پنجاب اسمبلی : وفاق افغان ٹریڈ پر اعتماد میں لے : حکومتی ارکان ۔۔۔ تحفظات دور کریں گے : پیپلز پارٹی ۔۔ 2 بل منظور

ـ 22 جولائی ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور(خبرنگار+ سپیشل رپورٹر+ اپنے نمائندے سے) پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ایم پی اے اور صوبائی وزیر خزانہ تنویر اشرف کائرہ نے پاکستان افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے حوالے سے تحفظات دور کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی صرف لیٹر آف انڈر سٹینڈنگ پر دستخط ہوئے ہیں، معاہدے اور کابینہ کی منظوری کے مراحل ابھی باقی ہیں، ارکان اسمبلی نے غلط اطلاعات پر بحث کی جو قابل افسوس ہے۔ خودمختاری اور پاکستان کے مفاد کو سب سے پہلے رکھا جائے گا۔ قبل ازیں مسلم لیگ (ن) اور ق لیگ نے افغان ٹریڈ پر متفقہ مﺅقف اختیار کرتے ہوئے اسے سکیورٹی رسک اور کشمیر کا سودا کرنے کے مترادف قرار دیا، اپوزیشن ارکان محسن لغاری، سیمل کامران اور دیگر نے اس حوالے سے تحریک التوائے کار ایوان میں پیش کیں۔ اپوزیشن نے منورمنج ایم پی اے کی گرفتاری کیخلاف 5منٹ کا علامتی واک آﺅٹ کیا جبکہ اپوزیشن لیڈر چودھری ظہیر الدین نے کہاکہ منور منج کیخلاف کارروائی سیاسی ٹارگٹ کلنگ ہے۔ انہوں نے کہا وفاداریاں تبدیل کرنے دباﺅ ڈالا جا رہا ہے جبکہ وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا منور منج اپنے مرضی سے تھانے میں بیٹھے رہے انہیں گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ صرف لائسنس کے بغیر اسلحہ رکھنے پر ان کے 3گارڈز کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایوان میں جاوید ہاشمی کیلئے دعائے صحت کی گئی جبکہ جنوبی پنجاب سے متعلق 2 بل اکثریت رائے سے منظوری کر لئے گئے۔ اجلاس آج 10بجے پھر ہو گا۔ خبرنگار کے مطابق اپوزیشن نے منور منج کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران سپیکر سے مطالبہ کیا کہ ایک ممبر کی گرفتاری پر فوری طور پر مطلع نہ کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ چودھری ظہیر الدین کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اپوزیشن ارکان کے خلاف انتقامی کارروائی میں کمی کی بجائے اضافہ ہو گیا ہے۔ وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے بتایا منور منج انتخابی مہم پر کلاشنکوفوں سے مسلح گن مینوں کے ساتھ جا رہے تھے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل رہا تھا۔ چودھری ظہیر الدین نے کہاکہ اپنی حفاظت کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ اسلحہ مسلمان کا زیور ہے یہ رکن اسمبلی کو اسلحہ ساتھ رکھنے کا پرمٹ ملنا چاہئے۔ پنجاب اسمبلی نے خواتین یونیورسٹی ملتان 2010ءاور انسٹیٹیوٹ آف سدرن پنجاب 2010ءکے مسودات قانون کی منظوری دیدی ہے اور اپوزیشن کے ارکان سامیہ امجد، چودھری ظہیر، یوسف لغاری، محمد یار ہراج اور دیگر ارکان کی طرف سے 9ترامیم پیش کی گئیں جن کو نامنظور کر دیا گیا تو اپوزیشن رکن ماجدہ زیدی نے کورم کی نشاندہی کر دی، پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں اور دوبارہ گنتی پر اجلاس نے یہ بل منظور کر دیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions