شہداد کوٹ میں ریلا داخل‘ راوی کنارے 168 دیہات خالی کرنے کا حکم‘ راجن پور میں بند توڑنے سے 100 بستیاں ڈوب گئیں

ـ 22 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور + شہداد کوٹ + مظفرگڑھ (نیوز رپورٹر + نیشن رپورٹ + ایجنسیاں + نمائندگان) بھارت کی طرف سے بغیر پیشگی اطلاع 18 ہزار کیوسک اضافی پانی دریائے راوی میں چھوڑنے اور شمالی پنجاب میں ہونے والی بارشوں کے باعث دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح بڑھ کر 33 ہزار کیوسک ہو گئی ہے‘ نارووال اور شکرگڑھ کے 5 نالوں میں فلڈ وارننگ کے بعد نارووال اور سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کو ریڈ الرٹ کر کے دریائے راوی کے کنارے 168 دیہات کو خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ نالوں میں طغیانی سے نارووال کے 50 دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ ادھر شہداد کوٹ کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے ریلا شہر میں داخل ہو گیا‘ سندھ کے مزید 800 دیہات زیر آب آ گئے ہیں‘ راجن پور میں ساہنا والا کا حفاظتی بند توڑ دیا گیا جس سے 100 دیہات میں پانی داخل ہو گیا‘ جس پر متاثرین نے احتجاج کیا۔ بلوچستان کی تحصیل گنداخہ اور ڈیرہ الٰہ یار میں نیا ریلا آنے سے دونوں شہروں میں شدید تباہی ہوئی ہے۔ ڈیرہ الٰہ یار 17 فٹ تک پانی میں ڈوب گیا۔ رحیم یار خان میں قومی شاہراہ کو بچانے کے لئے حفاظتی بند توڑ دیا گیا‘ بارشوں سے چھتیں گرنے اور سیلاب سے گوجرانوالہ‘ شکرگڑھ‘ منڈی احمد آباد‘ سندھ اور بلوچستان میں بچے سمیت 7 افراد جاںبحق ہو گئے‘ گیسٹرو سے تین دم توڑ گئے۔ نیوز رپورٹر کے مطابق شمالی پنجاب میں بارشوں کی وجہ سے دریائے راوی میں پانی کی سطح اور بہاو میں مسلسل اضافہ ہ و رہا ہے جس کی وجہ سے شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح تقریباً 33 ہزار کیوسک ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں پانی کا بہاو معمول کے مطابق ہی ہے اگر شمالی پنجاب میں بارشوں میں اضافہ ہوا تو پانی کے بہاو میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے دریائے راوی میں سیلاب آنے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ نیشن رپورٹ کے مطابق بھارت نے پیشگی اطلاع کے بغیر راوی میں 18 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جس کے باعث برساتی نالوں میں فلڈ وارننگ جاری کی گئی ہے۔ آن لائن کے مطابق دریائے راوی میں بھارت کی جانب سے چھوڑے ہوئے پانی میں بتدریج اضافہ ہوا رہا ہے جس سے سیلابی صورتحال بن گئی ہے‘ جس پر ریسکیو 1122 سمیت دیگر امدادی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے‘ سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے لاہور مرکز کے مطابق ہفتہ کی شام کے وقت دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب تھا۔ لاہور میں سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے سینٹر کے حکام نے شکرگڑھ کے قریب گذرنے والے بئیں نالے میں ہفتے کی سہ پہر تین بجے تک ہائی فلڈ کی وارننگ دی‘ اس کے علاوہ چار دیگر برساتی نالوں بسنتر‘ جھجری‘ اوجھ اور کھتر میں بھی سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق دریائے راوی پر بھارت کے تھین ڈیم اور پاکستانی سرحد کے درمیانی علاقے میں شدید بارش کے باعث جسڑ اور شاہدرہ کے مقام پر اٹھارہ ہزار کیوسک پانی پہنچا ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر ستر ہزار کیوسک سے زائد پانی کی آمد خطرناک ہو گی جس کا فی الحال امکان نہیں۔ نارووال سے نامہ نگار مطابق دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے‘ حکام نے دریا کے کنارے بسنے والے 168 دیہات کے تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار مکینوں کو ریڈ الرٹ کر دیا ہے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق نواچی گاوں سوہدرہ کے علاقہ بیلہ پتوکی میں سیف اللہ اپنے مویشی چرا رہا تھا کہ اسی دوران وہ پانی کے ریلے میں بہہ گیا۔ منڈی احمد آباد سے نامہ نگار کے مطابق بارش کے دوران چھت گرنے سے ایک شہری عطا ڈوگر کی اہلیہ جاں بحق ہو گئی۔ ضلع لیہ سے متاثرہ افراد بہت بڑی تعداد میں ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے واپس اپنے نشیبی علاقوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ادھر ٹھٹھہ میں مینارکی بند کے قریب بھی کئی علاقے ڈوب گئے۔ شہداد کوٹ شہر کو بچانے کیلئے بنایا گیا عارضی حفاظتی بند ٹوٹ گیا جس کے بعد پانی شہر میں داخل ہو گیا۔ عارضی بند میں 20 فٹ کا شگاف پڑنے سے پانی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس سے لاڑکانہ، نصیر آباد، میہڑ قنبر، رتو ڈیرو، گڑھی خدا بخش اور دادو کو خطرات لاحق ہوگئے۔ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ شہداد کوٹ کی 90 فیصد آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔ ضلع بینظیر آباد میں 10 لاکھ 20 ہزار کیوسک کا دوسرا بڑا سیلابی ریلہ داخل ہو گیا ہے۔ مظفر گڑھ کے قریب بنڈہ اسحاق، فیض پور، مکھن بیلا اور چوک نذیر والا سمیت مزید کئی دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق سیہون میں دریائے سندھ پر کوئی حفاظتی بند نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی دور دور تک پھیل گیا ہے۔ ضلع مٹیاری کے حفاظتی بند پر سیلاب کا دباﺅ ہے اور وہاں بیس کے قریب دیہات زیرآب آگئے ہیں روجھان شہر سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ا ور شہر کے اندر اکثر بند مارکیٹیں دوبارہ کھلنا شروع ہو گئیں۔ دریائے سندھ کوٹری کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے‘ سیلابی پانی کے سبب لطیف آباد کچے کے علاقے میں 10 کے قریب گوٹھ زیر آب آ گئے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ریڈیو نیوز کے مطابق ہنگورجہ میں گذشتہ دس روز سے خوراک اور ادویات نہ ملنے پر 17 افراد جاںبحق ہو گئے۔ جی این آئی کے مطابق شہداد کوٹ کو بچانے کے لئے بنایا گیا عارضی بند پر پڑنے والے شگاف کو پر کر لیا گیا ہے۔ سن کے قریب کشتی الٹنے سے تین خواتین ڈوب کر جاں بحق ہو گئیں۔ سکھر میں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران بھگدڑ سے خاتون جاں بحق ہو گئی۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق صوبائی مشیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ سندھ کے 19 اضلاع سیلاب کی وجہ سے آفت زدہ قرار دے دئیے گئے ہیں‘ ان اضلاع میں سرکاری ٹیکسز کی وصولی روک دی گئی ہے۔ راجن پور کے علاقے ساہن والا میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی میں پھنسے متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ ایم این اے میر دوست مزاری اور ایم پی اے سردار امان اللہ دریشک کے ایما پر ضلعی انتظامیہ نے بند توڑ کر ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا ہے‘ لوگ آدھے گھنٹے کے نوٹس پر اپنا کوئی سامان نہ بچا سکے‘ وزیر اعلیٰ تحقیقات کرائیں۔ جی این آئی کے مطابق وزیر تعلیم آصف احمد علی نے کہا ہے کہ بھارت نے غلط اعداد و شمار دے کر ستلج میں آٹھ گنا زیادہ پانی چھوڑ دیا‘ قصور کے نواحی علاقوں میں فصلیں اور بستیاں زیر آب آ گئیں۔ آصف احمد علی نے قصور میں سرحدی علاقے کے دورے کے دوران الزام لگایا کہ بھارت نے ہفتے کی صبح دریائے ستلج پر اپنے باکھرا ڈیم کے آٹھ گیٹ کھول دئیے اور اطلاع دی کہ وہ پاکستان کی طرف آٹھ ہزار کیوسک پانی چھوڑ رہا ہے لیکن فیروزپور ہیڈ ورکس سے نیچے اس وقت ساٹھ ہزار کیوسک پانی پہنچ گیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions