امریکہ ڈاکٹر عافیہ کو غیر مشروط طور پر رہا کرے‘ سینٹ میں قرارداد کی متفقہ منظوری

ـ 23 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + نامہ نگار + نیوز ایجنسیاں) سینٹ کے اجلاس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کے لئے متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی۔ قائد ایوان سید نیئر بخاری نے قرارداد پڑھی کہ سینٹ آف پاکستان امریکی عدالت کی جانب سے پاکستانی قومیت رکھنے والی ڈاکٹر عافیہ کو دی جانے والی سزا پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس کی رہائی کے لئے جلد از جلد موثر اقدامات کئے جائیں۔ سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور قوم ڈاکٹر عافیہ کی غیر مشروط رہائی چاہتی ہے‘ پاکستان کی بیٹی کو یہاں سے اغوا کر کے بگرام جیل لے جایا گیا‘ ان کی برہنہ ویڈیو بنائی گئیں‘ امریکیوں نے خود گولیاں مار کر ڈاکٹر عافیہ کو مجرم قرار دے دیا۔ امریکہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بدلے ہمیں ڈرون حملے اور عافیہ کو سزا کا تحفہ ملا‘ ڈرون حملوں پر پوری قوم کو اکٹھا ہونا پڑے گا‘ ہم غیرت پر سودا نہیں کریں گے۔ چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون بابر اعوان نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی اسے رہا کیا جانا چاہئے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید نے کہا کہ حکومت بھرپور انداز میں مسئلے کو اٹھائے۔ دریں اثناءوقفہ نماز کے بعد نکتہ اعتراض پر مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ سرکاری ترقیاتی پروگرام کے 270 ارب روپے کم کر دئیے گئے۔ حکومت نے ملک میں کرپشن کا مین ہول کھول دیا۔ سیمی صدیقی نے کہا کہ قوم کو آئی ایم ایف کی شرائط سے نجات دلائی جائے‘ اب تو غریبوں کے پاس کفن کے پیسے بھی نہیں ہیں‘ عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے کہا کہ سابقہ پالیسیاں ترک کر کے نئی پالیسیاں بنائی جائیں۔ حکومتی سینیٹر عباس خان نے کہا کہ پارلیمنٹ غلط پالیسی منسوخ کر کے اچھا سسٹم دے۔ علاوہ ازیں اے این پی کے سینیٹروں نے کراچی میں پیپلز پارٹی اور متحدہ کی کور کمیٹی کے اجلاس میں مدعو نہ کرنے پر ایوان سے واک آوٹ کر دیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions