پنجاب اسمبلی : ہیلتھ کیئر بل کثرت رائے سے منظور‘ اپوزیشن کی ترامیم مسترد

ـ 23 جولائی ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (خبرنگار خصوصی + خبرنگار + سپیشل رپورٹر+ سٹاف رپورٹر + سپورٹس رپورٹر) پنجاب اسمبلی نے گذشتہ روز ہیلتھ کیئر بل 2009ءکی کثرت رائے سے منظوری دے دی، اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں، وقفہ سوالات کے دوران سینئر وزیر راجہ ریاض اور دیگر وزراءکی عدم موجودگی پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، سپیکر بھی وزراءکو چیمبرز سے ایوان مےں آنے اورآئندہ اجلاس مےں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے رہے، نکتہ اعتراض اور توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب مےں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پنجاب حکومت اور پولیس کی نہیں پورے ملک اور عوام کی جنگ ہے، صوبے مےں چینی کا وافر سٹاک موجود ہے، رمضان المبارک مےں آٹا، چینی اور دالوں پر سبسڈی دیں گے۔ ہیلتھ کیئر بل 2009ءمنظور ہوا تو حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر اس کا خیر مقدم کیا۔ شہباز شریف بھی ایوان میں موجود تھے، محسن لغاری، ڈاکٹرسامعہ امجد، آمنہ الفت اور خدیجہ عمر نے بل کی مخالف کی اور کہا کہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد مےں نہیں لیا گیا جس پر احتجاج شروع ہو جائے گا۔ رانا ثناءاللہ نے واضح کیا ہے کہ ہیلتھ کمشن کو سول کورٹ کے اختیارات نہیں بلکہ کوڈ آف سول پروسیجر کے اختیارات دیئے جا رہے ہےں، کمشن آزاد ادارے کے طور پر کام کرے گا۔ اپوزیشن کا استفسار تھا کہ کمشن کو اختیارات سے مالا مال کرنے کی بجائے آزاد عدلیہ پر اعتبار کیا جائے۔ وزیر آبپاشی کی عدم موجودگی میں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری فائزہ ملک کی طرف سے مکمل تیاری کے ساتھ سوالات کے جوابات دینے پر سپیکر نے شاباش دی۔ فائزہ ملک نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ سال 733 نہروں، راجباﺅں اور چینلز کی صفائی پر 16 کروڑ 37 لاکھ روپے خرچ کئے۔ لاہور کینال کی صفائی پر 30 لاکھ روپے کی لاگت آئی۔ حکومت پنجاب نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر بجلی گھروں کی تنصیب شروع کررکھی ہے۔ 9 کمپنیاں 2012ءتک نہروں پر پن بجلی گھر مکمل کرلیں گی جس سے 145 میگاواٹ بجلی ملے گی۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سندھ میں جب ٹارگٹ گلنگ میں آئی جی خود پولیس کی ناکامی کا اعتراف کرے تو کوئی کسی کے استعفیٰ اور ناکامی کی بات نہیں کرتا لیکن پنجاب میں جب بھی کوئی واقعہ ہو جائے تو استعفے اور ناکامی کی بات کی جاتی ہے جو درست نہیں۔ نیٹ کیفوں مےں دھماکوں کی تحقیقات میں کافی پیش رفت ہو رہی ہے۔ چودھری ظہیر نے کہا کہ جس بھارت کو ہم تجارت کےلئے راہداری دے رہے ہیں وہ ہمارے رینجرز کے جوانوں پر گولیاں برسا رہا ہے۔ محسن لغاری نے کہا کہ مجھے ایس ایم ایس آیا ہے کہ سستی روٹی کی طرح لاہور میں سستی کشتیاں چلانا بھی شروع کی جائیں کیونکہ بارش کی وجہ سے پورا لاہور نہروں میں تبدیل ہو چکا ہے، ارکان کی جانب سے صوبہ کی مالی حالت پر تنبیہ کے جواب میں تنویر اشرف کائرہ نے کہا کہ صوبہ کی اوور ڈرافٹ کی حد 27 ارب روپے ہے جبکہ ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں۔ اجلاس میں گیارہ ارکان کی رخصت کی درخواستیں منظور کر لی گئیں، مونس الہٰی کی رخصت کی درخواست کی وزیر قانون اور حکومتی ارکان نے مخالفت کی۔ اپوزیشن نے اس پر احتجاج اور شور شرابہ کیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions