لاہور (رپورٹ سلمان غنی) حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان قومی کمیشن کی تشکیل کے بارے میں تنازعہ برقرار ہے اور مسلم لیگ (ن) وزیراعظم کے اس بیان کو سنجیدگی سے لے رہی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ صوبوں کی مخالفت کی بناءپر قومی کمیشن تشکیل نہ پا سکا۔ مسلم لیگ (ن) کے مطابق صوبوں نے وزیراعظم کے کان میں ایسی کوئی مخالفت کی ہے تو ہمیں نہیں معلوم البتہ این ڈی ایم اے کے اجلاس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی صوبے نے اسکی مخالفت کی البتہ وزیراعظم یہ ضرور جانتے ہیں کہ نوازشریف سے ملاقات میں انہوں نے قومی کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے نہ صرف یہ کہ خود اس پر اتفاق کیا بلکہ انہوں نے اس وقت اسفند یار ولی اور ایم کیو ایم کے لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار سے بات کی تھی اور انہوں نے بھی اس تجویز کو سراہا تھا اور وزیراعظم گیلانی نے خود رانا بھگوان داس کی چیئرمین شپ پر بھی اتفاق ظاہر کیا تھا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماءو رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے یہ تجویز ملک کے بہترین مفاد اور خصوصاً سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال میں قومی جذبہ اور اتحاد و یکجہتی قائم کرنے کیلئے دی تھی اور مطمع نظر یہی تھا کہ مل جل کر اس ناگہانی صورتحال کا مقابلہ کیا جائے اور انکے اقدامات و اعلانات شک و شبہ سے بالاتر ہوں اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خود نوازشریف کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا تھا اور اس پر عملی پیشرفت کیلئے قوم کو گواہ بھی بنایا تھا لیکن نہ جانے کیوں وہ یکدم یوٹرن لینے پر مجبور ہوگئے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ خود میاں نوازشریف نے وزیراعظم گیلانی سے ملاقات کے بعد پارٹی کے سینئر رہنماﺅں کو ملاقات کے حوالہ سے اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وزیراعظم نے کمیشن کی تشکیل کے حوالہ سے اچھا رسپانس دیا ہے اور انہوں نے اس پر اسفند یار ولی اور ڈاکٹر فاروق ستار سے مشاورت بھی کی تھی البتہ مولانا فضل الرحمن سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ خواجہ سعد رفیق کے مطابق مذکورہ ملاقات میں رانا بھگوان داس کی چیئرمین شپ پر بھی اتفاق ہوا تھا البتہ دیگر اراکین کی نامزدگی کا اختیار وزیراعظم پر چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ وہ صدر آصف علی زرداری سے مشاورت کرکے ان ناموں کا اعلان کردیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس پر خود حکومت، ایوان صدر یا حکومتی وزراءکے تحفظات ہوں لیکن وزیراعظم گیلانی کو ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت سے ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو درست نہ ہو۔
Post New Comment