اسلام آباد (ایجنسیاں) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج واشنگٹن میں ہونگے جس میں پاکستان سیلاب کے باعث امداد اور قرض کی ادائیگی میں نرمی کی درخواست کریگا جبکہ آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور سینٹرل ایشیا ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر مسعود احمد نے کہاکہ سیلاب کے باعث پاکستانی حکومت اور عوام کو بڑے معاشی چیلنج کا سامنا ہے، مشکل گھڑی میں پاکستان کیساتھ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کے حکام 23 اگست کو امریکہ پہنچیں گے جہاں وہ آئی ایم ایف حکام کیساتھ مذاکرات کرینگے۔ آئی ایم ایف کو پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں گے۔ مالیاتی خسارے میں مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد کے برابر نرمی ملنے کی توقع ہے ۔ دریں اثناء آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کےلئے اس کو دیئے گئے مالی اہداف پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے آئی ایم ایف کے جاری کردہ بیان میں اس کے مشرق وسطی اور وسط ایشیا کے ڈائریکٹر مسعود احمد نے کہاہے کہ سیلاب سے ہونے والے بجٹ کے اور معاشی نقصانات کے باعث آئی ایم ایف پروگرام میں جو اہداف طے کئے گئے تھے ان پر موجودہ صورتحال میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ حکومت نے رواں سال محصولات کا ہدف ایک ہزار چھ سو 67 ارب روپے اور مالی خسارے کا ہدف چار فیصد رکھا تھا تاہم اب ان پر آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے اجلاس میں نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں 10 ارب ڈالر قرضے کی واپسی کی شرائط نرم کرنے پر بات ہوگی۔
Post New Comment