اسلام آباد (جی این آئی) پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف سیاسی رہنماﺅں اور دانشوروں نے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت مذاکرات کے ایجنڈے میں کشمیر سرفہرست ہونا چاہئے کیونکہ تنازعہ کشمیر کے حل سے ہی دیگر تمام مسائل ختم ہونگے۔ اگر بھارت کشمیر کو ایشو تسلیم نہیں کرتا تو مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں، حافظ سعید پرامن اور باعزت شہری ہیں بھارتی حکومت کی طرف سے ان کی حوالگی کا مطالبہ احمقانہ بات ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے مذاکرات کے ایجنڈے میں اس مسئلہ کو بھی شامل کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفرالحق نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کبھی آسانی سے نہیں ہوئے۔ مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی بھارتی رہنماﺅں کی طرف سے حافظ سعید کی حوالگی کا مطالبہ کرنا انتہائی احمقانہ بات ہے۔ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں بھارت کی طرف سے دہشت گردی پر بھی بات ہونی چاہئے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر ہے اور اسی کی بنیاد پر بھارت دریاﺅں پر بند باندھ کر پانی روک رہا ہے، جب تک کشمیر کو مذاکرات میں بنیادی اہمیت نہیں دی جاتی اس وقت تک مسائل حل نہیں ہونگے۔ معروف سیاسی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے واپسی کا محفوظ راستہ تلاش کر رہا ہے اور اس کےلئے پاکستان کی مدد ضروری ہے۔ سابق وفاقی وزیر اعجازالحق نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں سب سے پہلے کشمیر، پھر پانی اور اس کے بعد اس دہشت گردی کو شامل کیا جائے۔ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ پاکستان بھارت مذاکرات میں اگر کشمیر نہیں ہوگا تو پھر ان مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت سے مذاکرات صرف اسی صورت میں کئے جائیں جب وہ کشمیر کو بنیادی اہمیت دے کیونکہ خطے میں قیام امن کےلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔
Post New Comment