اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + نمائندہ نوائے وقت + نیٹ نیوز + ایجنسیاں) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ قرضے معاف کرانے والوں کو واپسی کے لئے ایک موقع دینگے۔ بعد میں کارروائی کی جائے گی۔ قرضے معاف کرانے والے آگے آئیں اور قرض واپس کریں۔ سپریم کورٹ میں 54 ارب روپے کے قرض معافی کیس میں اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ قرضے معاف کرانیوالوں کو آرٹیکل 25 کے تناظر میں پرکھا جائیگا۔ قوم کا پیسہ واپس آنا چاہئے۔ بااثر افراد کے قرضے معاف ہورہے ہیں۔ بینکوں اور قرضے معاف کرانیوالوں کو صرف ایک موقع دینگے۔ گورنر سٹیٹ بنک اور بینکوں کے صدور اس حوالے سے پالیسی بنائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 1971ءسے اب تک معاف کرائے گئے قرضے واپس کرنا ہونگے۔ انہوں نے مرکزی بینک سے 1971ءسے اب تک قرضے معاف کرنے کی وجوہات طلب کر لیں اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر اس معاملے پر کمشن بھی بنائینگے۔ کسی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایسا کیوں کر رہی ہے تو یہ الزام لینے پر تیار ہوں گے۔ جن کا مفاد ہے وہ مزاحمت کرینگے‘ ہم تیار ہیں‘ اسے دیکھ لیں گے۔ قرضوں کی واپسی کیلئے حکومت آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت حکم دے سکتی تھی۔ یہاں سیاسی دباﺅ پر قرض معاف کردئیے جاتے ہیں۔ قرض لینے والے فیکٹریاں لگانے کے بعد قرضے معاف کرالیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قرضوں کی معافی میں ذمہ دار کو قانون کا سامنا کرنا پڑیگا۔ سیاسی دباﺅ پر قرضے معاف جبکہ 50 ہزار قرض والے کا گھر نیلام کر دیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 1971ءسے آج تک معاف کئے جانے والے قرضوں کے حوالہ سے گورنر سٹیٹ بنک کو حکم دیا کہ تمام بنکوں اور مالیاتی اداروں سے قرض معاف اور ایڈجسٹ کرانے والوں کی صوبہ وار فہرست مرتب کر کے پیش کی جائے جس کے ساتھ سفارشات اور طریقہ کار بھی مرتب کرکے پیش کیا جائے جس کے ذریعے معاف کردہ رقوم واپس لی جا سکیں‘ عدالت عظمیٰ نے 1980ءمیں قرضوں کی معافی کیلئے بیگ کمیٹی کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر عدالت عظمیٰ کمشن بھی مقرر کر سکتی ہے‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بنچ نے قرضوں کی معافی سے متعلق ازخود نوٹس کے تحت قائم مقدمہ کی سماعت کی۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل اور سینیٹر سیّد اقبال حیدر پیش ہوئے‘ دو نجی بینکوں کی نمائندگی خواجہ محمد فاروق نے کی۔ سینئر وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ بطور عدالتی معاون پیش ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے قرضوں کی معافی سے متعلق جاری کردہ سرکلر نمبر 29 کو عدالت شہریوں سے مساوی سلوک کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 25 کی بنیاد پر پرکھے اور جانچے گی‘ قرضے واپس کرنے کا ایک موقع دینے کے بعد رقوم کی واپسی کے لئے بلاامتیاز کارروائی کا حکم دےں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اخباری رپورٹ پر ہمارے بھائی جج جسٹس سیّد جمشید علی نے ازخود نوٹس کے اختیار کے تحت نوٹ تحریر کیا تھا کہ قرضوں کی معافی کے بارے میں کارروائی کی جائے تاہم بعدازاں کسی نہ کسی وجہ سے اس مقدمہ کی سماعت نہ ہو سکی۔ اس ضمن میں الطاف حسین نے خط بھی تحریر کیا اور استدعا کی تھی کہ عدالت ازخود نوٹس لے کر قومی مفاد میں 1971ءسے اب تک قرض معاف کرانے کے معاملہ پر کارروائی کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ پارلیمنٹ اس بارے میں قانون سازی کرے گی۔ عام آدمی کو تو کوئی قرض نہیں دیتا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ 50 ہزار والے کا قرض تو معاف نہیں ہوتا، وہ جان چھپاتے پھرتے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ مفادات رکھنے والوں کی جانب سے مزاحمت ہو گی لیکن ہم ملک کے مفاد میں اس کا سامنا کریں گے۔ انہوں نے عدالتی حکم میں کہا کہ 1971ءسے اب تک جو قرض معاف ہوئے ان کی معافی کیلئے جو قانون استعمال ہوا اس کی تفصیل بھی عدالت میں پیش کی جائے‘ عدالت اسے آئین کے آرٹیکل 25 کی بنیاد پر جانچے گی۔ عدالت نے عبدالحفیظ پیرزادہ کے اس استدلال کو نوٹ کیا کہ قرض معاف کرکے دراصل قانون کا احترام کرنے والوں کو سزا دی جا رہی ہے جو نہ صرف ادائیگیاں کرتے ہیں بلکہ ان کو بینکوں کی طرف سے مزید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ قوم کا پیسہ ہے جسے واپس ملنا چاہئے۔ عدالت نے مزید سماعت 2 فروری تک ملتوی کر دی۔ دریں اثناءسٹیٹ بنک نے 1997ءسے 2009ءتک معاف کئے گئے قرضوں کے متعلق فہرست سپریم کورٹ کو فراہم کی جس کے مطابق 37 بنکوں اور مالیاتی اداروں نے 19711 افراد کے 193 ارب روپے کے قرضے معاف کئے‘ سب سے زیادہ قرضے حبیب بنک نے 5728 کے معاف کئے۔ سٹی بنک نے 2691 افراد کے‘ یونائیٹڈ بنک نے 3157 افراد کے‘ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک نے 1743 افراد کے‘ نیشنل بنک نے 1554 افراد کے اور ایم سی بی نے 876 افراد کے قرضے معاف کئے۔ حبیب بنک نے 49 ارب روپے کے‘ یونائیٹڈ بنک نے 39 ارب 84 کروڑ کے‘ نیشنل بنک نے 28 ارب 54 کروڑ کے‘ الائیڈ بنک نے 12 ارب روپے کے‘ ایم سی بی نے 11 ارب روپے کے قرضے معاف کئے۔ یہ رپورٹ سٹیٹ بنک کے وکیل اقبال حیدر نے پیش کی۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ 1971ءسے اب تک کے معاف کئے گئے قرضوں کی فہرست تیار کی جا رہی ہے جو ایک ہفتے میں عدالت عظمیٰ کو فراہم کر دی جائے گی۔ انہوں نے قرضے معاف کرانے والے افراد کے نام میڈیا کو نہیں بتائے۔
Post New Comment