پاکستان اور بھارت مذاکراتی عمل کے ایجنڈے میں تبدیلی لانے پر رضامند

ـ 23 جون ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (سلمان غنی) بھارت اور پاکستان کے درمیان ”مجوزہ امن مذاکرات“ میں دونوں ملک اپنے روایتی مو¿قف اصرار اور ایجنڈا میں تبدیلی لانے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ بھارت پاکستان کو بیرونی تجارت کیلئے پسندیدہ ترین قوم قرار دے چکا ہے تو دوسری جانب پاکستان کشمیر پر نتیجہ خیز مذاکرات کو اس سے مشروط کر رہا ہے تاہم گزشتہ چند ماہ میں ہونے والے سفارتی رابطوں کے نتیجہ میں دونوں ملک اس امر پر آمادہ ہوئے ہیں کہ آئندہ مذاکراتی عمل میں روایتی ایجنڈے میں تبدیلی لائیں گے مذکورہ سفارتی عمل میں کہا گیا کہ دوستی کے خالی خولی نعرے اور اعتماد بنانے والے نام نہاد حربے علاقائی حقائق کو تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ان سے پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلہ کی کوئی سبیل پیدا کر سکتے ہیں لہٰذا امن مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا امکان تبھی ہے کہ ہم حقیقت پسندانہ طرزعمل اختیار کریں اور باہمی تنازعات کے حل کی طرف بڑھیں پاکستان کے ذمہ دار سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل پر سنجیدگی اختیار کئے بغیر امن مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے اور بھارت اس امر پر آمادہ ہے کہ باہمی تجارتی عمل دہشت گردی کے رجحانات کے خاتمہ کے ساتھ کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر بات چیت ہو سکتی ہے اور پاکستان بھارت سے غیر مشروط مذاکرات شروع کرنے کے اعلان کے باوجود اپنے اصولی موقف پر پسپائی اختیار نہیں کر سکتا۔ سیکرٹری خارجہ کی سطح پر مذاکراتی عمل اسکا ثبوت ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم بھارت کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ مذاکراتی عمل متنازعہ معاملات کے حل سے مشروط کئے تو ہم آگے نہیں بڑھ سکتے البتہ ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی مذاکراتی عمل اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کے حقیقت پسندانہ حل کیلئے آگے نہ بڑھے۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالہ سے پاکستان کا مو¿قف بڑا واضح ہے کہ بنیاد اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی کوئی حل اس وقت تک کارگر نہیں ہو سکتا جب تک جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی اس میں شامل نہ ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایسے اشارے بھی دئیے ہیں کہ تجارتی عمل شروع ہونے کے ساتھ ہی کشمیر اور پانی پر بھی سنجیدہ مذاکراتی عمل شروع ہو سکے لیکن پاکستان نے واضح کیا ہے کہ کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر سنجیدگی کے اظہار اور کچھ اقدامات کے بعد ہی تجارتی عمل شروع ہو تو وہ کارگر ہو سکتا ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions