اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ مانیٹرنگ نیوز+ بی بی سی) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے حارث سٹیل ملز کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کے افسروں کو تنخواہیں ملتی ہیں تو وہ کمیشن کیوں لیتے ہیں‘ عدالت عظمیٰ نے نیب اہلکاروں کو کمیشن وصول کرنے سے روک دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ عدالت اور ادارے عوام کو ریلیف دینے کے پابند ہیں اور اداروں کو کام کرنے کے عوض انعام و اکرام سے نہیں نوازا جا سکتا۔ جسٹس افتخار چودھری نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام سے کہا ہے کہ وہ سرکاری افسر ہیں کمیشن ایجنٹ نہیں اور اگر انہوں نے کمیشن پر کام کرنا ہے تو نوکری چھوڑ کر کوئی ایجنسی کھول لیں۔ پیر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حارث سٹیل ملز کے ذمہ بینک آف پنجاب کے 9ارب روپے کے قرضے کے مقدمے کی سماعت کی۔ پنجاب بنک کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ بینک کو ابھی تک 9ارب روپے میں سے 5ارب روپے مالیت کی جائیداد اور نقدی موصول ہو چکی ہے‘ نیب کے اہلکار اس ضمن میں اپنا کمیشن مانگ رہے ہیں۔ نیب نے حارث سٹیل ملز کے ڈائریکٹروں کی جو جائیداد قبضے میں لی ہے اُس کی قیمت بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہے اور نیب کے حکام کے مطابق اس جائیداد کی مالیت 8ارب روپے سے زائد ہے جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت پانچ ارب روپے سے زیادہ نہیں ہے۔ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ قومی دولت ہے اس لئے اس میں سے کمیشن کی رقم نیب کے اہلکاروں کو دینے کی بجائے اسے سرکاری خزانے میں جمع کیا جائے اور اہلکاروں کو کمیشن لینے سے روکا جائے۔ چیف جسٹس نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ نیب کے اہلکاروں کو کمیشن لینے کا اختیار کس نے دیا جس پر نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ رولز بینکوں نے خود بنائے ہیں اور وہ کمیشن کی رقم دیکر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فنانس ڈویژن کو کمیشن لینے یا دینے کا اختیار نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کا کمیشن کی رقم وصول کرنا غیرقانونی ہے۔ جسٹس افتخار نے نیب کے پراسیکیوشن کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ اب تک کتنے اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو چکی ہے جنہوں نے کمیشن کی رقم وصول کی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر یہی کارکردگی رہی تو پھر نیب کے چیئرمین کو ہر روز عدالت میں طلب کیا جائے گا۔ عدالت نے نیب کے وکیل سے کہا کہ وہ تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کریں جس میں نیب کے اہلکاروں نے رقم کی واپسی میں اپنا کمیشن وصول کیا ہے۔ ایف آئی اے کے وکیل نے بتایا کہ اس مقدمے کے اہم ملزم ہمیش خان کو آئندہ ماہ تک پاکستان واپس لایا جائے گا۔ چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب ملازمین ماضی میں کس قانون کے تحت کمیشن لیتے رہے ہیں۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کی جانب سے کمیشن وصولی سے متعلق قوانین کے بارے میں عدالت کو مطمئن نہ کر سکنے کے بارے میں عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے بینک آف پنجاب قرضہ فراڈ کیس کے تمام متعلقین کو آج مشترکہ اجلاس منعقد کرنے‘ وصول کردہ رقم‘ بقایا رقم کی وصولی کیلئے طریقہ کار کے حوالے سے جامع رپورٹ مرتب کرنے اور آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ جسٹس چودھری اعجاز نے کہا کہ ہم لوگوں کو انصاف فراہم کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کہیں کہ ہم نے کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔یہ تو ہماری ڈیوٹی ہے۔ مزید سماعت 26فروری تک ملتوی کر دی گئی۔
Post New Comment