اعتزاز نے قانونی فیس لی‘ بابر اعوان نے عرب امارات میں رقم وصول کی : شیخ افضل

ـ 22 دسمبر ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) قومی احتساب بیورو نے بنک آف پنجاب قرضہ کیس سے متعلق انکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے جس میں شیخ افضل کا بیان بھی شامل ہے بیان میں قرضہ فراڈ کیس کے مرکزی ملزم شیخ افضل نے کہا ہے کہ اعتزاز احسن نے صرف قانونی فیس لی تھی‘ بابر اعوان سے رابطہ کرنے کا مشورہ ملک قیوم نے دیا اور کہا کہ ان کی ججوں سے قربت ہے ان سے بات کر لیں‘ بابر اعوان سے ملاقات یو اے ای میں ہوئی‘ ان کی ٹکٹ کا بندوبست ہم نے کیا‘ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لاہور ہائیکورٹ سے فیصلہ آپ کے حق میں کرا دوں گا‘ اگر نیب نے اپیل کی تو وہ بھی خارج کرا دوں گا بابر اعوان نے ساڑھے تین کروڑ روپیہ لیا ملک قیوم کو ساڑھے تین کروڑ ادا کیا‘ شریف الدین پیرزادہ سے فون پر رابطہ ہوا‘ انہوں نے کہا کہ مقدمہ سپریم کورٹ منتقل کرانا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے حق میں فیصلہ کرا سکوں جولائی 2008ءمیں مقدمہ سپریم کورٹ منتقل ہو گیا شریف الدین پیرزادہ نے یقین دلایا کہ ان کا ججوں سے مسلسل رابطہ ہے انہوں نے بھی ساڑھے تین کروڑ لیا‘ وسیم سجاد کے بیٹے علی وسیم نے مجھ سے کہا کہ انصاف کے لئے کچھ اور بھی کرنا پڑتا ہے لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج کا داماد میرا دوست ہے مگر کچھ پیسہ لگے گا اس نے ایک کروڑ کا مطالبہ کیا بعدازاں 70 لاکھ 50 ہزار پر بات طے ہوئی‘ شیخ افضل کے مطابق شریف الدین پیرزادہ کے اسسٹنٹ رانا وقار نے لطیف کھوسہ سے معاملات طے کرنے کا مشورہ دیا اور 15 لاکھ میں معاملات طے کروائے‘ شیخ افضل کے مطابق بابر اعوان نے 35 ملین لےکر ڈیل کی جبکہ شاپنگ کے لئے الگ مطالبہ کیا جس پر انہیں 50 ہزار درہم مزید ادا کئے گئے جس سے انہوں نے دبئی کے شاپنگ سینٹروں سے شاپنگ کی‘ مگر خرچہ 65 ہزار درہم کر دیئے جس پر 15 ہزار درہم مزید دینے پڑے‘ سرفراز مرچنٹ سے معاہدہ میں ملک قیوم ضامن تھے کہ فیصلہ آپ کے حق میں کرائیں گے‘ سرفراز مرچنٹ نے معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا‘ رقم واپس مانگی اس نے چیک دئیے جو با¶نس ہو گئے‘ شیخ افضل کے مطابق ملک قیوم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ سرفراز مرچنٹ کے سپریم کورٹ کے ایک جج سے قریبی رابطہ ہے 15 روز میں مقدمہ ختم کرا دے گا جس نے دو کروڑ اپنے لئے وصول کئے بعدازاں 15 لاکھ سفری اخراجات کی مد میں لئے‘ شیخ افضل کے مطابق سرفراز مرچنٹ کے با¶نس چیک اب نیب کے پاس ہیں نیب کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق سابق چیف کمشنر اسلام آباد شیخ افضل کو فرار ہونے میں مدد دینے کے اپنے پہلے بیان میں منحرف ہو گیا ہے‘ شیخ افضل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ جس وکیل کے پاس جاتا وہ اپنے پیسے لے کر کسی اور وکیل سے مشورہ کرنے کا بھی کہہ دیتا‘ سب سے پہلے عرفان قادر نے فیس لی مگر سینئر وکلا سے مشورہ کرنے کی تجویز پیش کر دی اور کہا کہ ممتاز وکلا سے رابطہ کرو جو عدالت پر اثر رکھتے ہوں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions