بی سی سی آئی کے گارنٹی نہ دینے پر پاکستانی کرکٹرز کی بولی نہیں لگی : بھارتی وزیر کھیل

ـ 22 جنوری ، 2010
  • Adjust Font Size

نئی دہلی (ریڈیو نیوز+ریڈیو مانیٹرنگ+بی بی سی ڈاٹ کام+نیوز ایجنسیاں) بھارتی وزیر کھیل ایم ایس گل نے کہا ہے کہ بی سی سی آئی کے گارنٹی نہ دینے پر آئی پی ایل فرنچائز نے پاکستانی کرکٹرز نہ خریدنے کا فیصلہ کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بولی نہ لگانے کیلئے انتہاپسند ہندو تنظیموں نے بھی دھمکی دی تھی۔ ایک بھارتی اخبار کو انٹرویو میں وزیر کھیل ایم ایس گل نے کہا کہ وزارت کھیل یا حکومت کا پاکستانی کرکٹرز کی بولی نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ دراصل ٹیموں کے گارنٹی طلب کرنے پر بی سی سی آئی نے اجازت واپس لے لی تھی جس پر آئی پی ایل فرنچائز نے پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بھارتی میڈیا نے بھی پاکستانی کرکٹرز کی بولی نہ لگانے پر شدید تنقید کے ساتھ یہ خبر بھی دی ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی انتہاپسند ہندو تنظیموں شیوسینا اور ایم این ایس کی دھمکیوں کی وجہ سے بھی نہیں لگائی گئی۔ ان تنظیموں نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کی شرکت پر بھی اعتراض کیا تھا۔ ہندوستان ٹائمز نے ادارئیے میں کہا کہ آئی پی ایل کے اس فیصلے نے کرکٹ کو گہری چوٹ پہنچائی ہے۔ انڈین ایکسپریس نے اپنے ادارئیے میں لکھا کہ ماضی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باوجود کبھی ایک ملک نے دوسرے کے کرکٹ کھلاڑیوں کی تذلیل نہیں کی۔ اس فیصلے کا جو بھی ذمے دار ہو، یہ طے ہے کہ کرکٹ آئی پی ایل کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی عدم موجودگی میں بھارت کا کوئی ہاتھ نہیں۔ آئی پی ایل کمرشل ایونٹ ہے، اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ کرشنا نے کہا کہ بھارتی ویزے کے حصول سے متعلق تحفظات بے بنیاد ہیں۔ آئی پی ایل ایونٹ بھارتی حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ رحمن ملک کے بیان کے ردعمل میں کرشنا نے کہا کہ پاکستانی عہدیداروں کو بیانات دینے سے قبل حکومتی اور نجی پروگراموں کے مابین فرق کرنا چاہئے۔ کرشنا نے کہا کہ اگر پاکستان سنجیدہ ہو تو بھارت مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ وہ ممبئی واقعات کے مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسی بھی دہشت گرد حملے کیلئے تیار ہے۔ بی جے پی کے صدر نتن گڈکری نے بھی ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی کرکٹرز کا کیا قصور ہے؟ کرکٹرز انتہاپسند ہیں نہ ہی شدت پسندی کے حامی۔ پاکستان کے سبھی شہری یا پوری حکومت بھی انتہاپسندی کی حامی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کیلئے جو بھی کوششیں ممکن ہوں وہ کی جانی چاہئیں۔ تاہم پاکستان کو بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ دہشت گردی سے الگ ہونا ہو گا تبھی کوششیں کامیاب ہونگی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions