واشنگٹن (ایجنسیاں) امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان نے اب تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی موجودگی خود اس کےلئے اور امریکہ کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ واشنگٹن میں ایک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ دہشت گردوں کےخلاف جنگ کےلئے فکرمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر خارجہ بنی تو اس وقت فوجی اثاثوں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے اتنا زیادہ زور نہیں دیا جا رہا تھا جتنا اب دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان میں عبادت گاہوں ‘ مارکیٹوں اور پرہجوم مقامات پر حملے کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اس لئے یہ بہت اہم اور حکومت پاکستان کےلئے کسی چیلنج سے کم نہیں کہ وہ ان دہشت گردوں سے نمٹ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی پاکستان تک رسائی بہت آسان ہے۔ اس لئے پاکستان کو اس سلسلے میں سخت محنت کرنی ہو گی اور اب بھی بہت کچھ پاکستان کو کرنا ہے۔ پریس بریفنگ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ جے کراولی نے کہاہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کا استعمال موثر بنانے کےلئے مستقل طور پر اس کاجائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن پاکستان، افغانستان سرحدی علاقوں میں رو پوش ہیں مگر یہ معاملہ پاکستان پر چھوڑتے ہیں۔ سینیٹر منسنڈز کی جانب سے پاکستان کی امداد کے بارے میں ہلیری کلنٹن کو لکھے گئے خط سے متعلق ترجمان نے کہا کہ نے وہ اس خط کے بارے میں نہیں جانتے تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اس کا استعمال موثر بنایا جا سکے جبکہ اس سلسلے میں معمول کی بنیاد پر کانگریس کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے اپنے حالیہ دورے کے دوران پاکستان کےلئے مخصوص منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے اور ہم کیری لوگربل کے تحت پاکستان کو امداد کی فراہمی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلیری کلنٹن نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق ان کے پاس ٹھوس معلومات ہیں بلکہ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستانی حکومت میں شامل کچھ لوگ جانتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے‘ ہمیں امید ہے کہ اگر اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں آگاہی دستیاب ہے تو انہیں تلاش کر لیا جائےگا۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے بھی متعدد ٹی وی پروگراموں میں کہاہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے؟ کراولی نے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان اور افغانستان کے درمیان قبائلی علاقوں میں روپوش ہے مگر وہ یہ معاملہ پاکستان پر چھوڑتے ہیں۔ ڈیوڈ ہیڈلے سے تحقیقات کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرنا امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے‘ ہم توقع رکھتے ہیں کہ ڈیوڈ ہیڈلے سے تحقیقات کے حوالے سے امریکہ اور بھارت دونوں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔ دریں اثناءپاکستان اور افغانستان کےلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لشکر طیبہ طالبان جیسا ہی خطرناک دہشت گرد گروپ ہے، پاکستان اسے قدم نہ جمانے دے۔ آئی ایس آئی کے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ رابطوں سے متعلق اپنے تحفظات پاکستان کے ساتھ اٹھائے ہیں۔ پاکستان یا طالبان میں سے کوئی بھی افغانستان پر قبضہ کرنے نہیں جارہا پاکستان کی حمایت کے بغیر افغانستان میں استحکام قائم نہیں ہو سکتا، افغانستان کے مسائل کے حل اور خطے میں استحکام کےلئے بھارت کا کردار بھی اہم ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ افغانستان میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو اور بھارت کے کردار کو نہ ہونے کے برابر کر دیا جائے۔ افغانستان میں بھارت کا کردار کم نہیں کیا جا رہا ۔ انہوں نے افغانستان کے استحکام کےلئے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی حمایت کے بغیر افغان مسئلے کا حل نہیں نکالا جا سکتا۔ پاکستان میں دہشت گرد گروپوں کی حمایت خطرناک ہے ہم نے پاکستانی خفیہ ایجنسی اور دہشت گرد گروپوں کے درمیان رابطوں سے متعلق تحفظات پاکستانی حکام کے ساتھ اٹھائے ہیں۔ انہوں نے مستقبل کے افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے کردار کے امکان کو مسترد کیا۔ رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ پاکستان، امریکہ بہتر تعلقات بھارت کیلئے خطرہ نہیں۔ پاکستان امریکہ اور امریکہ بھارت تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔ امریکہ پاکستان سٹرٹیجک تعلقات پر بھارت کے خدشات سے آگاہ ہیں۔
Post New Comment