ٹیوٹا بل آئین اور قوانین کے منافی ہے: یونائیٹڈ ٹیچرز ایسوسی ایشن

ـ 22 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (رپورٹ: اویس قریشی) حکومت 400 سے زائد فنی تعلیمی اداروں جو کھربوں روپے کی مالیت کے ہےں ان کو کس قانون کے تحت ہزاروں ملازمین کے ساتھ صرف ایک آرڈیننس کا سہارا لیکر پرائیویٹ کمپنی کے حوالے کر رہی ہے۔ ٹیوٹا اتھارٹی بل آئین پاکستان، ریاستی قوانین سمیت اسلامی تعلیمات کے منافی و امتیازی ہے، ہزاروں ملازمین اور پنجاب بھر کے فنی تعلیم حاصل کرنے والے طلباءو طالبات بل منظور ہونے کے بعد بھاری بھر کم فیس سٹرکچر کے بوجھ تلے دب جائینگے۔ اسے یکسر مسترد کرتے ہےں ویسے بھی مذکورہ آرڈیننس ابھی پاس نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کی آئینی اور قانونی حیثیت سپریم کورٹ مےں زیر سماعت ہے۔ ان خیالات کا اظہار یونائیٹڈ ٹیچرز ایسوسی ایشن ٹیکنیکل ایجوکیشن پنجاب کے مرکزی قائدین پروفیسر محمد عارف، پروفیسر کونین نقوی، پروفیسر عبدالحق اور ہمایوں اختر نے ایوان وقت مےں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس بل کا خفیہ مقصد صرف یہ ہے کہ 411 فنی تعلیمی اداروں کو پرائیویٹائز کر دیا جائے جہاں تقریباً ایک لاکھ بچے معمولی فیس کے ساتھ فنی تعلیم حاصل کر کے ملکی و غیر ملکی افرادی قوت کی ضروریات پوری کر رہے ہےں ان کا کوئی پرسان حال نہیں رہے گا اور دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ کھربوں کی اراضی / بلڈنگ و مشینری کسی من پسند اور بااثر افراد کو کوڑیوں کے بھاﺅ مرحلہ وار فروخت کر دی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیوٹا کے حکام بل پاس کروا کر اپنی 10 سالہ کرپشن اور مایوس کن کارکردگی پر پردہ ڈالنا چاہتے ہےں۔ ٹیوٹا اتھارٹی 10سالوں مےں ملازمین کےلئے سروس رول نہیں بنا سکی جس کے نتیجے مےں محکمہ لاقانونیت کا شکار ہے اور ہر چیئرمین جو اس کا سربراہ ہوتا ہے وہ من پسند افراد کو دوسرے محکموں سے یہاں ڈیپوٹیشن پر بلواتا رہا ہے جنہوں نے 10سالوں مےں تمام چیئرمینوں کی سربراہی اور سرپرستی مےں سرعام کرپشن کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس آرڈیننس کے پاس ہونے سے ایک لاکھ طلبہ فنی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہونگے کیونکہ فیس فوری بڑھا دی جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ ہزاروں ملازمین کا معاشی قتل ہوگا اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہےں کہ اس حوالے سے ایک انکوائری کمشن مقرر کیا جائے تاکہ ٹیوٹا کو اتھارٹی کی بجائے ایک گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا درجہ دے دیا جائے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions