عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کرے‘ فرانس دفاعی سامان جلد دے: زرداری‘ گیلانی

ـ 23 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ غیرریاستی عناصر خودمختار ملکوں کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرے۔ فرانس کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل جان لوئیس سے گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کا عفریت عالمی برادری نے ماضی میں مخالف نظریات کے خلاف خود پیدا کیا۔ پاکستان کو دہشت گردی کے اثرات کے خاتمہ میں مدد دینا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان فرانس کے ساتھ تجارت‘ سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون اور دیرپا تعلقات چاہتا ہے۔ صدر نے فرانسیسی چیف آف ڈیفنس کو نشان امتیاز (ملٹری) سے بھی نوازا۔ دریں اثناءملائیشیا‘ کرغیزستان‘ نائیجیریا‘ سوڈان‘ کویت اور برازیل کے پاکستان میں نامزد سفیروں اور ہائی کمشنروں سے ملاقات میں صدر زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان سے کئے گئے تعاون کے وعدے پورے کرے‘ پاکستان خطے سمیت پوری دنیا میں پائیدار قیام امن کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے‘ ہم دنیا سے ایڈ نہیں ٹریڈ چاہتے ہیں اور اس حوالے سے تمام ممالک سے تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو کلیدی کردار کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے لیکن پاکستانی قوم اور حکومت پُرعزم ہے کہ ہم دہشت گردوں کو شکست دینگے۔ فرینڈز آف پاکستان اور ڈونرز کانفرنس میں جو وعدے پاکستان کے ساتھ مختلف ممالک نے کئے تھے ان پر جلد عملدرآمد ہونا چاہئے۔ صدر نے کویت ، ملائیشیا، برازیل سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی، معاشی، سماجی، دفاعی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مستحکم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور ہمارے کسی کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں‘ سفیروں نے صدر مملکت کو اپنی تقرری کی اسناد پیش کیں۔ جنرل جان لوئیس نے صدر زرداری کے علاوہ وزیراعظم گیلانی اور وزیر دفاع احمد مختار سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے جنرل جان لوئیس سے گفتگو میں کہا کہ فرانسیسی حکومت فوجی آپریشنز میں پاکستان کی مدد کے لئے فوری طور پر دفاعی ساز و سامان فراہم کرے‘ عالمی برادری مسئلہ کشمیر سمیت تنازعات کے حل کے لئے بھارت کو پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کی بحالی کے لئے قائل کرے۔ پاکستان اور فرانس نے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس بارے میں وزیر دفاع چودھری احمد مختار اور جنرل جین لوئیس نے وزارت دفاع میں ملاقات کے دوران تبادلہ خیال کیا۔ دونوں جانب نے دفاع سمیت مختلف شعبوں میں بھرپور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر دفاع نے جنرل لوئیس کو بتایا کہ پاکستان فرانس کے ساتھ دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے جنرل لوئیس کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی کوششوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی و انتہا پسندی کی قوتوں سے لڑائی کے دوران بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں۔ دہشت گردوں کو غیر ملکی عناصر سے تربیت اور مالی مدد مل رہی ہے، عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے کوئٹہ شوریٰ کی موجودگی کے متعلق تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں القاعدہ کا کوئی لیڈر نہیں، اس طرح کی رپورٹیں بے بنیاد ہیں۔ جنرل لوئیس نے یقین دلایا کہ ایساف اور نیٹو کی فورسز پاکستان کی خودمختاری کا احترام کریں گی‘ فرانس پاکستان سے دفاعی‘ سفارتی‘ سیاسی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے پرعزم ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions