لاہور (خبرنگار خصوصی+خبرنگار) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سابقہ دور میں لاہور رنگ روڈ کے اہم منصوبے پر پراپرٹی کا کاروبار کیا گیا اور اس منصوبے کا نقشہ تبدیل کرکے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ اصل الاٹمنٹ برقرار رہتی تو اربوں روپے بچائے جا سکتے تھے۔ وہ گذشتہ روز بجٹ سیشن کے دوران پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے اس منصوبے کی مشرقی الاٹمنٹ تبدیل کرتے ہوئے اسے شہر کے اندر سے گزارا۔ آج جنوبی پنجاب کو کم حصہ ملنے اور لاہور کو زیادہ حصہ دینے کی بات ہورہی ہے مگر حقائق یہ ہیں کہ سابقہ حکومت کے دور میں حکمرانوں نے رنگ روڈ کی ہماری تیار کی گئی مشرقی حصے کی الاٹمنٹ تبدیل کردی۔ رنگ روڈ شہر کے گرد تعمیر ہوتی ہیں نہ کہ رنگ روڈ کو پہلے سے بسے بسائے شہر کے اندر سے گزارا جائے، مگر یہاں رنگ روڈ کی الاٹمنٹ تبدیل کرکے اسے فیروزپور روڈ پر لے آیا گیا اور زمینوں کی قیمتوں میں اضافہ کرکے زمینوں کا کاروبار کیا گیا۔ علاوہ ازیں اسمبلی چیمبرز مےں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ حکومت صوبے مےں غریب اور کم وسیلہ افراد کےلئے کم لاگت ہاﺅسنگ سکیم شروع کر رہی ہے جس کے تحت انہیں کم لاگت والے تیار شدہ بہترین گھر تعمیر کر کے دیئے جائینگے صوبے سے غربت، جہالت اور بےروزگاری کا خاتمہ ہماری اہم ترین ترجیحات ہےں اور اس مقصد کےلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہےں، زراعت کے شعبہ کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کےلئے جامع حکمت عملی اپنائی ہے اور زرعی وویٹرنری گریجویٹس کو 25ایکڑ فی کس کے حساب سے سرکاری زمین 15سال کی لیز پر دی جائے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ صوبے کی تیزرفتار ترقی اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیںاور آئندہ مالی سال کیلئے 193 ارب 50 کروڑ روپے کا ریکارڈ ترقیاتی پروگرام تشکیل دیا گیا ہے۔ ملک کی 51 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور انہیں ترقی کے عمل میں شامل کئے بغیر ترقی کے اہداف حاصل نہیں کئے جاسکتے۔ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف شعبوں میں 15 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ غریب محنت کش اور کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد کیلئے سستی روٹی سکیم، صوبے کے دوردراز و پسماندہ علاقوں میں دانش سکولوں کا قیام اور مالی مشکلات سے دوچار ہونہار طلبہ و طالبات کیلئے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ سے وظائف کا اجراءایسے فلاحی منصوبے ہیں جن سے صوبے کے لاکھوں غریب خاندان مستفید ہورہے ہیں۔ غریب اور کم وسیلہ افراد کیلئے کم لاگت ہاﺅسنگ سکیم کیلئے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی تشکیل دی جاچکی ہے جس نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں تقریباً دو لاکھ غریب گھرانوں کو 5 مرلہ فی خاندان اراضی کی مفت فراہمی کی سکیم بھی شروع کی جا رہی ہے۔ صنعتی و زرعی ترقی میں ہنرمند افرادی قوت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اس لئے حکومت نے نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنے والے ادارے ٹیوٹا کو فعال بنایا ہے اور اسے ہر سال مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پانچ لاکھ ہنرمند تیار کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ فنی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر حکومت نے 50 کروڑ روپے کے ابتدائی سرمایہ سے سکل ڈویلپمنٹ انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ جنوبی پنجاب کی کل آبادی صوبے کی کل آبادی کا 31 فیصد ہے جبکہ اس علاقے کی ترقی کیلئے مختص کئے جانیوالے فنڈز کی شرح 36 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں خواتین کیلئے بھی ٹیکنیکل ووکیشنل انسٹیٹیوٹس قائم کئے جائینگے جہاں انہیں جدید علوم میں تربیت دی جائیگی۔ آن لائن کے مطابق شہبازشریف نے کہاکہ جنوبی پنجاب کو ایشو بنانے والوں کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، سابقہ حکومت نے رنگ روڈ کے نقشے کو تبدیل کرکے لینڈ مافیا کو فائدہ پہنچایا۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے جنوبی چین میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ چینی قیادت کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ ہماری ہمدردیاں جنوبی چین میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسی قدرتی آفت کا بہادری سے مقابلہ کرنے ولے چینی عوام کے ساتھ ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ ممبر صوبائی اسمبلی و پولیٹیکل اسسٹنٹ شیر علی گورچانی کے بھائی حنان خان گورچانی کی وفات پر اظہار افسوس کے لئے ان کی رہائش گاہ لال گڑھ ضلع راجن پور گئے۔ سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ، صوبائی وزیر دوست محمد خان کھوسہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی۔
Post New Comment