اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے ایشو پر تقسیم ہو گئے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ندیم افضل چن نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے غیر سیاسی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا جبکہ سرحد سے تعلق رکھنے والے رکن نور عالم نے کہا کہ حکومت نے کالا باغ ڈیم کے ایشو پر کمیٹی بنائی تو ہم صوبہ سرحد کے تمام ارکان اپنی نشستوں سے استعفیٰ دے دیں گے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں پانی کے حوالے سے بحث کے دوران حکمران اتحاد کے ارکان نے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ارسا کی تنظیم نو کی جائے‘ بھارت سے پانی کے معاملے پر بات کرنے سے پہلے صوبوں کے درمیان بات کی جائے‘ جماعت علی شاہ نے بھارت کے سامنے پاکستان کا موقف درست انداز میں پیش نہیں کیا‘ ایوان میں رپورٹ پیش کی جائے‘ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے بارے میں بحث کرتے ہوئے ارکان نے کہا کہ بھارت کے خلاف عالمی عدالت میں رجوع کیا جائے۔ عبدالقادر خانزادہ نے کہا کہ بھارت کے سامنے جماعت علی شاہ نے پاکستان کا موقف درست انداز میں پیش نہیں کیا۔ ارسا ناکام ہو چکا ہے اب ارسا کی تنظیم نو کی جائے۔ شیر محمد بلوچ نے کہا کہ بھارت نے عالمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے حق پر ڈاکہ مارا ہے‘ سندھ میں پانی کے بحران کی وجہ سے تباہی آ چکی ہے‘ سندھ میں گندم کی فصل تباہ ہوئی‘ لوگ گندے تالاب سے پانی پی رہے ہیں‘ پورا سندھ سراپا احتجاج ہے‘ دریائے سندھ میں لوگ فٹ بال کھیل رہے ہیں۔ گل محمد جاکھرانی نے کہا کہ بھارت سے بات کرنے سے پہلے صوبوں کے درمیان بات کی جائے‘ پنجاب سندھ کا پہلے پانی چوری کرتا تھا اب سینہ زوری کر رہا ہے۔ ماروی میمن نے کہا کہ صوبوں کے درمیان 1991ءکے معاہدے کے تحت پانی تقسیم نہیں ہو رہا ہے‘ تمام صوبوں کو ان کا حق دیا جائے‘ ماحولیات کے وزیر نے کہا کہ صوبے ان کی بات نہیں سنتے اس کا نوٹس لیا جائے۔ ظفر بیگ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اسمبلی میں بات کی کوئی اہمیت نہیں‘ ارکان عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہیں‘ ایوان میں چینی پر بات ہوئی اس کی قیمت میں اضافہ ہو گیا‘ بجلی کا بحران بھی برقرار ہے‘ اسمبلی میں ہماری بات کی کوئی اہمیت نہیں‘ کس کے پاس جا کر اپنا رونا روئیں‘ پشاور میں اغوا کرنے والوں کے گروپ بن چکے ہیں۔ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں خفیہ ایجنسیوں کے لوگ عام شہریوں کو اغوا کر رہے ہیں‘ اس سے صورتحال خراب ہو جائے گی۔ ایوان کی کارروائی معطل کر کے بلوچستان کے حالات پر بولنے کی اجازت دی جائے۔ نور عالم نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی میں پولیس نے طالب علموں پر بدترین تشدد کیا ہے‘ وائس چانسلر کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ سردار شاہ جہاں یوسف نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میرے حلقے بالاکوٹ میں خودکش حملہ آور نے تھانے پر حملہ کیا‘ ہمارے صوبے کے حالات خراب ہیں‘ صوبہ سرحد میں پولیس افسران کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہمایوں سیف نے کہا کہ کرپشن کے حوالے سے رپورٹ شائع ہوئی وہ ایوان میں پیش کرتا ہوں۔ میاں ریاض پیرزادہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ دہشت گردی وبا جھنگ سے شروع ہوئی تھی اب پنجاب حکومت جھنگ میں ان کی سرپرستی نہ کرے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ 20 سال پہلے دہشت گردی جھنگ کے شروع ہوئی تھی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔ گل محمد جاکھڑانی نے پانی کا جو مسئلہ پیش کیا وہ درست ہے مگر پنجاب کے حوالے سے پانی چوری کرنے کی بات ہوئی ہے لفظ چوری غیر پارلیمانی ہے۔ ندیم افضل چن نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیر قانون پنجاب کالعدم تنظیموں کے لوگوں کو سرکاری گاڑی میں لے کر پھرتے ہیں یہ اچھی بات نہیں۔ توجہ دلاو نوٹس پر وفاقی وزیر انسانی حقوق ممتاز عالم گیلانی نے کہا کہ حکومت بچوں کے حقوق کے لئے قانون سازی کرنے والی ہے تمام ارکان اس بات کا وعدہ کریں کہ وہ اپنے گھروں میں بچوں سے کام نہیں کرائیں گے۔
Post New Comment