اسلام آباد (ریڈیو نیوز+ نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ القاعدہ رہنما اُسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ ملاقات میں اُسامہ کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ امریکہ کے پاس اُسامہ کے بارے میں معلومات ہیں تو پاکستان کو فراہم کرے۔ پاک افغان تجارتی راہداری کے حوالے سے بھارت کو کوئی سہولت نہیں دی جائے گی، اس بارے میں صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت ہوئی ہے کشمیریو ںکی اخلاقی سیاسی ، سفارتی حمایت سے کبھی دستبردار ہوئے ہیں نہ اس کا تصور کر سکتے ہیں۔ آرمی چیف کی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع یا فوج میں دیگر کسی اعلیٰ عہدے کی بحالی کے بارے میں مناسب وقت پر مناسب فیصلہ قوم کے سامنے آ جائے گا، عوامی ایشوز کے حوالے سے چیف جسٹس اور وزیراعظم ہی دو ایسی شخصیات ہیں جو ان کا از خود نوٹس لے رہی ہیں اور ان کے حل کو حقیقی بنایا جا رہا ہے، ملکی خبر رساں اداروں کے مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاکستان نیوز ایجنسیز کونسل کے نو منتخب عہدیداروں کے اعزاز میں دئےے گئے ظہرانے کے موقع پر مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ وفد میں صدر محسن بیگ ، جنرل سیکرٹری شکیل احمد ترابی ، نائب صدر رانا طاہر محمود ، ایگزیکٹو کونسل کے اراکین اسلم خان ، عبدالقیوم فاروقی ، طارق سمیر شامل تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان تجارتی راہداری سے متعلق ابھی صرف بات چیت ہوئی ہے۔ دو طرفہ تجارت کے حوالے سے بھار ت کو کوئی رعایت نہیں دے رہے، ابھی صرف پاک افغان وزراءتجارت کے درمیان بات چیت میں اس راہداری سے متعلق مفاہمت ہوئی ہے، معاہدے کے حوالے سے قوم کے احساسات ،جذبات کے منافی کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے، بھارت مسئلہ کشمیر پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ وزیراعظم نے کہاکہ عدلیہ کو میں نے خود بحال کیا جب وزیراعظم کا حلف بھی نہیں لیا تھا تو آصف زرداری کو تقریر سے پہلے بتا دیا تھا کہ آج میں ایوان میں چھکا لگاﺅں گا، کیچ آﺅٹ بھی ہو سکتا ہوں اور ہم نے چھکا لگاکر ججز کو رہا کرنے کا حکم دیا اور اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے حکم کے مطابق ججز کے گھروں پر قومی پرچم لہرا دیا۔ انہوں نے کہاکہ قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ میرے خاندان کا گہرا تعلق ہے اور تحریک پاکستان میں میرے خاندان نے نمایاں کردار اد اکیا۔ گیلانی خاندان کے دو افراد کو قائداعظم نے مسلم لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن بنایا تھا۔ ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت سے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، فرقہ واریت کو ہوا دینے کی مذموم کوششوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ مغربی سکالر اور میڈیا مسلمانوں کو انتہاپسند اور دہشت گرد قرار دیتا ہے اسلام کا اصل تشخص اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے نیوز ایجنسیز کونسل عہدیداروں سے مزید کہاکہ پرویز مشرف کی سیاست کا باب بند ہو چکا ہے، مگر ہم نے سیاست میں ابھی کئی اور انگز کھیلنی ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ صحافی اس ملک کے سب سے بڑے سیاستدان ہیں۔ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر مڈٹرم انتخابات ہرگز نہیں ہونگے، جو نشست خالی ہو گی اس پر ضمنی انتخابات کرا لئے جائیں گے۔ لطیف کھوسہ بدستور وزیراعظم کے مشیر ہیں تاہم وزارت کا چارج ہمیشہ وزیر کی غیرموجودگی میں وزیراعظم کے پاس ہوتا ہے۔ دریں اثناءوزیراعظم نے کہا حکومت پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان امریکہ سٹریٹجک مذاکرات سمیت تمام معاملات پر اتحادیوں کو اعتماد میں لے گی، یہ بات انہوں نے فاروق ستار سے ملاقات کے دوران کہی۔
Post New Comment