرآ گیا ہے اور ترقی کی شرح ڈیڑھ سے بڑھ کر چار فیصد ہو گئی ہے۔ کوئی چیز خفیہ نہیں رکھی جائیگی۔ دولت کا محور اب اسلام آباد نہیں ملک کے عوام ہونگے بجٹ سے مہنگائی نہیں بڑھے گی۔ پے اینڈ پنشن کمیٹی کی سفارشات پر آئندہ 3 برسوں میں مکمل عملدرآمد ہو گا۔ جنرل سیلز ٹیکس کی مخالفت کرنے والوں کو ڈر ہے کہ انہیں لین دین کی رسیدیں دکھانا ہونگی۔ سیاسی جماعتیں ملک کی معیشت کی خاطر ٹیکسوں پر سیاست نہ کریں حکومت ادارے نہیں چلا سکتی آٹھ اداروں کی خاطر معیشت کو تباہ نہیں کر سکتے یہ نہ خود کام کرتے ہیں نہ نجی شعبے کو کام کرنے دیتے ہیں۔ ان محکموں نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے اس مسئلے کے حل کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے‘ سٹیل ملز کو 25 ارب کا نہیں 3 ارب روپے بیل آﺅٹ پیکج دیا جائیگا۔ وزیر خزانہ نے جن 61 سفارشات کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے ان میں بیشتر تکنیکی نوعیت کی ہیں جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے جی ایس ٹی کی شرح میں ایک فیصد اضافہ کو واپس لینے‘ سرکااری ملازمین کی تنخواہوں میں مزید اضافہ کرنے سمیت عوام کو ریلیف دینے کے لئے متعدد دوسری سفارشات کو مسترد کر دیا گیا۔ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے پرجوش تقریر کرتے ہوئے مخدوم فیصل صالح حیات پر پیپلز پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر وفاقی وزیر بننے کا الزام عائد کیا۔ ق لیگ کے فیصل صالح حیات نے بھی جواباً وفاقی وزیر پر ایک بار پھر کرپشن کے الزامات عائد کئے۔ نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ مخدوم فیصل صالح حیات کو مجھ سے معلوم نہیں کیا ذاتی عناد ہے کہ آج سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے مجھ پر کرپشن کے بے پناہ الزامات عائد کئے۔ اس کے بعد وہ تین ماہ تک اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آئے۔ میں نے انہیں اے آر وائی پر مناظرہ کرنے کا چیلنج دیا مگر ان کے م¶قف جھوٹے ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں پارٹی کا جنرل سیکرٹری تھا تو فیصل صالح حیات پر کرپشن کے متعدد مقدمات نیب میں قائم ہوئے۔ اس پر حکومتی ارکان نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ موصوف نے مجھ پر ساڑھے چار ملین پونڈ سے لندن میں ذاتی فلیٹ خریدنے کا الزام لگایا اور چیتھڑے صحافی بھی انکی اس الزام تراشی کی مہم میں حصہ دار بن گئے۔ اگر سیاستدان برے ہیں تو صحافی بھی کم برے نہیں۔ انہوں نے قسم اٹھا کر کہا کہ میری پاکستان سے باہر ایک آنے کی جائیداد نہیں جس پر وزیراعظم سمیت حکومتی ارکان نے ڈیسک بجائے۔ راجہ پرویز اشرف کی تقریر کے جواب میں ذاتی وضاحت کیلئے مخدوم فیصل صالح حیات کھڑے ہوئے تو سپیکر نے ان سےکہا کہ ایوان میں کسی رکن کی طرف انگلی اٹھا کر بات نہیں کرنی چاہئے۔ آپ کو ذاتی وضاحت کیلئے صرف دو منٹ مزید دیتی ہوں۔ فیصل صالح حیات نے کہا کہ میں اپنی بات دو نہیں ڈیڑھ منٹ میں ختم کر لوں گا۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی نے میرے کردار کے بارے میں بات کی ہے ان کے پاس دو تین فائلیں ہیں تو ان کی کرپشن کے بارے میں میرے پاس انبار لگے ہوئے ہیں۔ سپیکر نے فیصل صالح حیات کا مائیک بند کر دیا اس کے باوجود فیصل صالح حیات بدستور بولتے رہے کہ میں بھی اونچا بول سکتا ہوں۔ شاید ان سے بھی اونچا۔ راجہ پرویز اشرف بڑھکیں مارنا چھوڑ دیں۔ راجہ پرویز اشرف نے اٹھ کر جواب دینا چاہا مگر وزیراعظم اور وفاقی وزیر پٹرولیم نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے بٹھا دیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions